اس بار کا بجٹ: عوام کی مشکلیں اور بڑھائے گا

Share Article

ستیش سنگھ
 ویسے تو بجٹ پیش ہونے میں ابھی کچھ وقت باقی ہے، لیکن موٹے طور پر بجٹ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اگر ہم وزیر خزانہ پی چدمبرم کے حالیہ بیانوں پر غور کریں تو مالی سال 2013-14 کے بجٹ میں موجودہ ٹیکس قانون کو شفاف بنانے اور مالیاتی خسارے کو کم کرنے پر زور دیا جاسکتا ہے۔ دراصل ووڈافون سے متعلق 14000 کروڑ روپے کے ٹیکس تنازع میں وزارت خزانہ کی اچھی خاصی رسوائی  ہوچکی ہے۔ اس لئے اب وزارت یہی چاہتی ہے کہ ٹیکسیشن کے قانون کو آسان اور شفاف بنایا جائے، تاکہ اس طرح کا واقعہ نہ دہرایا جائے۔  اسی وجہ سے ڈائرکٹ ٹیکس کوڈ (ڈی ٹی سی ) کو نافذ کرنے میں بھی وزارت جلد بازی نہیں کر رہی ہے۔ وزارت خزانہ کے نئے مشیر پارتھ سارتھی شوم کا ماننا ہے کہ ٹیکس میں کسی کو راحت نہیں دی جانی چاہئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلی تاریخ سے زیادہ ٹیکس وصول کرنے سے سرکار کے خزانے میں اوربھی زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ اس مسئلے پر سرکار جلد ہی مشورہ کرنے والی ہے۔ یہ بھی مانا جارہا ہے کہ اگلے بجٹ میں ٹیکس کی شرح کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ امیر لوگوں پر تھوڑااورزیادہ ٹیکس لگانے کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی سمت میں بھی سرکار کام کررہی ہے۔ چدمبرم چاہتے ہیں کہ رواںمالی سال میں مالی خسارہ 5.3فیصد کے دائرے میں رہے اور اگلے مالی سال میں اسے گھٹاکر 4.8فیصد کر دیا جائے۔ ذرائع کے مطابق بالواسطہ ٹیکس جمع کرنے میں گراوٹ اور اسپیکٹرم نیلامی کی سست رفتار کے باوجود مالی خسارے کو 5.3فیصد کی سطح پر رکھنے کے لئے قواعد کی جارہی ہے۔
سرکاری خزانے کو بھرنے کے لئے وزارت خزانہ ہر طرح کے امکانات تلاش کر رہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اسپیکٹرم فیس کے طور پر ٹیلی کام کمپنیاں پہلی قسط کی شکل  میںتقریباً 8000 کروڑ روپے سرکار کے خزانے میں جمع کرنے والی ہیں۔ اس مد میں ووڈافون کو 2093کروڑ روپے، ایئر ٹیل کو 1758کروڑ روپے، بھارت سنچار نگم لمیٹڈ کو 1282.98کروڑ روپے، آئیڈیاسیلولر کو810کروڑ روپے، ایئر سیل کو 584 کروڑ روپے، ریلائنس کمیونکیشن کو63 کروڑ روپے ، اسپائس کمیونکیشن کو 84.45 کروڑ روپے، لوپ موبائل کو 607 کروڑ روپے اور ایم ٹی این ایل کو 916کروڑ روپے جمع کرنے ہیں۔ سرکار فی الحال ٹیلی کام کمپنیوں سے متعلق اسپیکٹرم فیس کے ڈھانچے میں کوئی چھیڑ چھاڑ نہیں کر رہی ہے۔ لیکن ایسا مانا جا رہا ہے کہ سرکاری خزانے کو بھرنے کے لئے جلد ہی اس فیصلے پر نظر ثانی کی جاسکتی ہے۔ اسی سلسلے میں سرکا یہ مان کر بھی  چل رہی ہے کہ پبلک سیکٹر کی کمپنیوںکے ڈس انوسٹمنٹ سے اس کی جھولی میں 30000 کروڑ وپے آسکتے ہیں۔ اس معاملے میںآئل انڈیامیں ڈس انوسٹمنٹ کیا جا چکا ہے۔ این ٹی پی سی اور نالکو کا ڈس انوسٹمنٹ فروری 2013 میں کئے جانے کا امکان ہے اوور ایم ایم ٹی سی، سیل اور نیشنل کیمکلز اینڈ فرٹیلائزرز لمیٹڈ کا ڈس انوسٹمنٹ مارچ 2013 میں کیا جاسکتا ہے۔ ریلوے اینڈ پورٹ ٹرسٹ کے پاس موجود زمینوں کو بیچ کر مالی خسارے  کے گھاٹے کوکم کرنے کے مدعے پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ وزارت خزانہ ، دیگر وزارتوں کے خرچ کو کم کرنے کے لئے بھی مشقت کر رہی ہے۔اپنی تجویز میں وزارت نے قبائلی امور کی وزارت کے خرچ کو  24 فیصد تک کم کرنے کی بات کہی ہے۔ زراعت کی مد میں خرچ کئے جانے والے مجوزہ 20 ہزارکروڑ روپے میں سے تین ہزار کروڑ روپے کم کر دئے گئے ہیں۔ دفاعی بجٹ کے مجوزہ خرچ میں سے بھی دس ہزار کروڑ روپے کم کئے گئے ہیں۔ ریاستی سرکاروں کو بیجوں کے لئے سبسڈی مہیا کرانے والے بیج نگم کو بھی پہلے کی طرح پورا الاٹمنٹ نہیں کیا جائے گا۔ چدمبرم نے سبھی وزیروں کو تاکید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے اخراجات کو کم کریں۔ اس کے علاوہ وزراء سے اخراجات کم کرنے کی بابت تجاویز بھی مانگی گئی ہیں۔

بھلے ہی سال 2014میں عام انتخاب ہونے والے ہیں، پھر بھی آنے والا بجٹ عوام کے لئے کشش انگیز ہوگا، اس کے امکان کم ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ اس بجٹ میں مالی خسارے کو کم کرنا سرکار کی اولین ترجیح ہوگی۔ ایندھن کی مد میں دی جارہی سبسڈی کی کٹوتی کو جاری رکھا جائے گا۔ رسوئی گیس کی مد میں مزید راحت کی گنجائش نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انکلوسو گروتھ کے سبھی منصوبوں کو فی الحال ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جائے۔ البتہ سماجی ذمہ داری کے مدعے پر سرکار تھوڑی دریا دلی ضرور دکھاسکتی ہے۔ امید ہے کہ سرکار غذائی تحفظ کی مد میں نقد سبسڈی ٹرانسفر اورخاتون پر مرکوز منصوبوں پردریا دلی دکھا ئے گی۔

وزارت خزانہ کے ذریعے اخراجات کم کرنے کے لئے کسرت کرناصحیح سمت میں اٹھایا گیا قدم ہو سکتا ہے۔ اس سلسلے میں اسپیکٹرم کی نیلامی یا اسپیکٹرم فیس کے طور پر وصول کی گئی رقم کو بھی فائدہ مند مانا جاسکتا ہے، لیکن مالیاتی خسارے کو کم کرنے کے لئے سرکاری املاک کو فروخت کرنا اور عام ضرورت کی چیزوں پر لگاتار سبسڈی کم کرنا ملک و عوام کے لئے سودمند نہیں ہے۔کالے دھن کے معاملے میں سرکار کی خاموشی مالیاتی خسارہ کم کرنے کے لئے سرکار کی کوششوں کو مضحکہ خیزبناتی ہے، کیونکہ آج کی تاریخ میں ملک میں موجود کالے دھن کی وصولیابی سے مالیاتی خسارے کے مسئلے سے نجات پائی جا سکتی ہے۔
غور طلب ہے کہ کالا دھن ہمارے ملک میں لگاتا ربڑھ رہا ہے۔ غلط طریقے سے دولت جمع کرکے بدعنوان لوگ سماج میں بلندی پر پہنچ گئے ہیں اور ملک میں کالے دھن سے متوازی معیشت چلائی جارہی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں کالے دھن کی تعداد،  مجموعی گھریلو مصنوعات (جی ڈی پی ) کے قریب30فیصد (تقریباً 26لاکھ کروڑ روپے ) کے آس پاس ہے، جو کہ سال 1999میں 22.9فیصد اور سال 2006میں 25.1فی صد تھی۔ واضح ہو کہ ابھی حال ہی میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پبلک فائننس اینڈپالیسی (این آئی پی ایف پی )، نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف فائننسیل (این آئی ایف ایم ) اور نیشنل کونسل آف اپلائڈ اکنومک ریسرچ (این سی اے ای آر ) کو ملک میں موجود کالے دھن کا پتہ لگانے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی۔ ان کے ذریعے پیش کی گئی رپورٹ ابھی وزارت خزانہ کے پاس رکھی ہے، جسے اگلے بجٹ میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ یہ اس لئے بھی اہم ہے، کیونکہ سال 1985کے بعد کالے دھن پر پیش کی گئی یہ پہلی سرکاری رپورٹ ہے۔ اس سے پہلے اہم اپوزیشن پارٹی بی جے پی کے ذریعے سال 2011میں پیش کی گئی ایک رپورٹ میں ملک میں 27.5لاکھ کروڑ روپے سے 74لاکھ کروڑ روپے کے بیچ کالا دھن ہونے کا اندازہ لگایا گیاتھا۔ اسی موضوع پر جاری اپنی ایک رپورٹ میں امریکہ کے تھنک ٹینک گلوبل فائننس انٹگریٹی(جی ایف آئی ) نے پایا کہ سال 2001سے سال 2010کے درمیان ہندوستان کے بدعنوان  لوگوں کے ذریعے تقریباً 6.76 لاکھ کروڑ روپے کا کالا دھن غیرملک میں بھیجا گیا۔ غور طلب ہے کہ کالا دھن، سبھی طرح کے بازار کی بنیادپر اشیاء اور خدمات کو غلط طریقے سے پیدا کرنے، جان بوجھ کر سرکاری اکاؤنٹ میں انکم ٹیکس جمع نہیں کرنے، مصنوعی قیمت میں اضافہ کرنے ، ملازمین کو کم تنخواہ دینے، کام کرنے کے سب سے زیادہ گھنٹے، مستقبل فنڈ کی چوری،حفاظتی معیار کو نظر انداز کرنیسے پیدا ہوتا ہے۔  اس کے پیش نظر وزیر خزانہ بجٹ سیشن میں کالے دھن کو سفید بنانے سے متعلق ایک اہم منصوبے کا اعلان کر سکتے ہیں۔ اس مجوزہ منصوبہ کے تحت 30 فیصد ٹیکس چارج کر کے کالے دھن کو سفید بنانے کی اجازت سرکار کے ذریعے بد عنوان لوگوں کو دی جا سکتی ہے۔ ظاہر ہے ، اس منصوبے پر عمل کرنا سرکار کے لئے کسی چیلنج سے کم نہیں ہوگا۔
گزشتہ سالوں سے یو پی اے سرکار پاپولسٹ بجٹ سے بچنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔ اس کا ماننا ہے کہ مختلف مدوں میں سبسڈی دینے کی وجہ سے مالی خسارے میں لگاتار اضافہ ہو رہا ہے۔ اس  روشنی میں اب دیکھنے والی بات یہ ہے کہ سرکار کے پاس مالی خسارے کو کم کرنے کیطریقے کون کون سے ہیںاور اس قواعد میں کسے آسانی سے بلی کا بکرا بنایا جاسکتا ہے؟ قاعدے سے ریونیو کلیکشن کے ذریعے اس خسارے کو کم کرنا چاہئے، لیکن اس فرنٹ پر وہ بے بس اور لاچار ہی دکھائی دیتی ہے۔ لے دے کر تنخواہ دارملازمین پر وہ اپنا چابک چلا پاتی ہے، لیکن ان سے وصول کیا جانے والاٹیکس اتنے بڑے ملک کو چلانے کے لئے ناکافی ہے۔ چھوٹیبڑے سبھی کاروباری  ٹیکس بچانے  میں ماہر ہیں۔ اس مسئلے کا دوسرا پہلو ہے ملک میں بدعنوانی کا ہونا۔ بدعنوانی سے گلے تک ڈوبی ہمارے  ملک میں سب کچھ مینج ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد سرکار کے پاس دو ہی متبادل ہو سکتے ہیں۔ پہلا، یا تو وہ سرکاری املاک کو فروخت کرے یا پھر عوام کو دی جانے والی سبسڈی کم کرے۔ پبلک سیکٹر کی کمپنیوں کو ڈس انوسٹمنٹ کرنا سرکاری املاک کو بیچنے کا ہی دوسرانام ہے۔ سبسڈی کے معاملے میں دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ کارپوریٹس کو بھی بھاری سبسڈی دی جارہی ہے، جس کا پتہ عموماً ناخواندہ عوام کو نہیں چل پاتا ہے۔ عام طور یہ سبسڈی امپورٹ و  ایکسپورٹ میں توازن قائم رکھنے کی دلیل دے کر، صنعتی اکائی شروع کرنے کی بات کہہ کر، اسپیشل اکنومک زون (سیج ) کی ترقی کو لیکر یا پھر کارپوریٹس کو خسارے سے ابھارنے کے لئے ان کے لون اکاؤنٹس کو کارپوریٹ ڈیٹ اسٹرکچرنگ(سی ڈی آر )میں ٹرانسفر کرنے کے نام پر دی جارہی ہے۔ اس بارے میں یہ بتانا ضروری ہے کچھ ایسی چیزیں ہیں مثلاً  ڈیزل،جس میں سبسڈی دی جا رہی ہے، لیکن فائدہ امیر طبقے کے لوگ اٹھارہے ہیں۔ معاشی ترقی کے نام پر کار انڈسٹری کو سرکار کی طرف سے خصوصی سہولت اور رعایت دی جا رہی ہے۔ ڈیزل کاروں کے آخری  صارفین کون ہیں، یہ جانتے ہوئے بھی ڈیزل کاروں کے بنانے کی اجازت کارپوریٹس گھرانوں کو دینا سرکار کی منشاکو عوام مخالف بتاتا ہے۔لہٰذا ڈیزل کی تقسیم میںراشننگ نظام کیا جانا چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بھی یقین دلانا چاہئے کہ امیر طبقہ اس کا فائدہ نہ اٹھا پائے، مگر کیا کارپوریٹس یا امیر طبقے کو ناراض کرنے کی ہمت سرکار میں ہے؟چونکہ عوام سبھی کے لئے ہمیشہ سے سافٹ ٹارگٹ رہے ہیں، اس لئے سرکار کے حملے کا مرکزی نقطہ بھی وہی ہوتے ہیں او ر اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے ضرورت کی عام اشیاء پر دی جارہی سبسڈی کو سب سے پہلے کم یا ختم کیا جارہا ہے۔
بھلے ہی سال 2014میں عام انتخاب ہونے والے ہیں، پھر بھی آنے والا بجٹ عوام کے لئے کشش انگیز ہوگا، اس کے امکان کم ہیں۔ مانا جارہا ہے کہ اس بجٹ میں مالی خسارے کو کم کرنا سرکار کی اولین ترجیح ہوگی۔ ایندھن کی مد میں دی جارہی سبسڈی کی کٹوتی کو جاری رکھا جائے گا۔ رسوئی گیس کی مد میں مزید راحت کی گنجائش نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ انکلوسو گروتھ کے سبھی منصوبوں کو فی الحال ٹھنڈے بستے میں ڈال دیا جائے۔ البتہ سماجی ذمہ داری کے مدعے پر سرکار تھوڑی دریا دلی ضرور دکھاسکتی ہے۔ امید ہے کہ سرکار غذائی تحفظ کی مد میں نقد سبسڈی ٹرانسفر اورخاتون پر مرکوز منصوبوں پردریا دلی دکھا ئے گی۔ یہاں دھیان دینے والی بات یہ ہے کہ یو پی اے سرکار ایسی فیاضی انتخابی مجبوری کے تحت دکھاسکتی ہے، کیونکہ وہ جانتی ہے کہ اس معاملے میں کٹوتی کی قینچی چلانے پر سال 2014کے عام انتخاب  جیتنا مشکل ہو سکتا ہے۔
ہندوستان جیسے جمہوری اور فلاحی ملک میں عام پبلک کوحاشیے پر رکھ کر ترقی نہیں کی جاسکتی ہے۔ اس صورتحال کو نظر میں رکھتے ہوئے عوام کی ضرورت کو سمجھنا ہوگا اور ان کو دو وقت کھانا ملتا رہے، اس کا بھی یقین دلانا ہوگا۔ لہٰذا سرکار کو چاہئے کہ وہ ملک میں موجود کالے دھن کو اصل دھارے میں لے کر آئے، تاکہ ملک کا پیسہ ملک کی تعمیر وترقی میں لگ سکے۔ اس کیعلاوہ  امیروں کو عطا کئے جانے والے اقتصادی فائدے میں تخفیف اورکالے دھن کو ختم کرنے کے لئے سخت فیصلے لینے سے متعلق تجویز کو اگلے بجٹ میں ضرور پیش کیا جانا چاہئے، تاکہ عام آدمی کا بھلا ہو سکے۔ ایسا کرنے سے غریبوں سے زیادہ فائدہ،  سال 2014 کے انتخاب میں یوپی اے سرکار کو ہوگا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *