تیونس کی جنرل لیبر یونین ( یو جی ٹی ٹی ) نے گزشتہ دنوں دارالحکومت میں پارلیمان کے باہر احتجاجی مظاہرے کی اپیل کی تھی جس کے جواب میں تین ہزار سے زیادہ افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ وہ ’’تیونس برائے فروخت نہیں ‘‘، ’’اجرت میں اضافہ کوئی حمایت نہیں‘‘ اور 2011 میں عرب بہاریہ انقلاب کا مقبول عام نعرہ’’ کام ، آزادی اور قومی وقار‘‘ لگا رہے تھے۔یو جی ٹی ٹی 6 لاکھ 73 ہزار سے زیادہ سرکاری ملازمین کی تن خواہوں میں سرکاری کمپنیوں کے ملازمین کے مساوی اضافے کا مطالبہ کررہی ہے۔ان کی اْجرتوں میں ماہانہ صرف 15 سے 30 یورو ( 17 سے 34 ڈالر) کا اضافہ کیا گیا تھا۔
یو جی ٹی ٹی کے ڈپٹی سیکریٹری بوعلی مبارکی نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ 2019 کے قومی بجٹ میں اجرتوں میں اضافہ نہیں کیا گیا ہے۔ ہم مہنگائی کی شرح کے حساب سے تنخواہوں میں اضافہ چاہتے ہیں کیونکہ سرکاری ملازمین کی قوتِ خرید ختم ہوکررہ گئی ہے۔ حالیہ ہڑتال میں گذشتہ کئی عشروں کے بعد پہلی مرتبہ سرکاری ملازمین نے حصہ لیا اور یہ2013 کے بعد سب سے بڑی ملک گیر ہڑتال ہے۔اس میں وزارتوں ، اسپتالوں اور سرکاری اسکولوں کے ملازمین شریک تھے۔تیونس میں ایک طرف تو سرکاری ملازمین حکومت سے اپنی تن خواہوں میں اضافے کا مطالبہ کررہے ہیں جبکہ امداد دینے والے عالمی مالیاتی ادارے حکومت پر زور دے رہے ہیں کہ وہ بجٹ خسارے پر قابو پانے کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کو کنٹرول کرے۔
واضح رہے کہ آئی ایم ایف نے 2016 میں تیونس کو دو ارب چالیس کروڑ یورو کا قرض چار سال کی مدت کے لیے دیا تھا اور اس کے بدلے میں تیونسی حکومت نے اقتصادی اصلاحات کا وعدہ کیا تھا۔ تیونس کی سیاسی قیادت کے درمیان گذشتہ چند ماہ کے دوران اختیارات کے لیے رسہ کشی جاری رہی ہے جس کی وجہ سے حکومت معاشی اصلاحات پر مکمل طور پر عمل درآمد نہیں کرسکی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here