اسرائیلی عدالت نے انسانیت کا مذاق اڑایا

Share Article


اسرائیلی عدالت کی فرقہ واریت اور تعصب کی مثال اس سے بڑی اور کیا ہوگی کہ معمولی گناہ پر ایک 17 سالہ بچے کو 35 سال قید اور 10 لاکھ شیکل (مقامی کرنسی ) جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔مرکزاطلاعات فلسطین کے مطابق کم عمر فلسطینی لڑکے ایھم ہاسم صباح کو اسرائیلی عدالت کی طرف سے 35 سال قید اور بھاری جرمانہ کی سزا سنائی گئی ہے۔ باسم صباح مقبوضہ بیت المقدس کے قلندیا پناہ گزین کیمپ کارہائشی ہے ۔یہ غیر انسانی سزا صہیونی عدالت’’عوفر‘‘ نے سنائی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ تین سال قبل ایہم صباح کو اسرائیلی فوج نے گولیاں مارنے اور زخمی کرنے کے بعد حراست میں لیا تھا۔اس کے کندھے اور بائیں پاؤں میں گولیاں ماری گئی تھیں جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوگیا تھا۔اسرائیلی فوج نے اسے اس کے ساتھی عمر الریماوی سمیت 2015 میں ایک اسرائیلی فوجی لیفی کو حملہ کر کے ہلاک کرنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *