اصلاح پسندانہ جمہوری قدریںاور دہشت زدہ ڈریگن

Share Article

میگھناد دیسائی
آخر کار ،ہندوستان نے ایک اچھا کام کیا؟ اس نے چین کے لی شیاباؤ کو ملے نوبل انعام کی تقریب میں شرکت کرنے کا فیصلہ کیا۔ہندوستان نے ان ممالک سے الگ رہنے کا فیصلہ کیا جواس معاملے میں چین کی حمایت میں تھے اور لی کو ملنے والے اعزاز کی تقریب کا بائیکاٹ کر رہے تھے۔اس ایشو پر چین کا ساتھ دینے والے اکثر ممالک کا ریکارڈ حقوق انسانی کے معاملے میں بہت برا رہا ہے۔میں جانتا ہوں، ان میں سے کئی ناوابستہ تحریک کے ممبر ہیںلیکن ایسی حالت میںہندوستان کا ناوابستہ تحریک میں بنے رہنا عجیب لگتا ہے۔
اس میں کچھ تعجب نہیں ہے کہ سعودی عرب ،کیوبااور صومالیہ ،چین کے ساتھ کھڑے نظر آئیں،لیکن عجیب بات یہ ہے کہ چین بین الاقوامی منظوری سے کیسے ڈرا ہوا ہے؟ایک غیر حامی آدمی کو ملے اعزاز سے چین اس قدر پریشان ہے کہ اس نے اس کے بائیکاٹ کا اعلان کردیا اور باقی ممالک سے بھی اس کے لیے اپیل کی۔یہی وجہ ہے کہ چین نے جلد بازی میں کنفوشیس انعام کا اعلان کردیا۔مجھے شک ہے کہ ہو نہ ہواگلے سال پھر ایک کسی ناراض چینی کو کہیں نوبل انعام نہ مل جائے۔
مجھے یاد آرہا ہے کہ کیسے 1958میںمتحدہ سوویت روس اپنے باشندے بورس پیسٹرینک کو ان کے ناول ڈاکٹر شیواگو کے لیے نوبل انعام ملنے پر ڈرا ہوا تھا۔ہمارے ملک میں بھی مقامی کمیونسٹ ہیں جو اس ناول کو پڑھے بغیر ہی اس کی مذمت کرتے نہیں تھکتے ۔ان میں سے اکثر کا کہنا ہے کہ بورس کو انعام دینے کے پیچھے امریکہ کی وہ سامراج پرست سوچ تھی جو روس کو بدنام کرنا چاہتی تھی۔چونکہ خرشچیو نے خود ہی اسٹالن کے کاموں کی زبردست مذمت کی تھی،ایسے میں میںنہیں جانتا کہ کوئی اور اس سے زیادہ برا کیا کر سکتا تھا۔
لیکن ایک طاقتور تاناشاہی حکومت کی یہ فطرت بھی ہوتی ہے۔یہ لوگ عام آدمی کی رائے سے ڈرتے ہیں،گھریلو اور بین الاقوامی دونوںسطح پر۔چین طاقتور ہے لیکن اس کی حکومت ایک بھر بھری چیز کی طرح ہے۔اگر آپ تھیان مین ٹیپ کارروائی کو غور سے پڑھیں تو آپ کو پتہ چلے گا کہ پولت بیورو کے بوڑھے ممبران کتنے ڈرے ہوئے تھے۔ان میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ وہ مخالفت کر رہے نوجوانوں سے بات چیت کر سکیں۔چینی حکومت اتنی ڈری ہوئی تھی کہ اس نے ان غیر مسلح نوجوانوں کے خلاف ٹینک کا استعمال کیا۔
اختلاف کے کسی مسئلے پر ہندوستان میں بھی کئی ایسے مواقع آئے ہیں جب حکومت نے صحیح قدم نہیں اٹھایا۔مقبول فدا حسین کی زبردستی ملک بدری اور ہندو انتہا پسندوں کے ذریعہ ان کی بے عزتی ایک دل دہلانے والا واقعہ تھا۔سلمان رشدی کی کتاب پر پابندی لگانے اور ایسے لوگوں کے ذریعہ اس کی نقلیں جلانے اور فساد پھیلانے کی کوشش،جنہوں نے کبھی اس کتاب کو پڑھا ہی نہیں،بھی ایسی مثالوں میں شامل ہے۔اس طرح آئین میں بنیادی حقوق کی موجودگی کے بعد بھی حکومت کتاب پر پابندی لگا کرایسے ممالک کی فہرست میں شامل ہو گئی جو ردعمل پرست مانے جاتے ہیں۔
چین کے معاملے میںبھی اگر دیکھا جائے تو یہ ہو سکتاہے کہ ہندوستان میں بھی کئی لوگ لی شیا باؤ کی قید کو جائز سمجھتے ہوں لیکن ایک ملک کے طور پر ہندوستان اس سوچ کا ساتھی نہیں بن سکتا ۔ہندوستان کا آئین ایک ایسا دستاویزہے جو اصلاح پسند جمہوری روایات کے تئیں ہندوستان کے لگاؤ کو یقینی بناتا ہے۔اسی روایت نے انگریزوں کے خلاف ہندوستان کی غیر مسلح تحریک کو راستہ دکھایا۔دراصل گاندھی جی،نہرو یاکانگریس کے اکثر لیڈروں نے برطانیہ میں رہنے کے دوران ہی ان اقدار کو اچھی طرح سمجھ لیا تھا۔دادابھائی نوروجی کے زمانے سے برطانوی سامراج کی بنیادی تنقید اسی بات کو لیکر تھی کہ ہندوستان میں برطانوی حکومت غیر برطانوی طریقے سے چل رہی تھی۔
بہت سے لوگوں کے لیے اس خیال کو قبول کرنے میں شرم محسوس ہوتی ہے کہ انسانی حقوق مغربی ممالک سے آیا ہے۔لیکن بہت کم لوگوں کو یہ معلوم ہے کہ ہندوستان کے ماضی نے ہی ہمیں بتایا ہے  کہ کیسے لوگوں کے درمیان برابری کے حقوق کی بات کی جا سکتی ہے۔اشوک یا اکبر کی بڑائی یا جہانگیر کا انصاف،یہ ایسی باتیں ہیں جن پر فخر کیا جا سکتا ہے۔لیکن مجموعی طور پر دیکھیں تو ہندوستانی سماج نے اس برابری کو کبھی قبول نہیں کیا۔دلت ہندوستان میں کبھی بھی برابر حقوق نہیں پا سکے۔مسلم بادشاہ بھی اسلام کے بنیادی اصول برابری کی بات کو نافذ نہیں کر پائے۔سچائی یہ ہے کہ غلامی کے دور نے اقتصادی استحصال کے باوجود ہندوستان کو جمہوری قدروں کو اپنانے کے حساب سے کافی کچھ دیا ہے۔آزادی کے 63سال بعدہندوستان غلامی کے دور کی بری یادوں کو پیچھے چھوڑ کر ایک اقتصادی پاور  بننے کی راہ میں آگے بڑھ رہا ہے۔ضرورت صرف اصلاح پسند جمہوری اقدار کی حفاظت کی ہے۔اگر ہندوستان اس چیز کو کھو دیتا ہے تویہ بھی چین کی طرح ایک دہشت کرنے والا تاناشاہ بن جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *