جب ملک کی دو عظیم شخصیتیں ہم سے جدا ہو گئیں

Share Article

مئی  2010نے دو ایسے لوگوں کو ہم سے چھین لیا، جنہوںنے ہندوستان کی سیاست اور معاشرتی ترقی کی جدو جہد میں بڑا تعاون دیا تھا۔بھیرو سنگھ شیخاوت نے راجستھان کی سیاست میں عام پریوار کے نمائندے کی شکل میں حصہ لیا اور رجواڑوں و زمینداروں کی ذہنیت والی ریاست میں اپنا ایسا مقام بنا لیا، جو کسی کے لیے بھی حسد کا سبب بن سکتا ہے۔آچاریہ رام مورتی نے بھی عام پریوار میں جنم لیکر دھیریندر مجمدار کے ساتھ ان کی ہدایت میں پہلے بنیادی تعلیم کا خاکہ بنانے میںاور بعد میں ہمہ جہت ترقی کے انقلاب کو نکھارنے میں اپنے آپ کو وقف کر دیا۔اپنی زندگی کی آخری سانس تک آچاریہ رام مورتی انقلاب کے زندہ الفاظ بنے رہے۔
بھیرو سنگھ شیخاوت کو ہندوستانی سیاست میں ایک ایسے انسان کی شکل میں یاد کیا جائے گا، جس نے صرف اور صرف دوست بنائے۔ان کے دوست سبھی جماعتوں میں تھے۔ اٹل صاحب ان کے لیڈر بھی اور دوست بھی تھے۔جب تک اٹل صاحب سیاست میں متحرک تھے، بنا بھیرو سنگھ شیخاوت کی صلاح کے قدم نہیں اٹھاتے تھے۔بھیرو سنگھ شیخاوت کبھی کبھی اداس بھی ہو جاتے تھے۔میں اس کا گواہ ہوں۔انہوں نے برسوں پہلے کئی بار کہا کہ انہوں نے اٹل صاحب سے بار بار کہا ہے کہ وہ بی جے پی کا دائرہ توڑ کر ملک میں گھومیں اور ملک کو صحیح آزادی کے لیے لڑنے کے لیے تیار کریں۔یہ بات اٹل صاحب کے وزیر اعظم بننے سے پہلے کی ہے۔بھیرو صاحب بتاتے تھے کہ اٹل صاحب بھی ایسا ہی چاہتے ہیں، لیکن سنگھ کا خوف ان پر اس قدر حاوی ہے کہ وہ کوئی نیا قدم اٹھا ہی نہیں سکتے۔بھیرو صاحب کو لگتا تھاکہ اٹل صاحب میں ملک کو آگے لے جانے کی صلاحیت ہے۔وہ خود کو دوسرے نمبر کا سب کچھ منظم کرنے والاشخص ہی مانتے تھے۔
سن88کی شروعات کی بات ہے، شاید جنوری کی۔ جے پور سے فون آیا اور فون پر بھیرو صاحب تھے۔ انہوں نے مجھ سے جے پور آنے کے لیے اصرار کیا۔میں گیا تو انہوں نے کہا کہ وہ خاموشی سے وی پی سنگھ سے ملنا چاہتے ہیں۔تیسرے دن بھیرو صاحب دہلی آئے اور وی پی سنگھ سے ملاقات کی۔ انہوں نے وی پی سنگے سے کہا کہ وہ کہیں گے تو وہ بی جے پی بھی چھوڑ دیں گے، لیکن ملک کو بنیادی تبدیلی کے لیے تیار کرنا چاہئے۔وی پی سنگھ کے وزیر اعظم بننے کے بعد بابری مسجد کے حل میں انھوں نے اہم تعائون دیا اورچندر شیکھر جی کے دور اقتدار میں تو انہوں نے اس مسئلے کو تقریباً حل ہی کر لیا تھا۔شرد پوار اگر راجیو گاندھی کو دو دن پہلے اس کی خبر نہ دیتے تو آج بابری مسجد تنازعہ کا حل نکل چکا ہوتا۔
نائب صدر جمہوریہ رہتے ہوئے بھیرو سنگھ شیخاوت نے غریبوں کے لیے بہت سے قدم اٹھائے۔ جب وہ وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے ایک منصوبے کی شروعات کی، جس کا  غریبوں کوبہت فائدہ ہوا۔ ان کے چلنے کا ڈھنگ، ان کے بات کرنے کا اندازاور ان کا چہرہ مہرہ انہیں عام آدمی کے زیادہ قریب لے جاتا تھا۔ان کی سب سے زیادہ دوستی چندر شیکھر صاحب سے تھی۔وہ جب دہلی آتے تو اپنا بیشتر وقت چندر شیکھر صاحب کے ساتھ گزارتے۔دونوں کی آپس میں غیر رسمی بات چیت اتنی میٹھی ہوتی تھی کہ سننے کا لالچ کم ہی نہیںہوتا تھا۔
چوتھی دنیا کے وہ مرتے دم تک مداح رہے۔انہوں نے اپنے آپ کہا کہ وہ چوتھی دنیا کے لیے لکھیں گے۔مضمون انہوں نے خود ہی طے کر لیا تھا۔’’بابری مسجد رام مندر کے تنازعے کے اسباب اور ان کاحل‘‘ ۔ ہم آخر تک انتظار کرتے رہے، لیکن ان کی صحت نے انہیں ان کی یہ خواہش پوری نہیںکرنے دی۔ آچاریہ رام مورتی بنیادی طور پر ایک استاد تھے۔ ان کا خواب عوامی ہیرو بننے کا نہیںتھا، بلکہ وہ چاہتے تھے کہ سماجی تبدیلی کے کام میں لگنے والے زیادہ سے زیادہ سپاہی تیار ہوں۔ انہوں نے اپنی تمام تر زندگی ایسے لوگوں کو تیار کرنے میں لگا دی ۔ جہاں بھی ایسے لوگوں کے ملنے کا امکان ہوتا،آچاریہ جی وہاں پہنچنے کی کوشش کرتے۔ان کے اختلافات اپنے سروودیہ تحریک کے ساتھیوں سے بھی تھے۔جب جے پرکاش نارائن نے بہار میں طلبا تحریک کو اپنی حمایت دی اور بعد میں مکمل انقلاب کی تحریک شروع کی تو آچاریہ جی نے سب سے پہلے اس کی صرف حمایت ہی نہیں کی، بلکہ پہلے سپاہی کی طرح اس میں چھلانگ لگا دی۔ انھوں نے مکمل انقلاب کو کامیاب بنانے کی ذمہ داری خود سنبھال لی۔
آچاریہ رام مورتی کی زبان، دانشور کی زبان نہیں تھی، مگر دانشور کی زبان سے زیادہ منطقی اور زیادہ سمجھ میں آنے والی زبان تھی۔ دیکھنے میں سیدھے سادے ، پہننے میں دیہی ہندوستان کی جھلک دینے والے اور سمجھانے میں مارکس اینجل کا عکس دینے والے آچاریہ رام مورتی کا جتنا استعمال ہونا چاہئے تھا، اتنا ہو نہیں پایا۔وی پی سنگھ وزیر اعظم تھے، انھوں نے آچاریہ جی کے سامنے تجویز پیش کی کہ وہ گورنر کا عہدہ تسلیم کر لیں، مگر آچاریہ جی نے اسے مسترد کر دیا۔ انھوں نے کہا کہ وہ تعلیم پر کوئی بنیادی کام کرنا چاہتے ہیں۔ وی پی سنگھ حکومت نے رام مورتی کمیشن تشکیل دیا، جس نے تعلیم میں بنیادی سدھار کی سفارشات پیش کیں۔ یہ پہلا کمیشن تھا، جس نے کم عرصہ میںیعنی ڈیڑھ سال کے اندر ہی اپنی رپورٹ اس وقت کے وزیر اعظم چندر شیکھر کے سپرد کر دی۔افسوس کہ وہ رپورٹ کسی الماری میں بند پڑی ہے۔
آخری دنوں میں آچاریہ جی بالکل تنہا رہ گئے تھے، ان کا جسم ساتھ نہیں دیتا، مگر ان کا دماغ ان کا رتھ بان تھا۔ان کا کنبہ بہت چھوٹا، مگر اس کا سکھ انہیں نہیں ملا۔ان کے ساتھی کرشن کمار جی اور رام غلام ان کے ساتھ آخری وقت تک رہے۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے بارے میں لکھنا چاہتا ہوں۔ جارج فرنانڈیز جب بیماری کے سبب کمزور ہو گئے تو اپنے تمام اختلافات بھلا کر نتیش کمار نے انہیں راجیہ سبھا بھیجا۔ اسی طرح جب آچاریہ رام مورتی بالکل تنہا رہ گئے، جسم کمزور ہونے لگا ،تو نتیش کمار نے ایک کمیٹی بنا کر آچاریہ جی کو اس کا صدر بنا دیا۔ آچاریہ جی نے اپنے آخری دن پٹنہ میں آرام سے گزارے۔نتیش سے آچاریہ جی کا کبھی اندرونی اختلاف نہیں رہا، نہ ذاتی اور نہ سیاسی۔ مگر جے پرکاش تحریک کے دوران جتنا رابطہ نتیش کمار کا آچاریہ جی سے رہا، اسے وہ کبھی نہیں بھولے۔ اس لئے جب آچاریہ جی کا ساتھ ان کے کنبہ نے بھی چھوڑ دیا تو نتیش کمار آگے آئے اور تحریک میںکے لیے کام کیا۔آج سیاست میں ایسی مثال دیکھنے کو نہیں ملتی۔ ایسی مثالیں دیکھنے کو دل کرتا ہے، کیونکہ یہی سیاست کا انسانی چہرہ ہے۔نتیش کمار اس کی مثال ہیں۔
تاریخ کیا بتائے گی بھیروں سنگھ شیخاوت اور آچاریہ رام مورتی کے بارے میں،پتہ نہیں، مگر دونوں جاتے ہوئے دکھی تھے۔ ملک کی حالت، غریبوں کی نظر اندازی اور نکسل پرستی کا بڑھنا انہیں فکرمند کئے ہوئے تھا۔ دونوں کے مقلد ان کی فکر کو کتنا سمجھیں گے ، معلوم نہیں، لیکن اگر سمجھ سکیں تو وہ اس ملک کے ساتھ اپنا فرض ادا کریں گے۔ بھیروسنگھ شیخاوت اور آچاریہ رام مورتی کو ہمارا آخری سلام۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *