اس نظام کی حفاظت کرنا وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے

Share Article

اپنی بات کی شروعات میں جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ مفتی محمد سعید کے انتقال کی المناک خبرسے شروع کرنا چاہتا ہوں۔وہ کشمیر کے ایک پرانے لیڈر تھے اور جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ تھے۔ جب دہلی میں وی پی سنگھ وزیر اعظم بنے، تب انھوں نے مفتی محمد سعید کو ملک کا وزیر داخلہ مقررکیا۔ ان کے لےے اور ساتھ ہی کشمیر کے لےے یہ ایک بہت ہی اہم بات تھی، اہم حصولیابی تھی۔ ایک کشمیری کو پورے ملک کا وزیر داخلہ مقرر کیا جانا فخر کی بات تھی او ریہ کشمیری لوگوں کے لےے بہت اہم تھا۔ آپ موازنہ کریں یا نہ کریں، لیکن سچائی یہی ہے کہ پاکستان کبھی بھی اپنے قبضہ والے کشمیر کے کسی کشمیری کو ایسا اہم عہدہ نہیں دے گا۔ ایسا صرف ہندوستان میں ہی ممکن ہے۔ وی پی سنگھ کی سرکار زیادہ دنوںتک نہیں چلی، لیکن مفتی محمد سعید نے اچھا مظاہرہ کیاتھا۔ کشمیر میں جب مفتی نے اپنی پارٹی بنائی، اس کے بعد سے دو اہم پارٹیاں رہیں۔ مفتی کی پارٹی پی ڈی پی اور فاروق عبداللہ کی نیشنل کانفرنس ۔ ابھی پی ڈی پی اور بی جے پی کی سرکار ہے اور اب محبوبہ مفتی وزیر اعلیٰ بنیںگی۔یہ جموںو کشمیر کے لےے اچھا ہوگا۔ میری طرف سے مفتی کو خراج تحسین اور میری تعزیت ان کے خاندان کے ساتھ ہے۔
اس کے بعد افسوسناک بات پٹھان کوٹ حملے کی۔ یہ متوقع تھا کہ دونوں ملکوں کی سرکاریں اگر نزدیک آتی ہےں، بات چیت کرتی ہےں، تو پاکستان کی فوج کچھ کرے گی۔ ایسا پہلے بھی ہوا ہے۔اس بار دو اہم باتیںہوئی ہیں۔ پہلی یہ کہ پہلے کی طرح پاکستان نے اس بار یہ تردید نہیںکی ہے کہ اس کے پیچھے اس کا ہاتھ نہیںہے، جیسا کہ اب تک وہ کرتا آیا ہے۔ لیکن سب سے چونکانے والی بات یہ ہے کہ اس میںہمارے اپنے لوگوں کے بھی شامل ہونے کی بات نکل کر سامنے آرہی ہے۔ یہ ایک سنگین بات ہے۔ یقینی طور پر ایک واقعہ سے تعلقات کو نہیں توڑنا چاہےے۔ اگر، پاکستان ایمانداری سے ایسی کارروائی کرتا ہے، جو ہمیںہوتی ہوئی دکھائی دے، تو ہمیںاس کے لےے شکریہ کہنا چاہےے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم غریبی، بے روزگاری، تعلیم کے مقابلے ڈیفنس پر ایک بہت بڑی رقم خرچ کررہے ہیں ۔ اس کے بعد بھی سیکورٹی فورسز کے سست ہونے کا کوئی سبب نہیں ہے۔ چوک ہوئی ہے، اس کے لےے کوئی بہانہ نہیںہونا چاہےے۔ ملک میں بہت بے روزگاری ہے۔ لوگ سیکورٹی فورسز میںنوکری چاہتے ہیں۔ اعلیٰ عہدوںپر بیٹھے لوگ اس طرح کا سلوک کیسے کرسکتے ہیں؟ موجودہ ڈیفنس منسٹر پرمجھے زیادہ بھروسہ نہیں ہے۔وہ گوا کے سادہ اور کم وزن والے شخص ہیں۔ لیکن وزیر اعظم کو خود اس مسئلے کو سنجیدگی سے لینا چاہےے۔ اگر وہ کچھ وزارتیںاپنے پاس رکھتے ہیں،تو اس میںکچھ بھی غلط نہیںہے۔ سیکورٹی فورسز پر نگرانی اور کنٹرول رکھناچاہےے۔ پٹھان کوٹ حملے کو دھیان میںرکھتے ہوئے کم سے کم اتنا تو کیا ہی جانا چاہےے۔
دوسری طرف’ انکریڈیبل انڈیا‘ کے برانڈ ایمبیسڈر سے عامر خان کو ہٹا دیا گیا ہے۔ لوگ سمجھ نہیںپارہے ہیں کہ سرکار کیا کررہی ہے۔ عامر خان نے کہا تھا کہ ان کی بیوی کو ڈر لگتا ہے او روہ ملک چھوڑنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔ اب سرکار نے عامر خان کو برانڈ ایمبیسڈر کے عہدے سے ہٹا کر، عامر خان کی بیوی کے ڈر کی ہی تائید کردی ہے۔ سرکار کیا سوچ رہی ہے ، اس کی تھنکنگ مشینری کیا سوچ رہی ہے، اسے لے کر مجھے خدشہ ہے۔ وہ ایک واضح اکثریت کے ساتھ اقتدار میںآئے ہےں۔ ٹھیک ہے۔ وہ اس موقع کو برباد کرنا چاہتے ہیں۔ ڈیڑھ سال گزر چکا ہے۔ساڑھے تین سال بچا ہوا ہے۔مجھے نہیںلگتا کہ وہ دوبارہ اقتدار میںآنے کو لے کردلچسپی دکھا رہے ہیں۔ آر ایس ایس ایودھیا میں مندر بنانے کو لے کر دلچسپی دکھارہا ہے۔ ٹھیک ہے، اس کا یہی اصل مقصد ہے۔ اس کا مقصد ہی ہے کہ دہلی میں اس کی سرکار ہو، تاکہ وہ ایودھیا میں مندر بنا سکے۔ بی جے پی کے لےے مندر مدعا اقتدار میںآنے کے لےے ایک پروپیگنڈہ تھا، وہ پورا ہوچکا ہے۔ لیکن یہ کہنا کہ مندر کی جگہ سے 15 کلومیٹر دور پتھر تراشنے کا کام ہوگا، وہاں ایک ورک شاپ ہوگا، اس کا کیا مطلب ہے۔ اس سے آپ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ آپ صرف مسلم فرقہ کو او رزیادہ مشتعل کرنے کا کام کررہے ہیں، کیونکہ آپ اس جگہ پر مندر بنانا چاہتے ہیں، جہاں متنازع ڈھانچہ تھا، جسے مبینہ طور پر بابرنے بنوایا تھا۔ آپ کیا کرنے کی کوشش کررہے ہیں؟ یقیناً رام مندر ایودھیا میں ہی ہوگا۔ رام مندر ایودھیا میںنہیںہوگا،تو کہاںہوگا؟ لیکن یہ کام کسی دوسرے فرقہ کے جذبات کو مجروح کر کے نہیںہوناچاہےے۔ بی جے پی نے ہمیشہ کہا ہے کہ ہم اس ایشو پر مقننہ یا عدالت کے راستے جائیںگے۔ عدالت نے بھی نہیں کہا ہے کہ آپ وہاںمندر بناسکتے ہیں۔ اور یہ لوگ بولنا شروع کر چکے ہیں کہ دسمبرمیںکام شروع ہوگا،یہ ہوگا، وہ ہوگا۔یہ سب کیا ہے؟ ان کا ایجنڈا اس ملک کے ماحول کو خراب کرناہے او رشا م، ایران اور سعودی عرب جیسا ماحول بنانا ہے۔ ایسے لوگ اپنے مسلم بھائیوںکو یہ بتا رہے ہیں کہ آپ ہی صرف اپنے ملک کو برباد نہیں کرسکتے، بلکہ ایسا کام ہم بھی کرسکتے ہیں۔ اس کا کیا مطلب ہے؟ ہمارا ملک ایک بہت ہی پُرامن او رروادای کے ماحول والا ملک ہے۔ آپ راجستھان آکر دیکھےے۔ تقریباً دس سے پندرہ فیصد آبادی مسلم فرقہ کی ہے۔ یہاںکوئی تنازع نہیںہے۔ کسی بھی طرح کے تشدد کا کوئی سوال ہی نہیں ہے۔ہر کوئی خوشگوار طریقہ سے رہ رہا ہے۔آئین ہند مذہب کی کوئی ایسی بات نہیںکرتا۔ مذہب ذاتی معاملہ ہے۔
میں نہیںجانتا کہ موہن بھاگوت کوکون بول سکتا ہے، شاید کوئی نہیں بول سکتا، کیونکہ وہ سپریمو ہیں۔ لیکن، جو لو گ ان کے نزدیک ہیں، انھیںموہن بھاگوت کو یہ صلاح دینی چاہےے کہ اس موقع کو نہ کھوئےں۔ پانچ سال میں آپ کولوگوں کو یہ بتاناچاہےے کہ آپ کے پاس کانگریس کا ایک متبادل ماڈل موجود ہے۔ اگر آپ کے پاس ماڈل ہے، تو اسے سامنے لائےے۔آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ صرف’ کانگریس مکت بھارت‘ چاہےے یا کانگریس نے جو کیا ہے، ہم اس کی مخالفت کریںگے۔ یہ سب منفی سوچ ہے۔ دہلی اور بہار کے عوام نے یہ کہہ دیا کہ نگیٹویٹی سے کام نہیںچلے گا، بلکہ آپ یہ بتائےے کہ آپ ہمارے لےے ٹھوس طرح سے کیا کرسکتے ہیں؟ آپ صرف یہ کہیںگے کہ کانگریس نے جو کیا، وہ غلط تھا، تو آپ اس بات کو بھول جائےے ، کیونکہ لوگ اس میںدلچسپی نہیںرکھتے۔ لوگوں نے دہلی میںایک نئے چہرے کو چنا۔ بہار میںنتیش کمار کو دوبارہ چنا۔ یہ ہے عوام کی آواز۔آر ایس ایس کے پاس کوئی بڑا منصوبہ ہوسکتا ہے ، جس میںوہ ملک کو ایک ایسی حالت میںپہنچانے کی سوچ رہا ہو، جس میںانتخاب ہی نہ ہو۔یہ ممکن ہے۔ کیونکہ وہ فطری طورپر فاشسٹ ہے۔ وہ جمہوریت میںیقین نہیں رکھتے۔ اگر ان کو چھوٹ دے دی جائے، تو مسلمانوں سے ووٹ دینے کا حق چھین لیں گے۔ آر ایس ایس کی کیا سوچ ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ وہ ایک سیاسی جماعت نہیںہے۔ لیکن، بی جے پی اور نریندر مودی جمہوری ہیں ۔بارہ سال تک وہ اسی اسی سسٹم کے تحت وزیر اعلیٰ رہے۔ اسی نظام کے تحت ابھی وزیر اعظم ہیں۔ ان کی اس نظام میںایک حصہ داری ہے۔ یہ ان کی ذمہ دری ہے کہ مستقبل کی نسلوں کے لےے وہ اس نظام کی حفاظت کریں۔ اگر وہ ایسا نہیںکرتے ہیں، تو تاریخ میںان کا نام بہت خراب طریقہ سے لیا جائے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *