ڈاکٹر قمر تبریز
p-5ملک کے اوپر سولہویں لوک سبھا الیکشن کا بخار چڑھا ہوا ہے۔ ہر لیڈر اپنے طریقے سے ڈاکٹر بننے اور عوام کے مسائل کو حل کرنے کا دعویٰ کر رہا ہے۔ اس کوشش میں کچھ لوگ تو ایسے ہیں، جو وزارتِ عظمیٰ کی کرسی تک پہنچنا چاہتے ہیں اور زیادہ تر ایسے ہیں، جو لوک سبھا تک پہنچ کر اپنا اُلّو سیدھا کرنا چاہتے ہیں۔ چونکہ انتخابات سر پر ہیں، اس لیے سبھی کو عوام کی فکر ہونے لگی ہے، ورنہ پچھلے پانچ سال تک کسی نے اس عوام کی خبر خیریت تک لینے کی زحمت نہیں کی، جنہوں نے انہیں اپنا قیمتی ووٹ دے کر ایوانِ اقتدار تک پہنچایا تھا۔ چناوی تہوار میں کوئی چائے بیچ کر لوگوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کرانے کی کوشش کر رہا ہے، تو کوئی اسے الٹے سیدھے الفاظ سے نواز کر خود کو اس سے بڑا بننے کی کوشش میں لگا ہوا ہے۔ سبھی پارٹیاں اپنے اپنے طریقے سے ووٹروں کو لبھانے کا کام کر رہی ہیں۔
ان سب کے درمیان ملک میں بعض ایسی سیاسی پارٹیاں بھی ہیں، جو مسلمانوں کے ووٹوں پر اپنا حق جمانے کی کوششوں میں لگی ہوئی ہیں۔ مزیدار بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے ماضی میں ان سیاسی پارٹیوں کو اپنا قیمتی ووٹ دے کر ایوانِ اقتدار تک تو پہنچایا تھا، لیکن ان کے مسائل حل ہونے کا نام ہی نہیں لے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بار کے لوک سبھا الیکشن میں مسلمان سب سے زیادہ ناراض کانگریس پارٹی سے ہیں، جسے اکثر و بیشتر اس ملک میں مسلمانوں کا ووٹ ملتا رہا ہے۔ ایسے میں کانگریس نے اِس بار مسلمانوں کا ووٹ حاصل کرنے کا ایک نایاب طریقہ نکالا ہے۔ کانگریس سیدھے ان کے درمیان جاکر ان کی ناراضگی مول لینے کی ہمت نہیں جٹا پا رہی ہے، اس لیے وہ بیک ڈور سے ان کے درمیان اپنی پکڑ بنانا چاہتی ہے۔ اس کے لیے اس نے جو طریقہ اپنایا ہے، وہ یہ ہے کہ اس نے سرکردہ مسلم تنظیموں، اداروں اور شخصیات کو پیسے دے کر اس کام میں لگا دیا ہے کہ وہ کانگریس پارٹی کے لیے مسلمانوں کے ووٹوں کا انتظام کریں۔ ظاہر ہے، جس کام کی قیمت ملتی ہے، اس کام کو انسان بڑی تندہی سے کرتا ہے۔
لیکن کانگریس پارٹی کے لیے ایک بڑی پریشانی یہ ہے کہ مسلمانوں کے درمیان کوئی ایک تنظیم، ادارہ یا بڑی شخصیت نہیں ہے، بلکہ ان کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔ ظاہر ہے، اس کے لیے کانگریس پارٹی کو پیسے بھی بہت زیادہ خرچ کرنے پڑیں گے اور اتنے پیسے وہ خرچ نہیں کرنا چاہتی۔ اس لیے اس نے ان تنظیموں، اداروں اور شخصیات کے درمیان ایک مقابلہ آرائی شروع کروا دی ہے۔ لہٰذا اب یہ شخصیتیں، ادارے اور شخصیات کانگریس کے سامنے یہ ثابت کرنے میں لگی ہوئی ہیں کہ ان کی پکڑ مسلمانوں پر سب سے زیادہ ہے، تاکہ وہ کانگریس کی پسند بن جائیں اور پھر انہیں ان کی کارکردگی کے لحاظ سے اتنے ہی پیسے بھی ملیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل ملک بھر میں مختلف مقامات پر مسلم تنظیموں، اداروں اور شخصیات کی طرف سے ریلیوں، سیمیناروں اور کنونشن کا دور چل نکلا ہے۔ ان تمام پروگراموں میں صرف ایک ہی بات موضوعِ بحث ہوتی ہے کہ بی جے پی کے پی ایم امیدوار نریندر مودی کو کیسے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے سے روکا جائے۔ اس کے لیے کبھی آئین کی دُہائی دی جاتی ہے، تو کبھی سیکولر ازم کا قصیدہ پڑھا جاتا ہے۔ کبھی اسے فاشسٹ کہا جاتا ہے، تو کبھی انسانیت کا قاتل۔ لیکن حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی کو بھی نہ تو مسلمانوں کے بنیادی مسائل کا علم ہے اور اگر ہے بھی، تو ان مسائل کو کیسے حل کیا جائے، اس کے بارے میں ان کے پاس کوئی حکمت عملی نہیں ہے۔دوسری طرف انسانیت کا قاتل اور فاشسٹ نظریات کا حامل نریندر مودی پورے ملک میں گھوم گھوم کر سب کو للکار رہا ہے، کل کے ہندوستان کی تصویر پیش کر رہا ہے، چھوٹے چھوٹے مسائل کو کیسے حل کیا جائے گا، اس کی تفصیل بتا رہا ہے۔ ایسے میں سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر مودی کا مقابلہ کرنا ہے، تو آپ کے پاس بھی ان تمام مسائل کو حل کرنے کے بارے میں ایک بلیو پرنٹ تو ہونا ہی چاہیے۔ اگر آپ کے پاس ایسا کوئی ہتھیار نہیں ہے، تو آپ مودی کا مقابلہ بھلا کیسے کریں گے؟
یہ بات صحیح ہے کہ مودی فاشسٹ نظریات پر کاربند ہے۔ وہ غریبوں کے بجائے دولت مندوں کو آگے بڑھانے کی بات کرتا ہے۔ کارپوریٹ گھرانے اس کے دوست ہیں، ملک کے غریب عوام نہیں۔ ان سب کے باوجود وہ لوگوں میں مقبول ہوتا جا رہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ مسلم تنظیمیں، ادارے یا شخصیات، جو اس وقت ملک سے فرقہ واریت کو ختم کرنے کی باتیں کر رہی ہیں اور اس کے لیے بھی صرف مسلمانوں کو متحد ہونے کی اپیل کر رہی ہیں، انہوں نے اپنا یہ کام اسی وقت سے شروع کیوں نہیں کیا تھا، جب مودی گجرات سے باہر نکل کر پورے ملک میں اپنی ریلیاں کر رہا تھا۔ مودی تو تقریباً تین سالوں سے ایسا کر رہا ہے، لیکن مسلم تنظیمیں، ادارے یا شخصیات یہ کام صرف ایک یا دو ماہ سے ہی کیوں کر رہی ہیں؟
ہندوستانی مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم آل انڈیا ملی کونسل نے گزشتہ چند ماہ سے پورے ملک میں ’’کاروانِ اتحاد ملک و ملت‘‘ کے نام سے مسلمانوں کے درمیان ایک بیداری مہم چلائی۔ گزشتہ 8 مارچ کو نئی دہلی کے فکی آڈیٹوریم میں اس کا اختتامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ مختلف مذہبی تنظیموں کے سربراہان نے بھی شرکت کی اور عوام کو فرقہ پرست اور فاشسٹ طاقتوں کے خلاف متحد ہونے کا پیغام دیا۔ اس اختتامی اجلاس میں گو کہ سامعین کی تعداد 500-600 تھی، لیکن ان میں سے 90 فیصد افراد کا تعلق مسلم مذہب سے ہی تھا، جن کے سروں پر ٹوپیاں تھیں اور جو کرتا پائجامے میں ملبوس ہوکر یہاں تشریف لائے تھے۔ چونکہ 8 مارچ کو عالمی یومِ خواتین بھی تھا، اس لیے 40-50 برقعہ پوش عورتیں بھی وہاں نظر آ رہی تھیں۔ کمال کی بات تو یہ ہے کہ سامعین میں غیر مسلم طبقے کی نمائندگی نہ کے برابر تھی، صرف اسٹیج پر ہندو، سکھ، دلت طبقے کے دو چار رہنما نظر آ رہے تھے، جس سے مجموعی طور پر یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ اتحاد و ملت کی یہ کوشش صرف مسلمانوں کے لیے تھی، غیر مسلموں کے لیے نہیں اور غیر مسلموں کو ساتھ لیے بغیر ملک کی فرقہ پرست یا فاشسٹ طاقتوں کو چنوتی دے دینا اتنا آسان نہیں ہے۔ اسی طرح اجلاس میں 14 نکاتی تجاویزمیں جس طرح یو پی اے حکومت کی تعریف کی گئی اور عام پارلیمانی انتخابات کے پیش نظر جس طرح ایک کوآرڈی نیشن کمیٹی قائم کرنے کی بات کہی گئی، اس سے بھی ملی کونسل کی نیت پر شک ہوتا ہے۔
اتحاد ملت و ملت کنونشن کے اس آخری اجلاس میں اسٹیج پر بیٹھے جو حضرات اپنی موجودگی سے اتحاد و ملت کا پیغام دینے کی کوشش کر رہے تھے، ان میں سے چند کے نام یوں ہیں : راجندر سچر، سابق چیف جسٹس، دہلی ہائی کورٹ؛ مولانا سید کلب صادق، نائب صدر، آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ؛ حکیم عبداللہ مغیثی، صدر، آل انڈیا ملی کونسل؛ معروف سماجی کارکن اور یونائٹیڈ سکھ موومنٹ کے ڈاکٹر بی ایس سندھو، سوامی دھرمانند، ڈائرکٹر، ادھیاتم سادھنا کیندر، چھتر پور، دہلی؛ ای ابو بکر حسن، صدر، سوشل ڈیموکریٹک فرنٹ، کیرالہ؛ ڈاکٹر محمد منظور عالم، جنرل سکریٹری، آل انڈیا ملی کونسل؛ معروف حقوق انسانی کارکن ارون مانجی اور نند لال۔
آل انڈیا ملی کونسل کے رکن عاملہ اور عام آدمی پارٹی کے لیڈر کمال فاروقی نے اپنی تقریر میں بی جے پی کے دو لیڈروں، لال کرشن اڈوانی اور سبرامنین سوامی کے خلاف آواز بلند کرتے ہوئے کہا کہ ’’اڈوانی جی نے باقاعدہ ایک ٹیلی ویژن انٹرویو میں یہ بات کہی ہے کہ آسام میں جو ہندو بنگلہ دیش سے ہجرت کرکے آئے ہیں، ان کو ہندوستان کی شہریت دے دینی چاہیے اور جو مسلمان وہاں سے ہجرت کرکے یہاں آئے ہیں، انہیں بھگا دینا چاہیے‘‘۔ اسی طرح انہوں نے سبرامنین سوامی کے بارے میں کہا کہ وہ علی الاعلان مسلمانوں کے ووٹوں کو بانٹنے کی بات کرتے ہیں۔ بقول ان کے یہ دونوں ہی باتیں آئین مخالف اور نہایت ہی خطرناک ہیں، لیکن کہیں سے بھی ان دونوں کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھ رہی ہے، خود مسلمانوں کے یہاں سے بھی نہیں۔
اب آئیے دیکھتے ہیں کہ ملک و ملت کے اتحاد کی یہ کوشش کیسے انتشار میں تبدیل ہوتی نظر آئی۔ آل انڈیا ملی کونسل راجستھان کے عبدالقیوم اختر ایڈووکیٹ نے کہا کہ ’’ہم فضائل پر تو بہت گفتگو کرتے ہیں، لیکن مسائل پر بہت کم بات کرتے ہیں۔ یہاں پر تو سب اتفاق و اتحاد کی باتیں کر رہے ہیں، لیکن اسٹیج سے باہر انفرادی مسلک و تنظیم میں جُٹ جاتے ہیں اور پھر انتشار کی نئی شکلیں پیدا ہو جاتی ہیں۔‘‘
سامعین سے خطاب کرنے کے لیے اسٹیج پر بیٹھی مسلمانوں کی عظیم شخصیات میں سے ایک، مشہور شیعہ دانشور اور عالم دین سید کلب صادق نے قرآن پاک کی ایک آیت سے اپنی بات کی شروعات کی اور کہا کہ اللہ نے قرآن میں ایک جگہ فرمایا ہے کہ ’’اے صاحبانِ ایمان، تم ایسی باتیں کیوں کرتے ہو، جس پر تم خود عمل پیرا نہیں ہو‘‘۔ اس کے بعد انہوں نے اس کنونشن کے منتظمین سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ ’’آپ اگر سیکولر اور غیر متعصب ہندوؤں سے اتحاد قائم کرنا چاہتے ہیں، تو بہت اچھی بات ہے، لیکن اس اتحاد سے پہلے خود مسلمانوں میں بھی تو اتحاد ہونا چاہیے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھا یا کہ ’’مسلمانوں میں اتحاد کہاں ہے؟‘‘ اور کہا کہ اللہ کی مسجد تو وہی ہے، لیکن اب یہ شیعوں کی مسجد ہو گئی ہے، سنیوں کی مسجد ہو گئی ہے، بریلیوں اور دیوبندیوں کی مسجد ہو گئی ہے۔اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے کی مسجد میں جاکر نماز ادا کرنا چاہتا ہے، تو اسے ہمیشہ یہی ڈر لگا رہتا ہے کہ وہاں جاکر وہ کہیں شہید نہ ہو جائے۔
آل انڈیا ملی کونسل آندھرا پردیش کے الیاس شمسی نے تو مسلم تنظیموں کے وجود اور ان کے قائدین کے اوپر ہی سوال کھڑے کر دیے۔ انہوں نے تابڑ توڑ کئی سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا مسلمانوں نے اپنی لیڈرشپ تیار کی ہے؟ مسلم تنظیموں کے قائدین نے دوسرے نمبر کی لیڈرشپ کیوں نہیں تیار کی؟ الیاس شمسی نے ان پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ مسلم تنظیموں کے قائدین نے اپنی اپنی تنظیموں اور جن اداروں سے وہ جڑے ہوئے ہیں، ان اداروں کو بچانے کے لیے پوری مسلم قوم کی آواز کو ہی دبا دیا۔ ہر ادارے کا سربراہ کوئی بزرگ آدمی ہے، جنہوں نے نوجوانوں کو آگے نہیں بڑھنے دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ لوگ اتحاد کا نعرہ تو دیتے ہیں، لیکن ایک ساتھ ایک میز پر نہیں بیٹھ سکتے۔ الیاس شمسی کی ان باتوں سے آندھرا پردیش کے ہی عبدالجلیل خاں نے بھی اتفاق کیا اور کہا کہ نوجوان نسل کو موقع دیا جائے، ان سے کام کرایا جائے اور بزرگ لوگ انہیں رہنمائی عطا کریں۔
دوسری طرف ارشد فاروقی نے کہا کہ ’’ملی کونسل کی طرف سے فیصلے اندھیرے میں نہیں، اجالے میں ہونے چاہئیں۔‘‘
ان تمام باتوں سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم قوم میں اب بھی کہیں پر اتحاد نہیں ہے۔ ملی کونسل کی اتحادِ ملک و ملت کی یہ کوشش کیسے انتشار میں تبدیل ہوتی نظر آئی، درج بالا افراد کے خیالات سے ان کی پوری وضاحت ہو جاتی ہے۔ ملک میں تمام مذاہب کے لوگوں کے درمیان اتحاد قائم کرنا، ملک کے سیکولر آئین کی حفاظت کا عہد لینا اور فسطائیت و فرقہ واریت کو جڑ سے ختم کرنا ایک قابل تعریف کام ہے۔ ہم سب کو اس کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے اور اس میں ہاتھ بھی بٹانا چاہیے۔ لیکن اگر کوئی صرف پیسے لے کر اتحاد کے نام پر مسلمانوں میں انتشار پیدا کرنے کی کوشش کرے، تو ایسی طاقتوں سے مسلمانوں کو بیدار رہنے کی بھی ضرورت ہے۔ g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here