یہ بہار اور ترقی کی جیت ہے

Share Article

سنتوش بھارتیہ
دو  کہاوتیں ہیں۔ ایک لالو یادو اور ایک رام ولاس پاسوان پر اور ایک کانگریس پر نافذ ہوتی ہے۔ کچھوے اور خرگوش کی دوڑ کی کہانی ہم سب نے بچپن میں پڑھی بھی ہے اور زندگی میں کئی بار سنی بھی ہے۔ خرگوش سوچتا تھا کہ کچھوا کہاں اس کے سامنے دوڑ پائے گا، اس لیے آرام کر لو، بعد میں دوڑ کر ہرا ہی دوںگا۔ لالو یادو کو لگتا تھا کہ وہ اور رام ولاس پاسوان مل جائیںگے تو طاقتور دو سماجوں کا گٹھ جوڑ ہوجائے گا۔ یادو اور پاسوان اور پھر مسلمان ان کے ساتھ رہے گا ہی۔ وہ بی جے پی کے ساتھ جائے گا نہیں۔ دونوں نے خرگوش کی طرح سوچا اور آرام سے چھ مہینے پہلے 15سال پرانی حکمت عملی پر عمل کرنے لگے۔ نتیش نے دو سال میں خاموش بیداری پیدا کر دی،  امیدیں پیدا کر دیں۔ کچھوا جیت گیا اور ایک بار پھر خرگوش ہار گیا۔
کانگریس نے حساب لگایا کہ اگر وہ تمام 243سیٹوں پر انتخاب لڑے تو کم سے کم 40سیٹیں ملیںگی۔ راہل گاندھی نے جم کر پرچار کیا۔ انتخاب سے قبل راہل گاندھی پٹنہ میں لڑکیوں کے کالج میں گئے۔ کہا کہ نوجوانوں کو ٹکٹ دیںگے،لیکن ٹکٹ تقسیم تو ہو ئے ، لیکن ملے انہیں، جنہوں نے ٹکٹوں کے لیے پیسہ دیا۔ پانچ یا سات بڑے لوگوں کی سفارشوں سے ٹکٹ تقسیم ہوئے، جن میں ٹھیکیداروں نے پیسے لیے۔ پارٹی کی کوئی حکمت عملی تھی ہی نہیں۔ سارا حساب کتاب صحیح تھا کہ 243میں چالیس سیٹیں آ جائیںگی اور کانگریس بیلینسنگ حالت میں آ جائے گی۔ کانگریس کا یہ حساب ندی کے کنارے کھڑے اس آدمی کی طرح تھا، جس نے ندی کی گہرائی کا اوسط نکالا اور ندی پار کرنے لگا۔ ندی پار کرنے کے بعد دیکھا کہ اس کا لڑکا ہے ہی نہیں، وہ ڈوب گیا تھا۔ وہ سوچنے لگا کہ اوسط تو ٹھیک تھا، پھر لڑکا ڈوبا کیوں۔ بہار کی انتخابی ندی میں کانگریس کا لڑکا ڈوب گیا، اب کانگریس حساب کتاب کر رہی ہے۔
اس بار بہار کے انتخابات کی خاصیت یہ بھی رہی کہ ریاست کے عوام نے مذہب کے نام پر ووٹ کو تقسیم نہیں ہونے دیا۔ بہار کے مسلم ووٹروں نے اس انتخاب میں سب سے اہم پیغام دیا ہے۔ پہلی بار بہار کے مسلمانوں نے جذباتی ایشوز کو درکنار کر کے ووٹنگ کی ہے۔ پہلی بار بہار کے مسلمانوں نے پوری ریاست کے مسائل، ترقی اور سماجی-معاشی ایشوز سے خود کو جوڑ کر ووٹنگ کی ہے۔ پہلی بار بہار کے مسلمانوں نے سیاست کی مین اسٹریم میں حصہ لیا اور انتخابی نتائج کی رنگت ہی بدل دی۔ بہار میں 16.5فیصد آبادی مسلمانوں کی ہے۔ ریاست کے 87فیصد مسلمان گاؤں میں رہتے ہیں، صرف 13فیصد شہر میںرہتے ہیں۔ بہار میں مسلمان سب سے پسماندہ طبقہ ہے۔ گاؤں کی حالت خراب ہے۔ مسلمان غریب ہیں، ناخواندہ ہیں، بیروزگار ہیں، زیادہ تر مسلمان بے زمین یا چھوٹے کسان ہیں۔ انتخاب کے وقت ہر پارٹی خود کو ان کا مسیحا ثابت کرنے میں لگ جاتی ہے۔ کوئی مسلمان وزیراعلیٰ بنانے کا بھروسہ دیتا ہے تو کوئی ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی یقین دہانی کراتا ہے۔آزادی حاصل ہوئے 63سال ہو گئے۔ بہار میں ہر رنگ کی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں، لیکن مسلمانوں کی حالت سالہا سال خراب ہوتی چلی گئی۔ مسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کا ووٹ پانے والی پارٹیاں ان کے مسائل کو حل کرنا تو دور، الیکشن کے بعد ان کے لیے آواز بھی بلند نہیں کرتیں۔ کچھ لیڈروں اور سیاسی جماعتوں کو لگتا ہے کہ جذباتی موضوع میں الجھا کر ووٹ حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس بار ایسے لیڈروں اور جماعتوں کو بہار کے مسلمانوں نے ٹھکرا دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کو حمایت دینے والی بہار کی اقلیتوں نے ان کا دامن چھوڑ دیا۔ کانگریس پارٹی نے تقریباً پچاس مسلم امیدواروں کو میدان میں اتارا اور انتخابات سے کچھ وقت پہلے ایک مسلمان کو کانگریس کا صوبائی صدر بنادیا، لیکن اس حکمت عملی سے کانگریس کو فائدہ نہیں پہنچا اور پارٹی صرف چار سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی۔ بہار میں تقریباً 54سیٹیں ایسی ہیں، جہاں مسلم ووٹروںکی تعداد 20فیصد سے زیادہ ہے، ان انتخابی حلقوں میں مسلمانوں کی حمایت فیصلہ کن ہوتی ہے۔ حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان 54سیٹوں میں سے 40سے زیادہ سیٹوں پر جنتادل یونائیٹڈ اور بی جے پی نے جیت حاصل کی ہے۔ ان سیٹوں پر بی جے پی یا جنتا دل یونائیٹڈ کی جیت کا مطلب تو یہی ہے کہ بہار کے مسلمان اور دوسرے فرقے کے لوگ ایک ہی انداز میں سوچ رہے تھے۔ اردو ٹیچروں کی بحالی، بہار میں سڑکوں کی تعمیر، طبی خدمات میں اضافہ اور لااینڈ آرڈر کا بہتر ہونا بہار کے مسلمانوں کو بھی پسند آیا۔ انتخابات کے نتائج اس بات کو ثابت کرتے ہیں کہ دوسرے فرقوں کی طرح بہار کے مسلمانوں نے بھی ایک بہتر سرکار اور ترقی کے حق میں ووٹ دیا۔ گویا یہ کہاجاسکتا ہے کہ ہندوستان کی انتخابی سیاست میں یہ الیکشن میل کا پتھر ثابت ہوگا۔
بہار انتخابات کے نتائج کئی معنوں میں تاریخی ہیں۔ سب سے پہلی وجہ یہ ہے کہ بہار کے عوام نے انتخابات کو ذات پات کے بندھن سے آزاد کردیا ہے۔ بہار انتخابات میں نتیش کمار نے ترقی کے رتھ پر سوار ہو کر جو تیر چلایا، وہ بالکل نشانے پر لگا، جس میں لالو پرساد یادو کی لالٹین بجھ گئی تو رام ولاس پاسوان کی جھونپڑی بھی اڑ گئی۔ سونیا گاندھی اور راہل گاندھی کے ہاتھ بہار کی سیاست میں اوجھل ہوگئے۔ کافی سالوں بعد ایک اچھی سرکار کا ذائقہ چکھنے والے عوام نے نتیش کو پھر سے وزیراعلیٰ بنایا ہے۔ ریاست کو آگے لے جانے کی ذمہ داری پھر سے انہیں سونپی ہے۔ این ڈی اے اتحاد کو تین چوتھائی اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ نتیش کمار کی جنتادل یونائیٹڈ کو 115سیٹیں ملیں، جب کہ اس کی اتحادی بی جے پی کو 91سیٹیں ملیں۔ دونوں پارٹیوں نے مجموعی طور پر 206سیٹوں پر جیت درج کی ہے، جب کہ راشٹریہ جنتادل اور لوک جن شکتی پارٹی اتحاد 25سیٹوں پر سمٹ کر رہ گیا، حالانکہ لالو یادو کا مسلم اور یادو ووٹ بینک اور رام ولاس پاسوان کا دلت ووٹ بینک کسی بھی طاقتور حریف کو انتخاب میں ہرانے کے لیے کافی ہے، لیکن انتخابات کے نتائج سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بہار کے عوام نے ووٹ بینک کی سیاست کو ٹھکرا دیا ہے۔
دراصل یہ بہار کے لوگوں کی جیت ہے۔ بہار کے عوام بہار کو ترقی کے راستے پر دیکھنا چاہتے ہیں۔ اب تک بہار کی سیاست میں ذات پات کی روٹی سینک کر راج کرنے والے راجا ہوتے تھے۔ سیاسی پارٹیوں نے یہ مان لیا تھا کہ بہار کے عوام صرف ذات کی بنیاد پر ووٹ ڈالتے ہیں، لیکن لوگوں نے ووٹنگ میں اس مرتبہ جو حوصلہ دکھایا، نوجوانوں اور خاص طور سے خواتین نے جس طرح آگے بڑھ کر حصہ لیا۔ اس سے یہی نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ بہار کے عوام نے اس الیکشن میں ذات پات کی دیوار گرا دی۔ ووٹ بینک کی سیاست کو ٹھکرا دیا۔ بہار کے لوگ آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ وہ اس تاریک دور میں پھر سے نہیں جانا چاہتے، جہاں خوف اور مایوسی زندگی کا حصہ بن چکی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ لالو یادو اور رام ولاس پاسوان کی پارٹیوں کے روایتی حامیوں نے انہیں چھوڑ دیا، جس کے نتیجے میں سابق وزیراعلیٰ اور راشٹریہ جنتا دل کے صدر لالو پرساد یادو کی شریک حیات رابڑی دیوی راگھوپور اور سون پور دونوں اسمبلی حلقوں سے انتخاب ہار گئیں۔ اگر لوگوں نے ذات کے نام پر ووٹ دیا ہوتا تو رابڑی دیوی اپنے ہی گھر کی سیٹ راگھوپور سے کبھی نہیں ہارتیں۔رام ولاس پاسوان کے بھائیوں کو ہار کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ کانگریس پارٹی نے اس انتخاب میں کافی کنفیوژن پھیلایا، لیکن پارٹی کو محض چار سیٹیں ملی ہیں۔ کانگریس کے ریاستی صدر محبوب علی قیصر اور سادھو یادو کو بھی انتخاب میں شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ تجزیہ نگار یہ کہتے رہے کہ کانگریس پارٹی اعلیٰ ذات کی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہوگی، جس کا نقصان نتیش کمار کو ہوگا، لیکن بہار کے عوام ذات پات کی سیاست سے آگے نکل چکے تھے۔ نتیش کمار نے عوام کی نبض کو سمجھا۔ بدعنوانی کو ختم کرنے کا وعدہ کر کے ان کی حمایت حاصل کی۔ نتیش ترقی کے ایشو پر ڈٹے رہے۔ ذات پات کی سیاست اور ترقی کی اس لڑائی میں ووٹروں نے ترقی کو منتخب کیا۔ بہار کے عوام نے ایک ایسا فیصلہ سنایا، جس کی امید خود نتیش کمار کوبھی نہیں تھی۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *