علیم خان فلکی
بہار  کی مسلم بستیوں کا حال بھی وہی ہے جو بنگال ، مہاراشٹرا ، گلبرگہ اور دوسری جگہوں کی مسلم بستیوں کا ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت کے غربت و افلاس میں ڈوبے ہوئے مکان ، تنگ و تاریک گلیاں ، جگہ جگہ کچروں کے ڈھیر، میلی کچیلی بنیان اور لنگیوں میں نکّڑوں پر کھڑے مردوں کے غول ، گھر گھر بچوں کی کثرت ،  بڑھتی ہوئی بے روزگاری میں مبتلا مرد جو عورتوں کی کمائی پر انحصار کرتے ہیں، بلکہ نوکری کرنے والی عورتوںکو ڈھونڈھ کر شادیا ں کرتے ہیں۔ ایسا بھی نہیں کہ سارا بہار غربت و افلاس کا مارا ہے۔ ہندوستان کے دوسرے علاقوں کی طرح یہاں بھی خوشحال لوگ بستے ہیں۔ پھلواری شریف جیسے کچھ علاقے پٹنہ میں بھی ہیں جہاں خوشحال مسلمانوں کی اکثریت ہے۔ لیکن مسئلہ وہی ہے کہ شعارِ اسلام یعنی جن چیزوں سے مسلمان کی سڑک پر پہچان ہو وہ بھرپور ہے، لیکن جن خوبیوں سے ملک اور معاشرے میں ایک مسلمان کی پہچان ہو وہ ندارد ہیں۔ انہی میں سے ایک جہیز بھی ہے۔ جتنی زیادہ یہاں غربت اور بے روزگاری ہے اسی کثرت سے جہیز کی لعنت یہاں پائی جاتی ہے۔ چند ایک مالداروں نے پورا نظام بگاڑ ا ہے اس لیے ہر لڑکا مالدار سسرال ڈھونڈھتا ہے۔ اگر کسی گھر میں دو یا تین بیٹیاں ہو جائیں تو وہ ساری عمر اپنے نصیب کو کوستے ہوئے گزار دیتا ہے۔ ہزاروں بد قسمت لڑکیاں ایسی ہیں جو ذہین اور شوقین ہونے کی بناپر تعلیم تو حاصل کر لیتی ہیں، لیکن ان کے لیے مناسب لڑکوں کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ کم معیار کے شوہروں کو قبول کر کے ایک عذاب سے بھری زندگی گزار رہی ہیں۔ مرد طوائفوں کی طرح بک رہے ہیں۔ میٹرک یا انٹر ہو تو اس کے لیے کم ازکم ایک یا ڈیڑھ لاکھ روپے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔ گریجویٹ، سرکاری نوکر، ڈاکٹر اور انجینئر ہو تو اس کی قیمت بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہ ان کے حریص ماں باپ ہیں جو بیٹوں کی تعلیم پر خرچ کر کے کئی گنا زیادہ سود بجائے بیٹے سے وصول کرنے کے ایک لڑکی کے باپ سے وصول کرتے ہیں اور تب جا کر اپنا بیٹا فروخت کرتے ہیں۔  بہار میں نقد رقم کو تلک کہا جاتا ہے، اسی طرح جس طرح حیدرآباد میں ’’جوڑے کی رقم‘‘ یا ساؤتھ انڈیا میں ’’استری دھنم‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہاں تلک کا ریٹ بنگال اورمہاراشٹرا کے مقابلے زیادہ ہے۔ یہ وہ رشوت ہے جو مرد ایک عورت کو گھر میںجگہ دینے کے لیے اسی طرح وصول کرتا ہے، جس طرح ایک میڈیکل کالج یا جہاز یا ٹرین کی ایک سیٹ فروخت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ضروریاتِ زندگی کے سارے سازو سامان لانے کی ذمہ داری بھی عورت پر ڈالتا ہے۔
اکثریت کا یہ خیال ہے کہ مسلمانوں کی معاشی پست حالی کا ایک بڑا سبب لالو یادو کی حکومت بھی ہے، جس میں اَن پڑھوں کا غنڈہ راج تھا۔ مسلمانوں کے لیے فنڈ تو کروڑوں کے پاس ہوئے، لیکن عوام تک نہیں پہنچے۔ زیادہ تر لوگ نتیش کی حکومت سے اس لیے خوش ہیں کہ ان کے دور میں غنڈہ گردی، اغوا اور لوٹ کھسوٹ کافی کم ہوئی ہے۔ مسلمانوں کی بہبود کے لیے اگر چہ نتیش حکومت نے بھی کروڑوں مختص کیے ہیں، لیکن مسلم نمائندگی کرنے والے سیاسی مسلمان ایک تو ان فنڈز کو استعمال کرنے اور عوام کو اس کی آگاہی دلانے کا شعور نہیں رکھتے، دوسرے جو بھی انہیں ملتا ہے اپنے خزانے بھرنے میں لگ جاتے ہیں۔ اس لیے ایک عام مسلمان تو بہر حال اپنوں اور غیروں دونوں کے ہاتھوں پِس رہا ہے۔
جو لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اگر مسلم معاشرے میں کوئی انقلاب آسکتا ہے تو صرف اصلاح معاشرے کے ذریعے آسکتا ہے، ان کے لیے بہار کی سرزمین ایک آئیڈیل جگہ ہے۔ یہاں کے لوگ انہیں سننا چاہتے ہیں اور ساتھ دینے کو تیار ہیں، ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ اب وہاں کوئی آگے بڑھے اور جہیز مٹاؤ مہم کے ذریعے لوگوں کو ساتھ لے اور دوسری اصلاحات پر عملی اقدامات اٹھائے۔
یہاں بھی بنگال کی طرح ایک چیز مشترک ہے کہ مسلمانوں کی آبادی پچیس فیصد اور بعض بعض انتخابی حلقوں میں ستر فیصد ہونے کے باوجود مسلمان سیاسی طور پر دوسرے درجے کے شہری جیسے ہی ہیں، بلکہ دلت اصل شہری اور مسلمان اصل دلت محسوس ہوتے ہیں۔ عام مسلمانوں میں یہ احساسِ کمتری دیکھنے کو ملتی ہے کہ مسلمانوں کی ترقی لالو جی یا نتیش جی کی خوشنودی پر منحصر ہے۔ کانگریس اور بی جے پی وغیرہ میں بھی مسلمان ہیں، لیکن ان کی ذہنیت کا عالم بھی یہی ہے۔ صحافی بھی ایک سے بڑھ کر ایک ہیں، یہ لوگ بہت دلیری سے لکھتے ہیں، لیکن سوائے اردو اخبار کے یہ کہیں اور نہیں شائع ہوتا۔
یہ کتنی حیرت کی بات ہے کہ بہار کی وہ سرزمین جہاں آج بھی گاؤں گاؤں شہر شہر اولیائے کرام، مشائخین، علماء، مدارس، حکمرانوں اور دانشوروں کی نشانیاں موجود ہیں۔ خدابخش لائبریری کی سینکڑوں کتابیں گواہ ہیں کہ مسلمانوں نے اس سرزمین سے بڑے بڑے دینی، علمی و سیاسی و سماجی انقلابی پیدا کیے اور انقلابات برپا کیے۔ سلفی یا اہلِ حدیث تحریک پٹنہ سے اٹھی اور پورے شمالی ہندوستان میں پھیل گئی۔ امارت شریعہ بہار، جس کے سرکردہ علما نے مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام میں بنیادی رول ادا کیا اور خود امارت شریعہ بہار سارے ہندوستان کے لیے ایک مثالی دارالقضا بن گیا۔ دارلعلوم دیوبند اور دیوبند تحریک کو، جس نے آزادی کی جنگ سے لے کر آج تک کئی انقلابات برپا کیے، اس کو بہار نے بے شمار جاں نثار علما و مجاہدین دیے ہیں۔ آج بھی ایک عام تعلیم یافتہ بہاری مسلمان معاشی طور پر اگرچہ پسماندہ ہے لیکن اپنی گفتگو اوراخلاق سے دوسری ریاستوں کے تعلیم یافتہ مسلمانوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ متاثر کرتا ہے، لیکن سیاسی طور پر یہ پوری ریاست مسلم قیادت سے محروم ہے۔ مسلمانوں کو اس احساسِ کمتری سے باہر آنا ہوگا۔ اسی طرح یہاں کے مسلمانوں کو جہیز جیسی لعنت کے خلاف ایک جنگ چھیڑنی ہوگی تاکہ اس لعنت سے ہزاروں مسلم خاندان برباد ہونے سے بچ سکیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here