ivanka-modi

 

حیدرآبادمیں چل رہے گلوبل انٹرپرینیورشپ سمٹ(جی ای ایس)میں حصہ لینے کیلئے امریکی صدرڈونالڈٹرمپ کی بیٹی اورصلاح کارایوانکاٹرمپ ہندوستان کے دورے پرآئی ہوئی ہیں۔ان کے امریکی بارباریوں کا نمائندہ بھی آیاہواہے۔جون میں وزیراعظم نریندرمودی نے اپنے امریکی دورے کے وقت کافی سوچ سمجھ کرایونکاکوجی ای ایس میں آنے کا انوائٹیشن دیاتھا۔28نومبرکوجی ای ایس میں پی ایم مودی نے ایوانکاکاگرم جوشی کے ساتھ استقبال کیا۔وزیراعظم نریندرمودی اورایوانکاٹرمپ دونوں نے تین روزہ جی ای ایس سمیلن میں روبوٹ ’متر‘کابٹن دباکرجی ای ایس کاافتتاح کیا۔
اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نریندر مودی نے کہاکہ ہندوستان اختراعات کی سرزمین ہے۔انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی خواتین زندگی کے مختلف شعبہ جات میں آگے ہیں۔ہندوستان کے قدیم ترین چارہائی کورٹس میں سے تین کی صدارت خاتون ججز کر رہی ہیں۔اس سمٹ میں تاجرخواتین پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کھیلوں میں خواتین بہتر مظاہرہ کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس سلسلہ میں ثانیہ مرزا،سائنانہوال،پی وی سندھو کا بطور خاص تذکرہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ملک کی امداد باہمی کی تحریکات میں بھی خواتین آگے ہیں۔انہوں نے کہاکہ یہ سمٹ پہلی مرتبہ جنوبی ایشیا میں ہورہی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ سمٹ تھنک ٹینک،سرکردہ صنعت کاروں،انٹرپرینیورشپ کو ایک جگہ کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اس سمٹ کے ذریعہ امریکہ کی سلیکان ویلی شہر حیدرآباد سے جڑگئی ہے۔اس سے ہندوستان اور امریکہ کے دیرپا رشتوں کا اظہار ہوتا ہے۔انہو ں نے کہاکہ ہندوستان خواتین کی طاقت میں یقین رکھتا ہے۔خواتین کو بااختیار بنانا اور ان کو ترقی دینا ضروری ہے۔خواتین میں کافی صلاحیت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کئی سرکردہ خواتین جنگجو بھی ہوئی ہیں۔ انہوں نے اس خصوص میں اہیلیا بائی، رانی لکشمی بائی کا بھی بطورخاص تذکرہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان میں مختلف شعبہ جات میں خواتین کارول بہتر رہا ہے۔ خاتون سائنس دانوں نے بھی ملک کا نام روشن کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ہندوستانی نژاد کلپنا چاولہ اور سنیتا ولیمس امریکی خلائی مشن کاحصہ رہ چکی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کئی اہم شعبوں میں فیصلہ سازی میں خواتین کا اہم رول رہا ہے۔زراعت کے 60فیصد حصہ میں خواتین کا نمایاں رول رہا ہے۔وزیر اعظم نریندرمودی نے مزید کہا کہ اس سمٹ کے شرکا میں 50فیصد سے زائد خواتین ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here