اجے کمار 
جے پور میں کانگریس کا ’چنتن شیور‘ بھارتیہ جنتا پارٹی کی لکھنؤ میں ہونے والی ’اٹل شنکھناد ریلی‘ کے لیے ’رام بان ‘ کا کام کر گیا۔ وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بی جے پی اور سنگھ پر نشانہ لگاتے ہوئے جیسے ہی بھگوا دہشت گردی کا مدعا اٹھایا، لکھنؤ میں جمع ہوئے بی جے پی کے لیڈروں نے اسے فوراً لپک لیا۔ ’اٹل شنکھناد ریلی‘کا اہتمام ہوا تو تھا کلیان سنگھ کی بی جے پی میں واپسی کے موقع کو یادگار بنانے اور اپنی طاقت دکھانے کے لیے، لیکن بی جے پی کے نشانے پر کانگریس رہی۔ نتن گڈکری سمیت اسٹیج پر موجود سبھی لیڈروں کے نشانے پر مرکزی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے، وزیر اعظم منموہن سنگھ کے علاوہ کانگریس کی صدر سونیا گاندھی رہیں۔ بی جے پی کے قد آور لیڈروں نے ایک سُر میں کانگریس کو خوب کھری کھوٹی سنائی۔ ریلی میںتوقع سے زیادہ بھیڑ آنے سے پُر جوش مقررین نے سنگھ پر دہشت گردی کے الزام کو ملک کی بے عزتی قرار دیا اور وزیر داخلہ شندے کو برخاست کرنے کے مطالبہ کے علاوہ مرکز اور صوبے کی سماجوادی سرکار پر پاکستانی دہشت گردی کے آگے گھٹنے ٹیکنے کا بھی الزام لگایا۔ ریلی کی کامیابی پر اگر کہیں داغ لگا تو وہ تھاپروموشن میں ریزرویشن کی مخالفت کرنے والوں کا نتن گڈکری کو کالے جھنڈے دکھانا۔ حالانکہ یہ مخالفت ریلی کے مقام سے دور اموسی ہوائی اڈے کے باہر ہوئی تھی، لیکن گڈکری نے اس مدعے کو ریلی میں اپنی تقریر کے دوران کیش کرانے کی پوری کوشش کی۔ اٹل شنکھناد ریلی میں ورن گاندھی اور یوگی آدتیہ ناتھ کو چھوڑ کر، صوبے کے تقریباً سبھی اہم بڑے لیڈرموجود تھے۔ ان دونوں لیڈروں نے آنے کے لیے حامی بھری تھی، لیکن وہ آنہیں پائے۔ ویسے تو بی جے پی کے سابق ریاستی صدر کیسری ناتھ ترپاٹھی اور اوم پرکاش سنگھ بھی نہیں آئے، لیکن انھوں نے ریلی میں نہ آنے کی اپنی مجبوری پہلے ہی ظاہر کر دی تھی۔

اسٹیج پر موجود لیڈروں کے استقبال کے لیے ایک بھاری مالا تیار کی گئی تھی۔ رام نارائن ساہو، راجیو مشرا، وجے پاٹھک، منیش دیکشت وغیرہ لیڈران، جب نتن گڈکری، کلیان سنگھ، مرلی منوہر جوشی اور راجناتھ سنگھ کو مالا پہنانے لگے تو اس میں اتنے لیڈروں نے سر ڈال دیا کہ مالا ہی ٹوٹ گئی۔

بہر حال، اتر پر دیش میں سیاسی زمین تلاش کر رہی بی جے پی کے لیے 21 جنوری کی’ اٹل شنکھناد ریلی‘ کافی اہم رہی اور کئی اشارے بھی دے گئی۔ اہم اس لیے رہی کہ بی جے پی کے کمزور سمجھے جانے والے صوبائی صدر لکشمی کانت واجپئی نے اپنی حکمت عملی کی مہارت سے ریلی کو کامیاب بنادیا۔ گزشتہ کافی عرصے سے بی جے پی صوبے میں کوئی کامیاب پروگرام نہیں کر پائی تھی، یہی وجہ تھی کہ ریلی کی کامیابی سے لیڈران خوشی سے پھولے نہ سمائے۔ لہٰذا اس کا کریڈٹ بی جے پی کے صوبائی صدر لکشمی کانت کو ہی گیا۔ بھیڑ جمع کرنے کے لیے ان کا ضلع صدور کا انتخاب کا فارمولہ کامیاب رہا، تو علاقے اور صوبے کی کمیٹی کا اعلان نہ کیا جانا بھی مفید ثابت ہوا۔ ووٹ کے ذریعے چنے گئے ضلع صدور نے ریلی کو کامیاب بنانے کے لیے طاقت لگائی، تو اضلاع میں عہدہ پانے کے خواہش مند لیڈروں نے بھی ریلی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ صوبے کے سبھی اضلاع سے کافی تعداد میں کارکن شریک ہوئے۔ ریلی میں خواتین کی بڑی تعداد دیکھ کر بی جے پی والے بہت خوش دکھائی دیے۔ بی جے پی کی علاقائی اور صوبائی ٹیم میںجگہ پانے کے دعویدار بھی جوش و خروش کے ساتھ موجودتھے۔ عہدیدار بننے کے خواہش مند لیڈروں نے تو طاقت دکھائی ہی، رہی سہی کسر لوک سبھا کا ٹکٹ چاہنے والوں نے پوری کر دی۔ ٹکٹ کے دعویدار اپنا نام بڑے لیڈروں کی ’گڈ لسٹ ‘ میں شامل کرانے کے لیے بے چین دکھائی دیے۔ اٹل شنکھنادریلی میں ’اندھیارے میں ایک چنگاری، اٹل بہاری اٹل بہاری ‘ کے نعرے سے نوجوانوں پربھی ڈورے ڈالے گئے۔ لوک سبھا چناؤ 2014 کو دھیان میں رکھتے ہو ئے نوجوانوں کے جوش کو جگانے کی کوشش کی گئی۔ بی جے پی کے سابق صدر ڈاکٹر مرلی منوہر جوشی ہوں یا پھر سابق صدر نتن گڈکری، سبھی نے نوجوانوں کو مرکز میں بی جے پی کا پرچم لہرانے کے لیے جُٹ جانے کی امنگ بھری۔ اس موقع پر کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے نوجوان مخالف چہرے کو بھی اجاگر کیا گیا۔ مرلی منوہر جوشی نوجوان جوش کو جگانے میں سب سے آگے تھے۔ بی جے پی کے لیڈروں میں کانگریس سے کچھ زیادہ ہی تلخی تھی۔ اوما بھارتی اور راجناتھ سنگھ نے کانگریس پر دہشت گردی کو پناہ دینے کا الزام لگایا تو گڈکری نے کانگریس کے کچھ لیڈروں پر پاکستانی دہشت گرد اور ممبئی حملے کے ماسٹر مائنڈ حافظ سعید سے ملے ہونے کا خدشہ ظاہر کیا۔
ریلی سے ملے اشاروں کے بارے میں بات کی جائے تو لگتا ہے کہ صوبے میں لگاتار ملی شکست نے بی جے پی کے بڑے لیڈروں کو سبق سکھا دیا ہے۔ سماجوادی پارٹی کے ہاتھ میں اتر پردیش کا اقتدار جاتے ہی صوبائی بی جے پی کو اپنی جاگیر سمجھنے والے لیڈروں کے حوصلے پست پڑگئے۔ جس طرح سے کلیان کی واپسی کے موقع پر سبھی لیڈروں نے اتحاد دکھایا، وہ بی جے پی کے مستقبل کے لیے سنجیونی ثابت ہوسکتا ہے۔ بی جے پی لیڈر راجناتھ سنگھ، مرلی منوہر جوشی، سادھوی اوما بھارتی، مختار عباس نقوی، کلراج مشرا، لال جی ٹنڈن، ونے کٹیار وغیرہ تمام لیڈروں نے بلا امتیاز کلیان سنگھ کی واپسی کا خیر مقدم کیا۔ کلیان سنگھ، اٹل شنکھناد ریلی کے ہیرو تھے، اس لیے ان کی تقریر کو سننے کا اشتیاق بھیڑ میں کچھ زیادہ ہی دکھائی دیا۔ کلیان بھی موقع کی نزاکت کو بھانپ کر بولے اور خوب بولے۔ کلیان کی محض موجودگی سے ہی ہندوتوا کا طوفان ہلورے مارنے لگا تھا۔ لوک سبھا کی رکنیت بچانے کے لیے کلیان نے، بی جے پی میں واپسی کے اعلان سے بھلے ہی گریز کیا، لیکن بھرائے ہوئے گلے سے بی جے پی کے پرچم میں لپٹ کر آخری رسوم ادا کرانے کی خواہش ظاہر کر کے وہ اپنا درد بیان کر گئے۔ اپنی جن کرانتی پارٹی میں ضم ہونے کے گواہ بنتے ہوئے کلیان نے کارکنوں کوملک کے سامنے کھڑے بحران سے روبرو کرتے ہوئے ان سے لمبی لڑائی کو تیار رہنے کے لیے کہا۔ واپسی کے ساتھ ہی کلیان نے پارٹی کے لیڈروں اور کارکنوں کے سامنے گائڈ لائن بھی رکھی۔ انھوں نے کہا کہ کارکن گاؤں گاؤں ماحول بنائیں اور لیڈرہفتے میں ایک دن گاؤں میں رات گزاریں۔
سابق وزیر اعلیٰ اور کبھی کلیان کے مخالف مانے جانے والے راجناتھ سنگھ بھی گلے شکوے بھول کر کلیان کے قصیدے پڑھتے دکھائی دیے۔ راجناتھ سنگھ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ کلیان سنگھ ان سے بہتر وزیر اعلیٰ تھے۔ اٹل شنکھناد ریلی کے ذریعے کلیان کی واپسی کو راجناتھ نے اتر پردیش کی سیاست اور لوک سبھا چناؤ 2014 کے لیے’ ٹرننگ ریلی ‘قرار دیا۔ بی جے پی کے سابق قومی صدرنتن گڈکری لکھنؤ ہوائی اڈے پر پروموشن میں ریزرویشن کی مخالفت کرنے والے ملازمین کے کالے جھنڈے دکھانے سے کافی افسردہ تھے۔ انھوں نے اپنے خطاب میں پروموشن میں ریزرویشن کی مخالفت کرنے والے ملازمین کو یقین دلایا کہ ایئر پورٹ پر مظاہرہ کرنے والے ملازمین نہیں، بلکہ ملازمین کابینر لے کر پہنچے سماجوادی کے کارکن تھے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ ہندوؤں کو بانٹنے کی زہریلی کوشش کی جا رہی ہے۔ ملائم سنگھ و کانگریس کی طرح مایا وتی بھی عناد کی سیاست کررہی ہیں۔ مجموعی طور پراٹل شنکھناد ریلی سے صاف ہو گیا ہے کہ بی جے پی لوک سبھا چناؤ میں اتر پردیش میںاپنی کھوئی ہوئی عوامی مقبولیت واپس حاصل کرنے کے لیے اٹل کے نام اور کام اور ہندوتوا کی شان کو ہی اپنا سیاسی مدعا بنائے گی۔ اسٹیج پر بھگوان کرشن کی مہابھارت کی لڑائی میں پانچ جنیہ شنکھ کی تصویر تھی، تو ایک لمبے عرصے کے بعد لیڈران اپنی تقریر میں ’جے شری رام ‘کا نعرہ لگا رہے تھے۔ بی جے پی لیڈر ونے کٹیار نے اپنی بات مختصر طور پر رکھی، لیکن اشاروں اشاروںمیں انھوں نے لیڈروں کو نصیحت بھی کردی۔ ونے کٹیار نے اپنی بات ’جے شری رام ‘ کے نعرے کے ساتھ شروع کی اور رام پر ہی بولے۔ انھوں نے کہا کہ رام کے نام یعنی ہندوتوا کی راہ پر چلے بغیر بی جے پی کا کلیان نہیں ہو سکتا۔ وہ بولے ’صرف جے شری رام کہتے ہوئے گھوم جائیے، کلیان ہو جائے گا۔‘ اومابھارتی بھگواخیمے کی لیڈر مانی جاتی ہیں، لیکن ان کے علاوہ بھی اسٹیج پر موجود سبھی لیڈر ہندوتوا کو دھار دیتے ہوئے نظر آئے۔
ریلی نے جو سب سے بڑا سوال کھڑا کیا، وہ یہ تھا کہ کیا آج بھی صوبے کی بی جے پی اٹل جی کی شخصیت کے سہارے ہی چلنے کو مجبور ہے؟ اس کے پاس کوئی بھی ایسا چہرہ نہیں ہے، جو صوبے میں بی جے پی کی ڈوبتی نیّا کو پار لگا سکے؟ کبھی بے جے پی کا چہرہ مہرہ رہے اٹل بہاری واجپئی ’اٹل شنکھناد ‘ ریلی میں راست طور پر موجود نہیں تھے، لیکن بالواسطہ طور پر بینر اور پوسٹروں میں سب سے زیادہ چھائے رہے۔ لیڈران، ان کے نام کی ستائش کرتے ہوئے لوک سبھا کے چناؤ کے لیے اتر پردیش میں زمین تیار کرنے کی کوشش کرتے دکھائی دیے۔ ایسے میں کلیان بی جے پی کی مجبوری ہیں۔ کلیان کا ڈنکا اس وقت بھی صوبے میں بولتا تھا، جب اٹل جی کایہاں دبدبہ تھا۔ کلیان ایسے لیڈروں میں شمار کیے جاتے تھے ، جو اٹل جی کو بھی چیلنج دینے کی طاقت رکھتے تھے۔ بھلے ہی یہ باتیں پرانی ہو گئی ہوں اور آج کلیان پوری عقیدت کے ساتھ اٹل جی کو یاد کرتے ہیں، لیکن تاریخ کو کبھی فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے۔ یہ دوسرا موقع ہے جب کلیان بغاو ت کرنے کے بعد پارٹی میں آئے ہیں۔ کلیان 2014 میں ہونے والے انتخاب کے لیے منعقد ہونے والے مختلف پروگرا موں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں گے۔ بی جے پی نے جہاں اتر پردیش میںودھان سبھا چناؤ سادھوی اوما بھارتی کے سہارے لڑا تھا، وہیں لوک سبھا چناؤ بی جے پی کے بزرگ لیڈر کلیان سنگھ کی سرپرستی میں لڑے گی۔ اوما بھارتی اور کلیان سنگھ کی بات کی جائے تو دونوں لیڈروں کے بیچ بے حد قریبی رشتے ہیں۔ اوما بھارتی تو کلیان کو باپ کے برابر مانتی ہیں۔ کلیان کی واپسی میں اوما کے تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اٹل شنکھناد ریلی کے اسٹیج پر اوما بھارتی نے اپنے آپ کو کلیان سنگھ کی وارث بتاکر کلیان کے ساتھ اپنی قربت دکھا نے کی کوشش کی۔ کلیان سنگھ پہلی بار اٹل بہاری واجپئی سے اختلاف ہونے اوردوسری بار لوک سبھا چناؤ کے وقت ٹکٹ بٹوارے سے ناراض ہو کر ٹھیک لوک سبھا چناؤ سے پہلے پارٹی چھوڑ کر چلے گئے تھے، لیکن دونوں ہی بار باہر رہ کر وہ کوئی خاص کرشمہ نہیں دکھا پائے۔ یہ اور بات تھی کہ باہر رہتے ہوئے وہ بی جے پی کو نیست و نابود کرنے کی قسم ضرور کھاتے رہے۔
کلیان کی واپسی سے اعلیٰ کمان بہت خوش نظر آرہی ہے، لیکن عام کارکن کی بات کی جائے تو اسے کلیان کی واپسی سے کسی چمتکار کی امید نہیں ہے۔ یہاں تک کہاجارہا ہے کہ کلیان بی جے پی کا نہیں، اپنا بھلا کرنے کے لیے آئے ہیں۔ انھیں اپنے بیٹے اوربہو کی سیاسی جڑیں مضبوط کرنے کی فکر کھائے جا رہی تھی اوربیٹے اور بہو کی سیاست تبھی پروان چڑھ سکتی تھی، جب وہ بی جے پی میں رہتے۔ کلیان کی واپسی کو لے کر اپوزیشن زیادہ فکر مند نہیں ہے، لیکن سماجوادی پارٹی کے لیڈر اور ریاستی وزیر، اعظم خان صاحب کلیان کی بی جے پی میں واپسی کو ہضم نہیں کر پائے۔ انھوںنے کلیان پر حملہ کرنے کے لیے سنگین ہی نہیں گھٹیا درجے کے الزام بھی یہ کہتے ہوئے جڑ دیے کہ وہ نالی کے کیڑے ہیںاور جس گندگی سے آئے تھے، اسی میں واپس چلے گئے۔ دھیان رہے کہ کلیان اور اعظم خان کے بیچ ہمیشہ سے 36 کا آنکڑا رہا ہے۔ کلیان نے ایک دور میں سماجوادی پارٹی کے سپریمو ملائم سنگھ یادو سے اپنی قربت بنائی تھی، تو اعظم خان نے یہ کہتے ہوئے سماجوادی کو چھوڑ دیا تھا کہ بابری مسجد کا انہدام کرنے والے کے ساتھ وہ نہیں رہ سکتے ہیں۔ کلیان کو ملائم کے قریب لانے میں امر سنگھ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ بات اعظم کو معلوم تھی، اسی لیے وہ تب تک سماجوادی پارٹی کے قریب نہیں بھٹکے، جب تک کلیان سنگھ سے ملائم نے دوری نہیں بنالی اور امر کو پا رٹی سے باہر کا راستہ دکھا دیا گیا۔ ملائم سنگھ کو تو کلیان سنگھ سے قربت بڑھانا اتنا مہنگا پڑا کہ انھیں مسلمانوں سے معافی تک مانگنی پڑی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here