سامعہ جمال
وہ پیسہ ، سامان یا زیور جو ایک عورت شادی کے بعد اپنے شوہر کے گھر لاتی ہے، جہیز کہلاتا ہے۔ جہیز جنوبی ایشیا میں ایک عام بات سی ہے۔ جہیز دینے اور لینے کے پیچھے چند وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ تو یہ کہ ایک آدمی کو اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کے لئے سہارا مل جاتا ہے اور دوسری وجہ یہ کہ اگر آدمی گزر جائے تو وہ سامان (جہیز) بیٹی( جو بیاہی گئی تھی) اور اس کے بچوں کے پاس اپنے گزارے کے لئے ہوجاتا ہے۔ ایک پہلو تو ہم جہیز کا جان چکے اور دوسرا پہلو ہے ’استری دھن‘ کا۔ یہ وہ پیسہ ہے جو آدمی اپنی بیوی کے گھر والوں کو دیتا ہے۔ بعض دفعہ جہیز’ استری دھن‘ کے بدلے میں دیا جاتا ہے۔ سماج کے چند طبقوں میں جہیز کو ایک ڈھال کے طور پر بھی جانا جاتا ہے۔ جیسے کہ (1)شوہر اور سسرال عزت سے پیش آئیں: مثال کے طور پر دہلی کے منرکا میں رہنے والے ٹوکاس خاندان کے لوگ اپنے بیٹے سورج کے لئے دولہن تلاش کر رہے تھے۔دولہن کیا ،اپنے بیٹے کی نیلامی کر رہے تھے۔ جہاں رشتہ کی بات چلتی، وہاں موٹی رقم کی مانگ رکھتے۔ آخر میں اونچی بولی لگانے والے مل ہی گئے۔ دولہن لاکھوں کے سامان کے ساتھ ساتھ غالباً 2 کلو سونا لے کر آئی۔ لیکن کیا اتنا جہیز لانے کی وجہ سے اس کی عزت بڑھ گئی۔(2)شوہر بیوی کو زیادہ مارے پیٹے نہیں ۔جہیز سب سے زیادہ ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا، پاکستان اور نیپال میںعام ہے۔آئیے، اب اپنے ملک کے کچھ اعدا دو شمار دیکھتے ہیں۔ یہ وہ اعدادو شمار ہیں جن میں جہیز کی وجہ سے ماری گئی عورتوں کے بارے میں پتہ چلتا ہے۔ سب سے پہلے صوبائی سطح پر دیکھتے ہیں۔ جیسا کہ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ سب سے زیادہ قتل اتر پردیش میں پائے گئے ۔یہاں 2322 معاملے سامنے آئے۔ ان میں سے 27 کی رپورٹ درج ہوئی اور کل 7 معاملوں میں سزا سنائی گئی۔ دوسرے نمبر پر بہار ہے۔ یہاں 1413 معاملوں میں 19 کی رپورٹ ہوئی اور 3 معاملوں میں سزا ہوئی۔تیسرے نمبر پر مدھیہ پردیش ہے۔ یہاں کل 811 معاملوں میں سے 9 کی رپورٹ ہوئی اور ایک کیس میں بھی سزا نہیں ہوئی۔ کل ملا کر جہیز کے نام پر کئے گئے قتل کے 8618 معاملے ہوئے ہیں۔ ایک نظر یونین ٹریٹری پر ڈالتے ہیں۔سب سے زیادہ معاملے دہلی میں پائے گئے، پھر چنڈی گڑھ میں۔جہیز کی وجہ سے موت کے سب سے زیادہ معاملے دہلی میں پائے گئے ہیں۔ یہاں کل 115 معاملے سامنے آئے ہیں۔ دوسرے نمبر پر کانپور ہے۔ یہاں 69 ایسے معاملے سامنے آئے ہیں۔ تیسرے نمبر پر آگرہ ہے ۔یہاں 56 معاملے سامنے آئے ہیں۔جہیز کے معاملوں میں عموماً عورت کا قتل جلا کر کیا جاتا ہے۔عورت کو جلا کر مارنا کئی طبقوں میں ’’ستی‘‘ کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ ’ستی‘ کا رواج 1829 میں غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔ لیکن ذہنی تکلیف دے کر ایک عورت کو خود کشی کرنے پر مجبور کرنا بھی ایک طرح سے قتل کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ایسے قتلوں کی وجہ ’جہیز ‘بتائی جاتی ہے،لیکن وجہ کچھ اور بھی ہے۔اس کی وجہ ہے جائداد میں حصہ نہ ملنا۔ اکثر جائداد صرف بیٹے کے نام کر دی جاتی ہے۔بیٹی کو جائداد کا حقدار نہیں سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک عورت اپنے شوہر یا سسرالیوں کا سہارا ڈھونڈتی ہے اور چند عورتیں ایسی بھی ہیں جو باہر جا کر کماتی ہیں۔ کام کر کے اپنے پیروں پر کھڑی رہتی ہیں۔ اگر بہو ایسی ہوتی ہے تو اسے ایک قابل بہو نہیں سمجھا جاتا۔
ایک دور وہ بھی تھا جب جہیز ہندوستان میں ایک نئی چیز تھی۔اس نئے پن کا ہندوستانیوں نے 1661 میں تجربہ کیا۔یہ دور ایسٹ انڈیا کمپنی کے راج کا تھا۔1661 میں پرتگال کی راج کماری Catherine De Brabanzaکی شادی کنگ چارلس ثانی سے ہوئی۔ کنگ چارلس کو جہیز میں باقی چیزوں کے ساتھ ساتھ ’ممبئی ‘بھی دیا گیا تھا۔ ہندوستان کے عوام کو یہ بات اس وقت پسند نہیں آئی تھی۔ اس وقت ایسے انداز کو شوہر خریدنے کا اندازسمجھا جاتا تھا(کاش کہ آج بھی ایسا ہی سوچا جاتا)۔یہ جو اعدا دو شمار پیش کئے ہیں وہ IPC سیکشن 304B کیتحت آتے ہیں۔ یہ سیکشن جہیز کے لالچ میں عورتوں کے قتل کے مسئلوں پر روشنی ڈالتا ہے۔ یہ سیکشن جہیز کے لییموت کومندرجہ ذیل صورتوں میں قتل قرار دیتا ہے۔
1 اگر موت جسم جلانے کی وجہ سے یا کسی اور جسمانی چوٹ کی وجہ سے ہوئی ہو، جہاں حالات تھوڑے ناقابل یقین ہوںاور شادی کو سات سال نہ ہوئے ہوں۔ اس عورت کو اور کسی طرح کی جسمانی چوٹ پہنچی ہو اور اس طرح کا جسمانی نقصان شوہر یا اس کے گھر والوں نے دیا ہو۔
2 اگر ایک عورت کی موت جہیز کی وجہ سے ہوئی ہو تو ایسے میں گنہگار کو 7سال سے اوپر کی جیل ہوگی یا پھر عمر قید بھی ہو سکتی ہے۔
کئی دفعہ جہیز کی وجہ سے ہوئی موت؍قتل کو غلط انداز سے بھی بیان کیا جاتا ہے۔ آئیے اس کے چند پہلوئوں پر نظر ڈالیں:
1 غلط استعمال: ہندوستانی قانون کبھی مردوں پر ہوئی زیادتی کے بارے میں کچھ نہیں کہتا۔ اس کے تحت کئی عورتیں 498A کا غلط استعمال بھی کرتی ہیں۔مثال کے طور پر چنڈی گڑھ کی شیوانی نے دہلی کے پنجابی باغ میں رہنے والے سدھارتھ کپور سے شادی کی۔ سدھارتھ ایک فرمانبردار بیٹے اور بہت ہی محبت کرنے والے شوہر تھے۔ لیکن شیوانی کو شاید آسمان چاہئے تھا۔ شیوانی نے صرف دولت کی وجہ سے سدھارتھ سے شادی کی تھی اور پھر جب اس کی لندن،امریکہ جانے کی خواہش پوری نہیں ہوئی تو اس نے سدھارتھ پر IPC498A کا مقدمہ لگا دیا۔ مقدمہ دہلی کے ایک کورٹ میںبہتدنوں تک چلا۔کپور خاندان پر کئی الزام لگے۔ آخر مقدمہ شیوانی کے حق میں رہا۔لیکن آج کی بات یہ ہے کہ شیوانی کی اس حرکت سے سدھارتھ کافی ٹوٹ گیا۔اسی وجہ سے سدھارتھ کے چھوٹے بھائی سوربھ کپور اب شادی نہیں کرنا چاہتے۔ غلطی کوئی کرے اورسزا بھگتے کوئی اور۔
2 غلط وجہ:اگر کسی عورت کی موت، شادی کے سات سال کے اندر ہو جاتی ہے تو اکثر اس کی وجہ جہیز ہی مانی جاتی ہے۔
3 رشوت خوری:کئی دفعہ سرکاری نمائندے بھی معصوم لوگوں کو جہیز کی وجہ بنا کر تکلیف دیتے ہیں اور ایسی تکلیف دینے کے لئے اچھے خاصے پیسے بھی لیتے ہیں۔
4 این آر آئی: ایسے مسئلوں میں جو این آر آئی ہوتے ہیں ،ان کے پاسپورٹ ضبط کر لیے جاتے ہیں اور وہ اپنے کام کاج کے تحت ہندوستان کے باہر نہیں جا پاتے ہیں۔
5 غلط بیانی:اگر یہ پتہ چل جائے کہ ایک خاندان کو غلط مسئلوںمیں پھنسایا جا رہا ہے تو لڑکی کے گھر والوں کو کوئی سزا نہیں ملتی اور نہ ہی کوئی جرمانہ دینا پڑتا ہے۔ اوپر لکھی گئی ساری باتوں کا نچوڑ ہم صہیب الیاسی کے کیس سے لے سکتے ہیں۔ صہیب الیاسی کی بیوی انجو الیاسی نے 10جنوری2010 کو اپنے میور وہار کے گھر میں خود کشی کر لی۔ انجو کی ماں اور بہن نے صہیب الیاسی کو انجو کی موت کا ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ صہیب نے انجو کو ذہنی تکلیف دی اور اس پر ظلم کیا جس کی وجہ سے انجو نے خود کشی کرلی۔
اس بات کو انجو کے والد اور بھائی نے خود ہی غلط ٹھہرایا۔ ان کا کہنا تھا کہ انجو کی ماں اور بہن صرف انجو کی بیٹی عالیہ کی کسٹوڈی پانے کے لئے صہیب الیاسی کو IPC سیکشن 498A اور آئی پی سی سیکشن 304B کے تحت گنہگار ٹھہرانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
2001 میں دہلی کے ہائی کورٹ نے،اسلامی قانون کے تحت صہیب کو ان کی بیٹی کی کسٹوڈی دے دی۔آج تک صہیب الیاسی اور ان کے سسرال والے کورٹ کے چکر لگا رہے ہیں۔ ان کے چکر لگانے کی وجہ ہے کہ پولیس والے انہیں پریشان کر رہے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here