یہ کانگریس کے امتحان کا وقت ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
چوہتر میں لکھی لائنیں ،جنہیں بندیل کھنڈ کے عوامی شاعر رام گوپال دیکشت نے لکھا تھا،کون چلے گاآج دیش سے بھرشٹاچار مٹانے کو ،بربرتا سے لوہا لینے ستاّ سے ٹکرانے کو ،آج دیکھ لے کون رچاتا موت کے سنگ سگائی ہے،اٹھو جوانوں تمہیں جگانے کرانتی دوار پر آئی ہے،یاد آتی ہے۔اتفاق سے ان دنوں اقتدار میں اندرا گاندھی تھیں اور ان کے خلاف طلبہ تحریک چل رہی تھی،جس کا اہم ایشو بدعنوانی تھا۔طلبہ نوجوان اٹھ کھڑے ہوئے،اندرا جی الیکشن ہار گئیں،لیکن جو اقتدار میں آئے،نہ اسے سنبھال سکے اور نہ عوام کی امیدیں پورا کر سکے۔
پھر آئی 80کی دہائی۔راجیو گاندھی وزیر اعظم تھے۔ایک صاف بولنے والا چہرا تھاجس پر ملک نے بھروسہ کیا اور جمہوریت کی تاریخ میں پہلی بار 412سیٹوں پر انہیں جیت دلائی۔تین سال گزرتے گزرتے بدعنوانی کا موضوع ایسا ایشو بنا کہ ان کی حکومت چلی گئی۔وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے،لیکن کہانی پرانی دہرائی گئی۔وہ بھی نہ اقتدار سنبھال سکے،نہ عوام کے لیے بدعنوانی سے لڑتے شخص کی آرزو پوری کر پائے۔سرکار گری،لیکن سب سے افسوس ناک رہا راجیو گاندھی کا شہید ہونااور اب پھر منموہن سنگھ کی حکومت ہے۔،یعنی کانگریس کی حکومت ہے۔بدعنوانی کا ایشو ایک بار پھر مرکزی ایشو بنتا جا رہا ہے۔اتفاق کہہ سکتے ہیں یا پریشان کن حالات کہہ سکتے ہیں کہ اس مرتبہ جمہوری اداروں سے زیادہ سپریم کورٹ تشویش میں مبتلا ہے۔اس کے تبصرے آنکھ کھولنے والے ہیں۔سپریم کورٹ نے ایک نایاب کام اور کیا ہے،اس نے نہ صرف ٹو جی اسپیکٹرم گھوٹالے پر سخت تبصرہ کیا ہے بلکہ الہ آباد ہائی کورٹ پر بھی سخت تبصرہ کیا ہے۔جب سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ میں چل رہی گندگی سے پریشان ہوجائے تو نزاکت سبھی کو سمجھ لینی چاہئے۔
کانگریس کے سامنے کوئی چنوتی نہیں تھی نہ وزیر اعظم یا سونیا گاندھی کا اسپیکٹرم گھوٹالے میں نام آرہا ہے،لیکن خاموش رہنے اور کھلی آنکھوں بدعنوانی دیکھنے کے گنہگار تو یہ ہیں ہی،لیکن سب سے زیادہ تعجب تب ہوتا ہے جب کانگریس کی حمایتی پارٹیاں راشٹروادی کانگریس اور ترنمول کانگریس بھی کہہ دیں کہ جے پی سی بنا دینی چاہئے تو کیوں کانگریس اسے نہیں مان رہی؟اتنا ہی نہیں سر سے پیر تک سنی ڈی ایم کے بھی جب کہہ دے کہ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے تو کانگریس کا نہ ماننا مخالفین کو نئے ہتھیار دے دیگا۔
دو دلیل ہو سکتی ہیں کہ اگر جے پی سی کی جانچ چلتی ہے تو وہ کانگریس کے کچھ لیڈروں کے دروازے پر بھی پہنچ سکتی ہے اور دوسرا کہ اگر جے پی سی بنتی ہے تو اگلے تین سال جھوٹی سچی خبریںاخباروں میں آتی رہیں گی۔دونوں دلیلیں صحیح نہیں ہیں ۔کانگریس کے لیے سنہرا موقع ہے کہ وہ اپنے کوبالکل پاک صاف ثابت کرسکتی ہے اور اگر اس کا کوئی ممبر اس آنچ میں آتا بھی ہے تو اسے پریشان نہیں ہونا چاہئے۔اس سے پیچھا چھڑانا چاہئے۔دوسرا اخباروں میں خبریں چھپنے سے ووٹ نہیں گھٹتے ہیں اور نہ بڑھتے ہیں۔اس کی مثال بہار ہے جہاں کانگریس نے تشہیر پر کتنا خرچ کیا،ٹیلی ویژن ، اخبار،اشتہاروں سے،خبروں سے بھرے تھے،لیکن کتنے ووٹ ملے،243سیٹوں میں چار پر جیت ملی،200میں ضمانت ضبط ہوئی۔
کانگریس کو اپنی سیاست پر ،اپنی سمت پر گہرائی سے سوچنے کی ضرورت ہے ۔اگر بی جے پی کی کمزوریوں کو بھناکر ہی جیتنے کی اسکیم بنانی ہے تو بہار کی ہار کو پھر یاد کرنا چاہئے جہاں مسلمانوں تک نے نتیش کو پسند کیا ،کانگریس کو نہیں۔وقت بدل رہا ہے،نئے لوگ ووٹر بن رہے ہیں ۔پرانے لوگ وعدوں کا،خوابوں کا ٹوٹنا دیکھ رہے ہیں،ایک نئی سوچ آرہی ہے جو ذات اور مذہب سے تھوڑی سی الگ ہے۔اسے کانگریس کو پہچاننا چاہئے۔
کانگریس کی اے آئی سی سی کانفرنس ہوئی لیکن اس میں سے کوئی جوش نہیں نکلا،صرف سونیا گاندھی کو اگلا صدر بنانے کی یقین دہانی ہوئی۔اب کانگریس جنرل اجلاس ہونے جا رہا ہے۔کانگریس قیادت کا امتحان ہے کہ وہ کیسا پروگرام کانگریس کے لوگوں کے سامنے رکھتی ہے۔یہ پروگرام ہی اشارہ دے گا کہ بنگال ،آسام ، تمل ناڈو،اتر پردیش اور گجرات کے کانگریس کارکنان جوش میںآتے ہیں،جی جان سے پارٹی کو جتانے کی کوشش کرتے ہیںیا اسے اپنے حال پر چھوڑ دیتے ہیں۔کانگریس ایک غلطی کر چکی ہے کہ اس نے اے آئی سی سی میں انہیں زیادہ ترجیح نہیں دی جنہوں نے کام کیا ہے۔اگر ایسی غلطی امیدوار کے انتخاب میں بھی ہوئی تو پھر کانگریس کا بھگوان ہی مالک ہے۔
اتر پردیش میں تنظیمی ڈھانچہ کھڑا کرنے کا کام ریتا بہوگنا نہیں کر رہی ہیں بلکہ کانگریس جنرل سکریٹری  دگوجے سنگھ کر رہے ہیں۔ان کی حکمت عملی ہے کہ جلدی سے جلدی امیدواروں کا اعلان کردوپھر ان امیدواروں کے ارد گرد ہی تنظیم کا ڈھانچہ بناؤ۔امیدوار ضرور بوتھ سطح کی کمیٹیاں بنائے گا،اس سے کانگریس کا گاؤں تک کا نیا ڈھانچہ کھڑا ہو جائے گا۔راہل گاندھی نے اس اسکیم کو منظوری دے دی ہے۔امید ہے کہ جنوری تک شاید اتر پردیش میں کانگریس اسمبلی کے لیے امیدواروں کی ایک بڑی فہرست جاری کر دے۔
بہار کے بعد یہ دوسرا تجربہ ہوگا۔اس تجربے میں ایک ہی خطرہ ہے کہ کانگریس نے اگر30فیصد بھی غلط امیدواروں کو ٹکٹ دئے تو پوری تنظیم ہی بے مستقبل ہو جائے گی۔ان ساری ریاستوں میں خاص طور پر اتر پردیش میںاگر کسی کی صلاحیت کا امتحان ہونا ہے تو وہ راہل گاندھی کا ہونا ہے۔راہل گاندھی کانگریس کے بلا اعلان سبھی کے منظور کردہ مستقبل کے وزیر اعظم ہیں۔ان کے خیالات ،ان کادماغ ان کی زبان اور ان کی سمجھ کے ساتھ تنظیمی صلاحیت کا بھی امتحان ان انتخابات میں ہوگا۔میٹنگوں میں آنے والی بھیڑ کوووٹ میں بدلنے کی صلاحیت بھی راہل کو دکھانا ہوگی۔اس میں وہ اکیلے ہوں گے،ان کی مدد ان کی ماں نہیں کر پائیں گی کیونکہ جب سوال ہوں گے تو صرف وہی جواب دیں گے۔راہل گاندھی پچھلی بنگال یاترا میں شانتی نکیتن گئے تھے۔ وہاں طلبہ نے ان سے پوچھا کہ جب وہ وزیر اعظم بنیں گے تو تعلیم میں بدلائو کا ان کا کیا خاکہ ہوگا۔راہل گاندھی نے جواب دیاان کے پاس وزیر اعظم بننے سے ضروری کام ہیں، سوال یہ نہیں تھا سوال تھا تعلیم میں بدلائو کا کوئی نقشہ ان کے پاس ہے یا نہیں۔وہ سوال ٹال گئے۔ شانتی نکیتن کے طلبا مایوس ہوئے، ملک کے وزیر اعظم کے عہدے پر جانے والے کو بہت سے سوالوں کے جواب آنے چاہئیں اور یہی امتحان راہل گاندھی کا آنے والے ریاستوں کے اسمبلی انتخابات میں ہونے والا ہے، جس کی ابتدا کانگریس کے جنرل اجلاس میں ہو نی چاہئے۔
ملک کے کانگریسی جاننا چاہیں گے ، ملک کے لوگ جاننا چاہیں گے کہ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی ملک کے مسائل پر کیا بولتے ہیں۔گذشتہ اے آئی سی سی میں بدعنوانی کے سوال پر کسی نے منہ نہیں کھولا اور آج بدعنوانی کا سوال ملک میں چہار جانب کھڑا ہو گیا ہے۔ اس جنرل اجلاس میں کانگریس کے صدر اور اس جنرل سکریٹری صاحبان بد عنوانی پر کوئی بات کہتے بھی ہیں یا نہیںیہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔غیر بی جے پی پارٹیوں کی غیر موجودگی نے کانگریس کی اہمیت بڑھا دی ہے، لیکن اس اہمیت کو ثابت کرنا خود کانگریس کے ہاتھ میں ہے۔ کانگریس اگر متوازن نہیں رہی تو یہ اپنے آپ مصیبت بلانے والی پارٹی بن جائے گی۔جیسے اس نے راجا کی بدعنوانی کی مصیبت اپنے سر لے لی اس لیے کانگریس کے لیے امتحان تو ہے ہی۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

2 thoughts on “یہ کانگریس کے امتحان کا وقت ہے

  • February 13, 2011 at 2:50 pm
    Permalink

    آپ کو چاہیے کہ اور بھی موضوعات امتحان سے ریلاٹڈپر ارتیکلیس لِکیے براے مہربانی مجھے امتحان کامیابی کی راه ہے پر مضمون لکھ دھیں
    شکریہ

    Reply
  • December 29, 2010 at 12:43 pm
    Permalink

    کانگریس اترپردیش میں بس تجربہ ہی کر پاے گی، کامیابی کا خیال ترک کردے ، کانگریس سے لوگ اوب رہے ہیں اب جناب ! جے پی سی سے بھی کچھ نہیں ہونے والا سنتوش جی، گھپلے بازی میں کیا بھاجپا کسی سے کم ہے؟ سرکاری تنتر کو سب مل کے اپنے فائدے کے لئے استعمال کر رہے ہیں. نیتا اور افسر مل کے دیش کو لوٹ رہے ہیں، اب تو دلالوں کا بول بالا ہے، رہی سہی کسر دھرم کے ٹھیکیدار پوری کر رہے ہیں.

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *