اس سچ کو کہنے کی ہمت کون کرے گا

Share Article

سنتوش بھارتیہ
انتخابات میں ہار کے بعد کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے ذریعے ہار کے اسباب تلاش کرنے میں کی گئی کوشش اور اس کا کیا نتیجہ نکلا، یہ جاننا ضروری ہے۔ پہلے انتخابات میں ہار کی وجہ تلاش کرنے اور ذمہ داری طے کرنے کے لیے پارٹی کے محاسباتی اجلاس ہوا کرتے تھے۔ اب ان اجلاس کا چلن بند ہو گیا ہے۔ اب پارٹی ایک کمیٹی بناتی ہے، جس میں تین یا چار ممبر ہوتے ہیں اور انہیں یہ ذمہ داری دی جاتی ہے کہ وہ پارٹی کی ہار کے اسباب کا پتہ لگائیں۔ کمیٹی کئی میٹنگیں کرتی ہے اور ایک رپورٹ دے دیتی ہے۔ اس رپورٹ پر نہ پارٹی کے اندر بات چیت ہوتی ہے اور نہ پارٹی کے باہر۔ یہ سیاسی پارٹیوں کے سکڑتے جانے کا ایک ثبوت ہے۔ کم سے کم دو پارٹیوں کے بارے میں تو ہمیشہ بات ہونی چاہیے، کیوں کہ یہ دونوں پارٹیاں دو اتحاد کی قائد پارٹی ہیں، بھارتیہ جنتا پارٹی این ڈی اے کی اور کانگریس یو پی اے کی۔
گزشتہ اسمبلی انتخابات کے بعد، کانگریس پارٹی اتر پردیش میں کیوں ہاری، یہ جاننے کے لیے اس نے ایک کمیٹی بنائی، جس کے ممبر شیلا دکشت، سشیل کمار شندے اور اے کے انٹونی تھے۔ اے کے انٹونی اس کمیٹی کے کوآرڈی نیٹر تھے، اس لیے اسے انٹونی کمیٹی کا نام دیا گیا۔ اس کمیٹی نے کتنی میٹنگیں کیں، کتنے لوگوں سے بات چیت کی، نہیں پتہ۔ اتر پردیش کے کانگریس کارکنان سے بھی بات چیت کی، یہ نہیں پتہ۔ اس کمیٹی نے ایک رپورٹ لکھی، جس نے نہ کانگریس پارٹی کے کارکنان کو متفکر کیا، نہ کانگریس کی صدر کو متفکر کیا اور نہ وزیر اعظم کو۔ اس رپورٹ نے کچھ نکات کو نشان زد کیا، جیسے تنظیم کی کمزوری، زمینی کارکنوں کی اندیکھی، کانگریسی لیڈروں کی آپسی گروہ بندی، لیڈروں کا بڑ بولا پن، نیتاؤں کے رشتہ داروں کو ٹکٹ دینا، امیدواروں کے انتخاب کا غلط طریقہ، بٹلہ ہاؤس اور مسلم ریزرویشن جیسے ایشوز اٹھانے کا غلط اثر اور پارٹی میں غیر شائستگی۔ اس کے علاوہ دو اور اسباب اس کمیٹی نے بتائے، جیسے پرسپشن آف کرپشن۔ مطلب، بدعنوانی کانگریس کی وجہ سے ہے، اس کا پرچار اور مہنگائی۔ان سارے اسباب کو دیکھیں اور اس کمیٹی کی رپورٹ کی زبان کو دیکھیں تو پائیں گے، جیسے کانگریس کی تنظیم کو کارکن چلا رہے ہیں، نہ کہ سونیا گاندھی اور منموہن سنگھ۔ یہ دونوں بیچارے ہیں، کیوں کہ جتنے اسباب بتائے گئے، ان کا ذمہ ایک طریقے سے کانگریس کارکنان پر ہی تھوپ دیا گیا۔ تنظیم کمزور ہے تو کارکنوں کی غلطی، نیتا بڑبولا پن کر رہے ہیں تو کارکنوں کی ذمہ داری، امیدوار منتخب ہوئے تو کارکنوں کی ذمہ داری۔ سوال یہ ہے کہ اس کمیٹی نے ان ساری چیزوں یا سارے اسباب کے ذمہ دار لوگوں کے نام کیوں نہیں دیے یا ذمہ داری کیوں نہیں طے کی۔
ہم جب باہر سے دیکھتے ہیں اور ہمیں دیکھنا چاہیے، کیوں کہ کانگریس پارٹی اور بھارتیہ جنتا پارٹی کوئی پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنیاں نہیں ہیں۔ یہ اس ملک میں جمہوریت کو چلانے والے دو اہم ہتھیار ہیں۔ اگر ان دونوں ہتھیاروں میں گڑبڑی آتی ہے تو ملک کی جمہوریت کے اوپر اس کا سیدھا اثر ہوتا ہے۔ اس لیے ہمیں یہ کہنے میں کوئی تذبذب نہیں ہے کہ انٹونی کمیٹی نے جتنے اسباب گنائے ہیں، ان کے لیے اگر کوئی ذمہ دار ہے یا اس ہار کی ذمہ داری طے ہوتی ہے تو وہ سیدھی سیدھی سونیا گاندھی کی ذمہ داری ہے، ان کی کور کمیٹی کی ذمہ داری ہے، ان کے سینئر وزیروں کی ذمہ داری ہے اور اتر پردیش میں انتخاب کے دولہے، انتخابی مہم کے دولہے راہل گاندھی کی ذمہ داری ہے۔ انہی لوگو ںکی وجہ سے تنظیم کمزور ہے، انہی لوگو ں کی وجہ سے لیڈروں میں گروہ بندی چل رہی ہے، انہی کے اندیکھے پن کی وجہ سے نیتاؤں نے بڑبولا پن کیا، نیتاؤں کے رشتہ داروں کو ٹکٹ ان کی آنکھ اور ناک کے نیچے جانتے بوجھتے دیے گئے۔ امیدواروں کے انتخاب کا سسٹم راہل گاندھی اور ان کے گہرے دوست کنشک سنگھ نے طے کیا۔ فرنٹ میں دگ وجے سنگھ اور پرویز ہاشمی کو رکھا گیا۔ اتنی بڑی تنظیم، اتنے بڑے لیڈر سونیا گاندھی، راہل گاندھی، احمد پٹیل، جناردَن دویدی اور موتی لال ووہرا! ان سبھی کے رہتے پارٹی میں غیر شائستگی کیسے بڑھ گئی، کون ذمہ دار ہے؟ اگر مانا جائے تو یہ سبھی ذمہ دار ہیں۔ اتر پردیش میں تو لوگوں نے ان کے بے پناہ عقل اور فہم کا فائدہ اٹھایا ہے۔ جس ایک بات کو نشان زد کرنا چاہیے، وہ یہ کہ ہمارے ملک میں سرکار میں جب پارٹی ہوتی ہے تو پارٹی اہم نہیں ہوتی، سرکار اہم ہو جاتی ہے۔ سرکار جو کرتی ہے، اس کا فائدہ یا نقصان پارٹی کو ملتا ہے۔ ملک یا اتر پردیش میں مرکزی حکومت کے کام کاج، مرکزی حکومت کے ذریعے کیے گئے کاموں کا فائدہ یا خمیازہ کانگریس کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ ہار کا اگر کوئی اور بڑا سبب ہے تو وہ یہ کہ لوگوں کا یہ مان لینا کہ کانگریس پارٹی بدعنوانی سے نہیں لڑ سکتی، بلکہ وہ بدعنوان لوگوں کو بچانے کا راستہ تلاش کرتی ہے، جسے انٹونی کمیٹی نے پرسپشن آف کرپشن کہا۔ ملک میں مہنگائی کی سب سے بڑی وجہ کانگریس پارٹی ہے۔ یہ دونوں چیزیں سونیا گاندھی سے کم اور منموہن سنگھ سے زیادہ جڑی ہیں۔ پرسپشن آف کرپشن کا اگر کوئی ذمہ دار ہے تو منموہن سنگھ ہیں اور پرائس رائز کا بھی اگر کوئی ذمہ دار ہے تو منموہن سنگھ ہیں۔ وزیر اعظم منموہن سنگھ کی سرکار میں کئی وزیر اعظم ہیں۔ منموہن سنگھ جی کے پاس وقت نہیں ہے کہ وہ ان وزرائے اعظم سے پوچھیں کہ آپ کیا کر رہے ہیں۔ یہ وزرائے اعظم اپنی اپنی وزارتوں میں من مانے فیصلے لیتے ہیں۔ کوئی کوآرڈی نیشن نہیں ہے اور اس کوآرڈی نیشن نہ ہونے کا سب سے بڑا فائدہ ان لوگوں کو ملتا ہے جو آرگنائزڈ یا سسٹیمیٹک کرپشن کے ایکسپرٹ ہیں۔ اس لیے جو بدعنوانی پہلے انفرادی طور پر ہوا کرتی تھی یا انفرادی طور پر ہو کرکے کچھ لاکھ یا کچھ کروڑ میں بندھ کر رہ جاتی تھی، اب وہ لاکھوں کروڑ میں پہنچ چکی ہے، کیوں کہ منموہن سنگھ کی سرکار نے، منموہن سنگھ کی قیادت میں بدعنوانی کو ایک لمیٹڈ کمپنی کی طرح ایک آرگنائزڈ سیکٹر میں بدل دیا ہے۔ اس لیے مہنگائی بڑھ رہی ہے اور مہنگائی جان بوجھ کر بڑھائی جا رہی ہے۔ ہمارے یہاں دنیا میں یہ چیز مہنگی ہے، دنیا میں وہ چیز مہنگی ہے، دنیا میں ایسا ہے، دنیا میں ویسا ہے کہہ کر ملک کے لوگوں کو بیوقوف بنایا جا رہا ہے۔ ہم نے کئی بار اعداد و شمار دیے اور رپورٹ شائع کی کہ یہ غلط ہے، لیکن اس غلط کو صحیح ثابت کرنے میں کانگریس پارٹی پوری طرح جٹی ہوئی ہے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اس کانگریس پارٹی میں ایک بھی لیڈر ایسا نہیں ہے، جو ہمت کرکے یہ کہہ سکے کہ ان اسباب کو، جنہیں انٹونی کمیٹی نے شیلا دکشت اور سشیل کمار شندے کے ساتھ مل کر نشان زد کیا ہے اور پہچان کی ہے، ان کے لیے کسے ذمہ دار مانا جائے۔ یہ مانگ کانگریس کے اندر اٹھانے والا ایک بھی آدمی نہیں ہے۔ 125 سال پرانی کانگریس، جو اپنے سینے پر مہاتما گاندھی، بال گنگا دھر تلک، جواہر لعل نہرو اور اندرا گاندھی جیسے شاندار تمغے لگائے ہوئے ہے، اس میں آج ایک بھی ایسا آدمی نہیں ہے، جو یہ سوال اٹھائے کہ اگر اسباب یہ ہیں تو ان کا ذمہ دار کون ہے۔ نہ کوئی یہ کہنے کی ہمت رکھتا ہے کہ پرسپشن آف کرپشن اور پرائس رائز کی ذمہ دار تو سرکار ہے۔ سرکار نے کیوں اس معاملے پر اتنی ڈھیل دے رکھی ہے یا کیوں پرسپشن آف کرپشن اور پرائس رائز کے ساتھ کھڑی دکھائی دے رہی ہے۔ اگر کانگریس کے اندر یہ سوال اٹھانے والا کوئی نہیں ہے تو اس طرح کی کمیٹیاں سوائے آئی کیو لگزری کے اور کچھ نہیں ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کے بارے میں بھی ایسی ہی باتیں کہہ سکتے ہیں، کیوں کہ بی جے پی کے صدر نتن گڈکری تقریباً ہر جگہ ناکام ہوئے ہیں، لیکن وہ دوسری بار صدر بننے کے لیے جوڑ توڑ بیٹھا رہے ہیں۔ اتر پردیش میں وہ کیوں سمٹ گئے، اس کے بارے میں وہ بات نہیں کرنا چاہتے ہیں۔ شاید بھارتیہ جنتا پارٹی کا کوئی بھی لیڈر اس بارے میں بات نہیں کرنا چاہتا۔ بھارتیہ جنتا پارٹی بھی اسی ڈپریشن، اسی مرض کا شکار ہے، جس کی شکار کانگریس پارٹی ہے۔ اب بھارتیہ جنتا پارٹی میں تب تک کوئی شعور نہیں آئے گا، جب تک لال کرشن اڈوانی اپنے غصے کا اظہار عام طور سے نہیں کریں گے۔ افسوس اس بات کا ہے کہ ہار کے اسباب سب کو معلوم ہیں، آئیڈنٹی فائی کر لیتے ہیں، لیکن ان اسباب کو دور کرنے کے لیے کوئی قدم نہیں اٹھایا جاتا۔ ہم عوام کو ایک اور نئے بھرم میں پڑتے ہوئے دیکھتے رہتے ہیں۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *