یونائیٹڈ مسلم آف انڈیا کے زیراہتمام نیوسیلم پور میں مولانا محمد مخدوم حسینی کی صدارت میں عالم اسلام کے حق پسند مسلمانوں کے رہنما محمد مرسی کی رحلت پر تعزیتی میٹنگ کا انعقاد ہوا۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ محمد مرسی نے جس شان سے مصر میں پہلی بار منتخب صدر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی وہ یقینا قابل رشک ہے اور دنیا کے لیے مثال بھی۔ مگر افسوس صد افسوس کہ ان کی دلیرانہ قیادت عالم اسلام کے دشمنوں کو پسند نہیں آئی اور آمر السیسی جیسے شخص کے ذریعہ تختہ پلٹ دیا گیا نیز محمد مرسی سمیت ہزاروں اخوان المسلمون کے کارکنوں کو پابند سلاسل کردیا گیا اور ایک اندازے کے مطابق اب تک پچاس سے زائد نوجوانوں کو پھانسی دی جاچکی ہے۔ جبکہ ہزاروں کارکنان اب بھی پابند سلاسل ہیں اور انہی حالات میں محمد مرسی عدالت میں سماعت کے دوران اپنے رب سے جاملے۔ میٹنگ میں کہا گیا کہ حقوق انسانی کی تنظیموں کو مصر میں تختہ پلٹ کے بعد السیسی حکومت کے مخالفین کو جس طرح تشدد کا نشانہ بنایا جاچکا اور ہنوز سلسلہ جاری ہے، انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے آگے آنا چاہیے۔
 
 
میٹنگ میں اس امر پر افسوس کا اظہار بھی کیا گیا کہ عرب ممالک کی اندرونی سیاست کے سبب عالم اسلام کو جس قدر رسوائی کا سامنا ہے اس پر خود عرب حکمراں سرجوڑ کر بیٹھیں اور محاسبہ کریں۔ کیونکہ امریکہ اور روس کو اپنی چودھراہٹ بنائے رکھنے کے لیے اور ہتھیار فروخت کرنے کے لیے ایشیائی ممالک خاص طور سے عرب دنیا سب سے بہتر ثابت ہوچکے ہیں۔ اس لیے ان کی چال کو سمجھتے ہوئے ضروری ہے کہ ایشیائی ممالک اور عرب ممالک متحد ہوکر دنیا میں حقوق انسانی کی پامالی روکنے کے لیے امن و ترقی کا راستہ ہموار کریں۔ اظہار خیال کرنے والوں میں ڈاکٹر سیّد ابن علی رضا خلیل آبادی، ڈاکٹر شمشاد احمد خاں، ایڈووکیٹ سلیم ملک، کامریڈ بابو لال بھارتی، حکیم عطاء الرحمن اجملی، تحسین علی اساروی، محمد زاہد، ندیم عارف، محمد عابد انصاری اور محمد عمران قنوجی وغیرہ کے نام شامل ہیں۔ آخر میں دعائے مغفرت کی گئی۔
جاری کردہ
(محمد عمران قنوجی)
پریس سکریٹری، یونائیٹڈ مسلم آف انڈیا، نئی دہلی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here