راجیو کمار
مصر میں پارلیمانی انتخابات شروع ہو چکے ہیں۔ تین مرحلوں میں ہونے والے یہ انتخابات جنوری تک چلیں گے۔ پہلے مرحلہ کا انتخاب پورا ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے بھی آ چکے ہیں۔ جو نتائج سامنے آئے ہیں، ان پر کئی سوال اٹھائے جا سکتے ہیں۔ حالانکہ یہ کوئی حیران کن نتائج نہیں ہیں۔ پہلے سے ہی اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ مسلم بردرہوڈ سے وابستہ پارٹیوں کو انتخاب میں زیادہ فائدہ مل سکتا ہے، لیکن پھر بھی اس بات کی امید ضرور تھی کہ جمہوریت کے لیے جدو جہد کرنے والے مصر کے عوام جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو سمجھیں گے، لیکن وہ اس امید پر کھرے نہیں اترے۔ اس انتخاب میں مذہبی پارٹیوں کو سیکولر پارٹیوں کے مقابلے کافی زیادہ ووٹ ملے۔ پہلے مرحلہ کے اس انتخاب میں 62 فیصد پولنگ ہوئی، جس میں 65 فیصد ووٹ اسلامی پارٹیوں کو ملے۔ مسلم بردر ہوڈ سے وابستہ پارٹیوں کا بول بالا دیکھنے کو ملا۔ فریڈم اینڈ جسٹس پارٹی (ایف جے پی) کو 36.6 فیصد ووٹ ملے۔ دوسرے نمبر پر بھی اسلامی پارٹی ہی رہی۔ النور پارٹی کو اس انتخاب میں 24.4 فیصد ووٹ ملے۔ وہیں دوسری طرف جس پارٹی نے سیکولرزم کی بات کی، وہ حاشیے پر چلی گئی۔ سیکولرزم کی بات کرنے والی پارٹی اجپشین بلاک کو صرف 13.4 فیصد ووٹ ملے۔ دیگر پارٹیوں کو بھی تھوڑے بہت ووٹ مل گئے۔
اگر نتیجے پر غور کیا جائے تو اسلامی قانون کی پیروکاری کرنے والی پارٹیوں کو ہی اس انتخاب میں اکثریت ملنے کی بات کہی جا سکتی ہے۔ حالانکہ ابھی دو مراحل کے انتخاب باقی ہیں اور جب تک ان کے نتیجے نہیں آ جاتے، تب تک پوری طرح نہیں کہا جاسکتا کہ عوام مذہبی پارٹیوں کے حق میں ہیں یا سیکولر جمہوری پارٹیوں کے۔ جو نتیجے سامنے ہیں، ان سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ابھی بھی مصر کے لوگ جمہوری اقدار کے تئیں پوری طرح سنجیدہ نہیں دکھائی دے رہے ہیں۔ جمہوریت ایک جدید حکومتی نظام ہے، جس کے اپنے کچھ پیمانے ہیں۔ اگر ان پیمانوں پر ملک کے عوام کھرے نہیں اترتے تو پھر کیسے کہا جاسکتا ہے کہ لوگ وہاں صحیح معنوں میں جمہوریت چاہتے ہیں۔ جمہوریت کی سب سے بڑی بنیاد ہے ذات، مذہب، فرقہ سے اوپر اٹھ کر ملک اور عوام کی بھلائی کے لیے سرگرم پارٹی کے حق میں ووٹنگ کرنا۔ جمہوریت کا مطلب ہوتا ہے عوام کی حکومت، جس میں ہر طبقہ، مسلک، مذہب کے لوگوں کے حقوق کا تحفظ کیا جاسکے۔ اس انتخاب کے نتائج پر نظر ڈالنے کے بعد کیا ایسا لگتا ہے کہ مصر کے عوام صحیح معنوں میں جمہوری نظام اپنانے کے لیے ذہنی طور پر تیار ہیں۔ یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اسلامی پارٹیوں نے حسنی مبارک کو عہدہ سے ہٹنے کو مجبور کرنے کے لیے کوئی کام نہیں کیا۔ تحریر چوک پر انہوں نے بھی مظاہرے کیے تھے، لیکن وہاں کے نوجوان، جو کسی پارٹی کی حمایت کے بغیر اس تاناشاہی کے خلاف آواز اٹھا رہے تھے، وہ کیا یہی چاہ رہے تھے کہ حکومت تبدیل تو ہو، لیکن اس تبدیلی کی بنیاد اتنی محدود ہو کہ مذہب سے اوپر اٹھا نہ جا سکے۔ اگر ایسا ہے تو پھر اسے جمہوری ذہنیت کیسے کہا جاسکتا ہے۔ ایسی جمہوریت میں اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کیسے ہو سکتا ہے۔
غور طلب ہے کہ مصر کی آئین سازی کے لیے تشکیل دی جانے والی کمیٹی کا فیصلہ بھی اسی پارلیمنٹ کے ذریعے کیا جائے گا۔ ایسی حالت میں اس آئین پر مذہب کا اچھا خاصا اثر ہوگا۔ اس میں کس طبقہ کو کتنا اختیار دیا جائے گا، عورتوں کو کن کن حقوق سے محروم رکھا جائے گا، اس کا تو صرف اندازہ ہی لگایا جاسکتا ہے۔ مصر کے عوام نے اگر سیکولر پارٹیوں کو موقع دیا ہوتا تو آگے کے لیے راستہ نکل سکتا تھا، لیکن اس نے غلط روایت ایجاد کی۔ اب تو صرف یہی پیغام جائے گا کہ ووٹ لینے کے لیے مذہب کا سہارا لیا جائے، نہ کہ ترقی کا۔ جن پارٹیوں نے سیکولر ملک کی بات کی تھی، وہ بھی اپنی آگے کی حکمت عملی پر غور کریں گے کہ اگر انہیں اقتدار میں آنا ہے تو کون سا راستہ اپنانا چاہیے۔ اگر عوام نے مسلم بردرہوڈ سے وابستہ اسلامی پارٹیوں پر صرف اتنا دباؤ ڈالا ہوتا کہ وہ اپنے مذہبی ایجنڈوں کو الگ کردیں تو وہ بھی جمہوریت کے قریب مانی جا سکتی تھیں۔ اگر یہ پارٹیاں عوام کی بات نہ مانتیں تو ان کے خلاف ووٹنگ کرکے یہ ثابت ہو سکتا تھا کہ ملک کے عوام حقیقی جمہوریت چاہتے ہیں، نہ کہ جمہوریت کے مکھوٹے میں لپٹا ایسا نظام، جو مذہب کے چنگل سے نکلنے کو تیار نہ ہو۔ اس انتخاب کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آج بھی لوگ جمہوریت کے اصولوں کو پہچان نہیں پائے ہیں۔ ایک طرح سے دیکھا جائے تو مصر میں جس قسم کا حکومتی نظام آنے والا ہے، وہ ایک محدود جمہوریت ہے۔   g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here