مستحسن ہے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان

Share Article
indian farmer

کسانوں کی قرض معافی کرکے کانگریس نے اچھا کام کیا ہے،اس سے بی جے پی بھی سبق لے۔ کسانوں کے غصے نے تین ریاستوں میں سرکاریں بدل دیں، سبھی پارٹیاں احتیاط برتیں۔

ایک دوست کا فون آیا۔ انہوں نے بتایا کہ کانگریس کے تینوں وزراء اعلیٰ نے کسانوں کی قرض معافی کا اعلان کیا ہے لیکن سلیب الگ الگ رکھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کانگریس کے لوگ ملک کو برباد کر دیں گے کیا؟میں نے پوچھا برباد کا مطلب کیا ہے؟کہنے لگے برباد کا مطلب یہ ہے کہ جتنے پیسوں کی قرض معافی انہوں نے کی ہے، وہ پیسہ لائیں گے کہاں سے؟میں فکر مند ہوا کہ ان کی تشویش تو صحیح ہے۔یہ تشویش کانگریس کی قرض معافی کے اعلان سے پیدا ہوئے ڈر کی وجہ سے ہے یا سچ مچ وہ ملک کی فکر کررہے ہیں۔
ابھی میں اس موضوع پر سوچ ہی رہا تھا کہ چھتیس گڑھ کے وزیر اعلیٰ بھوپیش بگھیل سے کسی صحافی نے ٹیلی ویژن پر ایسا ہی کوئی سوال پوچھ لیا۔ ان کا جواب سن کر مجھے اچھا لگا۔ انہوں نے جواب دیا کہ جو اَن داتا ہے، جو ملک کو چلاتا ہے، جو سب سے زیادہ نظر انداز کیا ہوا ہے، اس کی قرض معافی اگر ہم نے کی ہے اور اگر اس قرض کی بھرپائی ہماری ترقی کے کاموں پر یا کسی اور چیز پراثر ڈالتی ہے تو ہم اس کے لئے پھر قرض لیں گے۔ لیکن ہم اَن داتا کو اس کے قرض سے چھٹکارا دلائیں گے تاکہ وہ خود کشی نہ کرے۔ میں نے اپنے دوست کو جواب تو نہیں دیا کیونکہ وہ دل سے ہی بی جے پی کے حامی ہیں اور مودی جی کی اندھی تقلید کرنے والے ہیں۔میں ان کی تقلید کی قدر کرتا ہوں۔ میں نے سوچا کہ انہیں فون کروں، لیکن پھر سوچا کہ کہیں انہیں اور برا نہ لگے، تو مجھے خیال آیا کہ میں یہ سوال آپ سے ضرور شیئر کروں تاکہ آپ بھی بتائیں کہ کیا کسانوں کی قرض معافی کرکے کانگریس نے غلطی کی ہے؟

 

آخر مہنگائی کا حل ہے کیا؟

کانگریس نے انتخابات میں وعدہ کیا تھا کہ جیسے ہی ان کی سرکار بنے گی، اس کے وزیر اعلیٰ 10 دنوں کے اندر قرض معافی کا اعلان کر دیں گے لیکن یہاں تو کانگریس کے وزراء اعلیٰ نے پہلے ہی دن قرض معافی کا اعلان کر دیا۔ کمل ناتھ جو کہ مدھیہ پردیش کے وزیراعلیٰ ہیں، نے ایک گھنٹے کے اندر قرض معافی کی فائل پر دستخط کر دیئے تھے۔ اس چیز سے بی جے پی شاید تھوڑی حیران ہوئی اور اس کے دو وزراء اعلیٰ نے بھی قرض معافی کا اعلان کیا۔ تب مجھے یاد آیا کہ ہمارے محترم وزیراعظم نے 2014 سے کسانوں کی قرض معافی اور کسانوں کو ان کی فصل پر لاگت کا ڈیڑھ گنا فائدہ دینے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے ساڑھے چار سال میں کسانوں کے لئے کچھ نہیں کیا۔ جو کسانوں کے لئے کیا ،وہ نہ کرنے کے برابر ہے۔ نہ کرتے تو زیادہ اچھا ہوتا۔کیونکہ وہ کہیں گے کہ میں نے’ فصل بیمہ یوجنا ‘لاگو کیا۔ اب سوال ہے کہ اتنے سالوں میں کتنے کسانوں کو فصل کے بیمہ کا فائدہ ملا اور کتنے کسانوں نے فصل بیمہ ملنے کی وجہ سے خود کشی نہیں کی۔ یہ بحث کا موضوع ہے لیکن جو بحث کا موضوع نہیں ہے ،وہ ہے کسانوں کی قرض معافی، جس سے کسانوں کے آنسو پونچھے گئے ۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ کسان کے نام پر بڑے بڑے کارپوریٹس اور بڑے بڑے صنعتکار ، جنہوں نے کھیتی کرنی شروع کی ہے اور کسی نے کھیتی کے لئے پانچ سو تو کسی نے پانچ ہزار ایکڑ زمین لے رکھی ہے، کو قرض معافی کا فائدہ تو نہیں مل رہا ہے۔ اس چیز میں سرکار کو تھوڑا سا محتاط ہونا چاہئے کہ قرض معافی کا فائدہ انہیں ملے جو قرض کی وجہ سے خود کشی کرتے ہیں۔اگر بڑے صنعتکار اور سرمایہ دار جنہیں ہم کارپوریٹ کے نام سے جانتے ہیں، ان کو اگر قرض معافی کا فائدہ ملے گا تو یہ ملک کے کسانوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی لیکن آج کا موضوع یہ نہیں ہے۔ آج کا موضوع یہ ہے کہ کانگریس نے قرض معافی کی۔ لہٰذا ہمیں کانگریس کی اس رفتار کو یاد رکھنا چاہئے ۔ اب کانگریس کے سامنے برسوں سے جو چیلنجز ہیں، اس پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
کانگریس نے قرض معافی کی ،لیکن جو بچے ہوئے کسان ہیں جیسے جو کھیت مزور ہیں یا جو جانور پالتے ہیں۔یہ سب بھی اتنے ہی پریشان ہیں جتنا کہ فصل اگانے والے کسان ہیں۔کیا ان کے لئے کچھ ہو سکتا ہے؟کیا ہر بلاک میں کچھ زراعت پر مبنی صنعتیں لگ سکتی ہیں۔کسی بلاک کی جو بنیادی فصل ہو ،اس کو بنیاد بنا کر بلاک میں صنعت لگانے کی کوئی نئی اسکیم کانگریس کی یہ تینوں سرکاریں لا سکتی ہیں۔ یہ اب کانگریس کو دیکھنا ہوگا۔ منموہن سنگھ کے وقت تو اس پر کچھ نہیں سوچا گیا۔ اب جبکہ کمان راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے تو کیا وہ اس پر کچھ سوچ سکتے ہیں؟یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب نہیں ملے گا لیکن اگر ہر بلاک میں وہاں کی بنیادی فصل پر مبنی صنعتیں لگ جائیں تو یقینی طور سے ان لوگوں کو بڑا فائدہ ہوگا جو سیدھے کھیتی نہیں کرتے لیکن جن کی پوری زندگی کھیتی کے اوپر منحصر ہے۔

 

 

تین ریاستوں میں بی جے پی کی ہار سے نتیش اور پاسوان کو زبردست فائدہ

 

اب یہی چیلنج بی جے پی کے لئے ہے۔ بی جے پی کی مرکزمیں سرکار ہے۔ اگر وہ کسانوں کے لئے کچھ ایسا سوچ پائے جس سے ان کی خود کشیاں رک جائیں تو شاید اس سے اسے انتخابات میں کافی فائدہ ہو سکتا ہے۔ جہاں تک کسانوں کا مسئلہ ہے تو ابھی لوگوں کی نظر میں اس کا قد تھوڑا چھوٹا دکھائی دے رہا ہے ۔
آج کسانوں کے لئے جو اعلانات کانگریس نے کئے ہیں ،اگر بی جے پی کی سرکار کرتی تو بھی میں اس کا بھی اتنا ہی مداح ہوتا، لیکن آج یہ کام کانگریس نے کیا ہے تو مجھے اس کی تعریف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہو رہی ہے۔ یہ لوگوں کے فائدے کا کام ہے جو کانگریس نے کیا ہے۔ آگے بھی کرے گی تو لوگ اور خوش ہوں گے۔ہم بھی خوش ہوں گے کہ ملک کے لئے یا ملک کے کسانوں کے لئے یا ملک کے ایک بڑے طبقے کے لئے جو روٹی کھلاتا ہے ،اس کے لئے اس سرکار نے کام کیا ہے۔ کارپوریٹ کے لئے کام پہلے نہیں کیا، ہو سکتا ہے آگے ان کے لئے بھی کام کریں لیکن ابھی تو جو پہلا کام کیا ہے، وہ ملک کے سب سے کمزور طبقے کے لئے ہے۔
اسی طرح اپنے بچوں کو فوج میںبھیجنے والوں میں بھی کسان ہی آگے ہیں۔ فوج میں کسی صنعتکار کے بیٹے نہیں ہیں، نہ ہی کسی کاروباری کے بیٹے ہیں جو چھوٹی صنعت چلاتے ہیں۔لیکن جو کھیتی کرتا ہے اس کے بیٹے فوج میں سپاہی ہیں۔ وہ ملک پر مرنے کے لئے اپنے بیٹے کو بھی دیتا ہے اور ملک کے لوگوں کے پیٹ بھرنے کے لئے ہڈی توڑ محنت کرکے فصل بھی اگاتا ہے۔ اس کے لئے کسی سرکار نے پہلی ترجیحات کی بنیاد پر کام کیا ہے۔ ان تینوں سرکاروں کو میں دل سے مبارکباد دیتا ہوں اور ساتھ ہی یہ بھی امید کرتا ہوں کہ یہ ان طبقوں کے لئے بھی کام کریں گے جو کھیتی کے اوپر منحصرہیں، جانور پالتے ہیں یا کھیت میں مزدوری کر رہے ہیں۔ان کے علاوہ گائوں میں نائی ہیںِ باری ہیں جو پتّل بناتا ہے یا گائوں میں وہ جو انتہائی دلت ہیں، مہا دلت ہیں، جو ابھی بھی گندگی ڈھونے کا کام کرتے ہیں ،ان سب کی زندگی کسانوں کے گھروں سے دیئے گئے اناج کے اوپر چلتی ہے۔ لہٰذا اگر سرکاریں تھوڑا ان کے نظریئے سے بھی سوچیں گی تو ان لوگوں کو بھی فائدہ ملے گا۔
بی جے پی سے ایک بات کہتا ہوں کہ نریندر مودی جی کا ’سوچھتا ابھیان ‘ بہت اچھا پروگرام تھا لیکن وہ ’سوچھتا ابھیان ‘ ختم ہو گیا، اس کا مذاق اڑ گیا۔ مذاق یہ اڑا کہ نقلی ٹوائلٹ بنے۔جہاں بنے وہاں پانی نہیں ہے ، سرکار نے یہ نہیں سوچا کہ ہم ٹوائلٹ بنوا رہے تو اس کو فلش کرنے کے لئے پانی بھی چاہئے۔ گائوں میں تو سینچائی کے لئے بھی پانی نہیں ہے تو ٹوائلٹ کے لئے کہاں سے آئے گا۔ پینے کا پانی ختم ہو رہا ہے۔ ابھی ہمارے ایک معاون بتا رہے تھے کہ پاکستان میں یہ حالات ہیں کہ 2025 میں پینے کا پانی ختم ہو جائے گا۔ اب وہ مسکرا رہے تھے کہ پاکستان ختم ہو جائے گا۔ اس کے اوپر ہمارے یہاں بہت سارے لوگ خوش ہو رہے ہوں گے اور وہ خوش ہونے والے یہ نہیں جانتے ہیں کہ 2025 میں ہندوستان میں بھی پینے کا پانی ختم ہو جائے گا۔
یہاں کی سرکایں بھی ویسی ہی سست اور نالائق ہیں، جو پینے کے پانی کو ترجیح نہیں دے رہی ہیں۔ یہ لوگوں کو بارش کا پانی جمع کرنے کا صرف پیغام دے رہی ہیں، ان کی حوصلہ افزائی نہیں کررہی ہیں۔گائوں کے سارے تالاب ، جو پہلے پانی کو اکٹھا کرنے کا کام کرتے تھے، سارے سوکھے پڑے ہوئے ہیں۔ کیونکہ بہت ساری جگہوں پر تو اب تالاب رہے ہی نہیں۔ ان کے اوپر لوگوں نے قبضہ کر لیا ۔ سپریم کورٹ کہتا رہ گیا لیکن سرکاروں نے اس کے اوپر عمل نہیں کیا۔ اگر ان تالابوں کو خالی نہیں کرایا گیا تو 2025 میں ہم بھی پیاسے مرنے والے ہیں، صرف پاکستان ہی ہیں مرنے والا ہے۔ مرتے وقت ہم دونوں کی حالت ایک ہی ہوگی۔ آج بھلے ہی ہم پاکستان کو گالی دیں اور پاکستان ہمیں دھمکائے اور ہمارے یہاں دہشت گرد بھیجے لیکن ان کے وہ گھر والے جو 25سال بعد زندہ رہیں گے ،شاید انہیں ان کی فکر نہیں ہے کہ وہ بغیر پانی کے مر جائیں گے اور ان کے لئے کسی بم اور بندوق کی ضرورت نہیں ہے۔ اس میں پورا پاکستان سمٹ جائے گا اور جنگ ہو جائے گی، ہندوستان میں بھی ویسا ہی ہو جائے گا۔
بہر حال آج کسان کے لئے مدھیہ پردیش، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی سرکاروں نے جو کیا اس کا خیر مقدم ہونا چاہئے۔ جنہیں استقبال نہیں کرنا ہے، وہ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ پیسہ آئے گا کہاں سے۔ جب اس ملک کے امیروں کا تین تین لاکھ کروڑ روپے معاف ہو جاتا ہے ، جب اس ملک کے وہ صنعتکار جو اس وقت کی سرکار کے لاڈلے ہوتے ہیں، ہندوستان سے سارا پیسہ سمیٹ کر بھاگ جاتے ہیں، اپنی صنعتوں کو این پی اے قرار دیتے ہیں اور سرکار سے بھی پیسہ مانگتے ہیں کہ وہ پیسہ تو انہوں نے غیر ملک میں بھیج دیا اب انہیں نئے سرے سے پیسہ ملے گا اور سرکاریں بھی صنعت چلانے کے نام پر اس کے برے میں سوچتی ہیں۔ لیکن یہ نہیں سوچتی ہیں کہ ہم ایسے طریقے نکالیں، تاکہ صنعت چلیں اور کوئی پیسہ لے کر نہیں بھاگ سکے۔
صنعتکاروں کے پیسے معاف کرنے کے اوپر کسی اخبار یا کسی چینل کی آنکھ ٹیڑھی نہیں ہوتی ، لیکن کسان کے لئے کوئی قرض دے تو ساری بیوروکریسی ، سارے بزنس مین، سارے سیاست داں کی آنکھیں کھڑی ہو جاتی ہیں کہ کسانوں کو پیسے مل گئے۔ ان کی حیثیت کیا ہے؟ملٹی نیشنل بزنس کے حامی لوگ ، اوپن مارکیٹ کے حامی لوگ کسانوں کا بھلا چاہتے ہی نہیں ۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ کسانوں کو قرض سے نجات ملے۔ وہ نہیں چاہتے کہ کسان اپنے پیروں پر کھڑا ہو ۔ وہ چاہتے ہیں کہ کسان خود کشی کرتا رہے۔ اس کی بیٹی بھاگ جائے اور اس دھندے میں پڑ جائے جو شرمناک دھندہ ہے۔ اس کا بیٹا بندوق اٹھا کر لوٹ مار کرنے لگے، جرائم پیشہ بن جائے۔ سچائی یہی ہے کہ جب کاروباریوں کے قرض معاف ہوتے ہیں تو کسی کو فکر نہیں ہوتی ہے ۔ کسانوں کا تھوڑا سا قرض معاف ہوتا ہے تو لوگوں کو ملک کی اقتصادیات نظر آنے لگتی ہے۔

 

 

اٹل بہاری واجپئی کی یاد میں 100 روپے کاسکہ جاری

 

کسانوں کے لئے اب تک کچھ نہیں ہوا تب اقتصادیات کی جو حالت ہے اگر کسانوں کے لئے کچھ کر دیا گیا تو شاید اقتصادیات سدھر سکتی ہے۔کیونکہ تب کسان تھوڑا اور ہمت کے ساتھ اس ملک کی اقتصادیات ، جسے ہم جی ڈی پی کہتے ہیں، میں اپنی شراکت دے گا۔مجھے کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہے یہ کہنے میں کہ میں کسانوں کا حامی ہوں۔ مجھ سے ان کے آنسو، ان کی خود کشی نہیں دیکھی جاتی ہے۔ ابھی کچھ دنوں پہلے ہی پھر ایک کسان نے مہاراشٹر میں خود کشی کی ہے۔ سرکار کو شرم نہیں آئی لیکن ہمیں شرم آئی کہ ہم ایسے ملک میں ہیں جس ملک میں سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کسان خود کشی کر رہا ہے۔ کیونکہ سرکار کوئی بھی ایسی اسکیم نہیں بنا پا رہی ہے کہ کسانوں کے بنیاد ی مسائل کا حل نکل سکے۔
امید ہے کہ آنے والی سرکاریں اس مسئلے پر سوچیں گی اور اگر نہیں سوچیں گی تو وہ کسانوں کے غصے کی ویسی ہی حصہ دار ہوں گی،انہیں اسیا ہی نتیجہ بھگتنا پڑے گا جیسے ان تین ریاستوں کی سرکاروں کو بھگتنا پڑا اور وہاں سرکاریں بدل گئیں۔ اس وقت کسانوں کو بھروسہ نہیں تھا کہ وہ سرکار بدل سکتے ہیں لیکن اس الیکشن میں انہوں نے بھروسہ دلایا کہ ہم سرکار بدل سکتے ہیں۔ اس لئے لوک سبھا کے انتخابات میں جو برسراقتدار سرکار ہے، اسے بہت محتاط رہنا پڑے گا اور جو پارٹیاں انہیں مرکز میں بدلنا چاہتی ہیں، انہیں بھی ہوشیار ہونا ہوگا۔کیونکہ اگر وہ کسانوں کے اوپر اسکیمیں بنانے میں تیزی نہیں دکھاتی ہیں اور اس کے اوپر معقول عمل درآمد نہیں کرتی ہیں تو ان کا بھی حال وہی ہوگا جو اس الیکشن میں ہارنے والی پارٹیوں کا ہوا ہے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *