عراق کو دوبارہ بسانے کی ذمہ داری کس کی؟

Share Article

وسیم راشد
سمجھ میں نہیں آتا کہ عراق میں امریکی تسلط سے آزادی پر خوشی منائی جائے یا اسی دن لاہور میں ہوئے سیریل بم دھماکے پر آنسو بہائے جائیں جس میں 30افراد ہلاک اور 200سے زائد زخمی ہوگئے۔پاکستان جو پہلے ہی بھیانک سیلاب کی تباہ کاریوں کی زد میں ہے اور جس کے کروڑوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں، وہاں ایسے حالات میں بھی دھماکوں کا سلسلہ جاری ہے۔ لاہور میں حضرت علیؓ کے یوم شہادت کے موقع پر منعقدہ جلوس پر ہوئے3بم دھماکوں سے پورا شہر  لرزاٹھا۔ معصوم روزہ داروں کو افطار تو کیا نصیب ہوتا بلکہ ان کے جسم کے حصے دھماکوں میںشیشے کی طرح بکھرگئے اور خون کے چھینٹوں نے گردو نواح کے علاقے کو لال کر دیا۔ ان غریبوں کی کھوپڑیاں الگ پڑی تھیں، ہاتھ الگ، پیر الگ۔ یہ ایسا درد ناک منظر تھا کہ روح تک لرز اٹھی، لیکن یہ منظر تو ہم نے ٹی وی پر دیکھا اور اخباروں میں پڑھا نیز ٹی وی پر دکھائی جانے والی تصاویر سے اس کا احساس کیا، لیکن جہاں یہ قیامت صغریٰ ہوئی ہے، اس جگہ کا کیا حال رہا ہوگا، آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں۔خدا دشمن کو بھی یہ دن نہ دکھائے۔عراق یوں تو امریکی تسلط سے ایک طرح آزاد ہوگیا ہے، لیکن جیسا کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کی تشویش ہے کہ عراق سے امریکی فوج کا انخلا خوش آئند ہے، مگر یہ انخلا اس صورت میں قابل تعریف ہوگا، جب عراق کے اندرونی معاملات میں خارجی مداخلت ختم کر دی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ عراق کو اپنے سیکورٹی معاملات خود سنبھالنے چاہئیں۔ ان کا کہنا حق بجانب ہے کہ جو فوجی امریکہ نے عراق میں چھوڑ دیے ہیں وہ کیا عراق کے فوجی نظام کو آزادانہ اور خود مختارانہ چلنے دیںگے۔ نہیںیہ ضرور عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کریںگے۔ حالانکہ امریکی صدر براک اوباما نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے اور فوجی انخلا کے مشن کو صحیح وقت پر پورا کیا ہے۔
مگر ابھی 50ہزار امریکی فوجی جو عراق میں اگلے سال 2011تک رہیںگے، ان کا کیا رول ہوگا، وہ عراقی افواج کی ٹریننگ کریںگے۔ جولائی 2009میں عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر جنرل Rayodiernoنے پنٹاگن میں بریفنگ کے دوران یہ کہا تھا کہ 50,000فوجیوں کی طاقت کافی ہوتی ہے، اگر ہمیں ضرورت پڑی اور عراقیوں نے ہم سے مدد حاصل کی تو ہم ان کی مدد کریںگے۔مگر کیا عراقی فوج اب امریکی فوج کی مدد لینا پسند کرے گی،یہ سوال ہے۔ حالانکہ اس بحث میں کچھ امریکی عہدیداران کا یہ بھی ماننا ہے کہ یہ فوجی ہوائی طاقت اور دوسرا ساز و سامان فراہم کریںگے، شمال میں عراقی اور کردش فورسز کے درمیان کشیدگی کو کم کرنے میں مدد دیںگے۔ یہ سب سن کر اور پڑھ کر ہنستی آتی ہے کہ امریکہ نے جب عراق پر حملہ کیا تھا اس وقت ساری دنیا نے عراق کو اکیلا چھوڑ دیا تھا نہ ہی کوئی جمہوری ملک اس کی مدد کو آیا اور نہ ہی عرب ممالک میں سے کسی نے اس اقدام پر کوئی رد عمل یا احتجاج درج کرایا۔ یہ ایک ایسا سبق ہے عراق کے لیے اور باقی مسلم دنیا کے لیے کہ ہم جمہوریت کی بات کرتے ہیں، لیکن ہم صرف اور صرف اپنے لیے سوچتے ہیں۔ عراق کے لیے یہ ایک ایسا سبق ہے، جس سے اس کو سیکھنا چاہیے اور بجائے خوش ہونے اور جشن منانے کے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ اب اس کے سامنے زیادہ بڑا چیلنج ہے۔ عراق کو یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ طاقتور ممالک چاہے وہ امریکہ ہو یا اسرائیل ان کو کسی ملک پر قبضہ کرنے کے لیے کسی بڑے جواز کی ضرورت نہیں ہے اور اب جب کہ صدام حسین کی پھانسی کو بھی عرصہ گزر گیاہے، یہ احساس دو چند ہوگیا ہے کہ تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ کر کے جس طرح عراق پر حملہ کیا گیا اور صدام حسین کو پھانسی دے دی گئی، اس نے امریکہ کو ہی نہیں برطانیہ کو بھی کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ کیوںکہ برطانیہ کے سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے خود بی بی سی کو بتایا تھا کہ انہوں نے 2003میں عراق پر حملے کی حمایت اس لیے کی کہ صدام حسین خطے کے لیے خطرہ تصور کیے جارہے تھے۔ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے دعوے اگر نہ کیے جائیں تو مختلف وجوہات بتانی پڑیں۔ قابل تعریف ہے سابق وزیراعظم کا یہ بیان، اس لیے کہ یہ کوئی گھریلو لڑائی نہیں تھی کہ جھوٹا سچا الزام لگا کر کسی کو بھی سزا دے دی جائے، یہ ملکوں کی بات تھی، جہاں کروڑوں لوگوں کے جان و مال کو داؤں پر لگانا تھا۔ اس ضمن میں یہ بتانا ضروری ہے کہ ستمبر2002میں برطانوی حکومت نے ڈوزیئرشائع کیا تھا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ صدام حسین کے ایک ہلکے سے اشارے پر پینتالیس منٹ میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ ٹونی بلیئر نے یہ بھی کہا کہ ’’مجھے فیصلہ کرنا تھا‘‘۔ یہاں یہ جملہ بھی قابل غور ہے کہ مجھے فیصلہ کرنا تھا، آخر کسی ملک پر حملہ کرنے میں کسی ایک آدمی کا فیصلہ کتنے معنی رکھتا ہے، اس کا اندازہ اب ہورہا ہے کہ 2اہم ممالک 2اہم لوگ جارج بش اور ٹونی بلیئر، دونوں نے ہی اتنا برا فیصلہ کیا اور کسی ملک کی قسمت اپنے ہاتھوں میں لے لی، حالانکہ برطانیہ میں بھی اور امریکہ میں بھی سبھی عراق پر حملہ کے خلاف تھے۔ برطانیہ میں ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ نے عراق جنگ سے متعلق ہونے والی انکوائری کے سامنے تسلیم کیا ہے کہ عراق پرحملہ کی وجہ سے برطانیہ میں دہشت گردی کا خطرہ بڑھ گیا تھا۔ ایم آئی فائیو کی سابق سربراہ جو 2002سے 2007تک اندرون ملک خفیہ سروس کی سربراہ رہیں، انہوں نے انکوائری کو بتایا کہ ’’برطانیہ میں القاعدہ کی جانب سے دہشت گردانہ حملوں کا خطرہ عراق جنگ حتی کہ 11؍ ستمبر کو امریکہ میں ہونے والے حملوں سے بھی پہلے کیا تھا، مگر 2003میں مارچ کے مہینے میں عراق جنگ میں برطانوی شمولیت نے بلاشک و شبہ دہشت گردی کے خطرے کی سطح کو بڑھادیا۔‘‘ اس ضمن میں بیرنس مینگھم بلرکا بیان بہت اہم ہے کہ عراق کے بارے میں ملنے والی خفیہ اطلاعات اتنی زیادہ کافی نہیں تھیں کہ ان کو وجہ بنا کر عراق کے خلاف کارروائی کی جاتی ۔
اس وقت یہ بیان بہت اہم ہے نہ صرف عراق میں چل رہی کارروائی کے لیے، نہ صرف برطانوی حکومت کے لیے، نہ صرف امریکہ کے لیے، نہ ہی پوری دنیا کے لیے بلکہ اسلامی ممالک کے لیے اور بھی زیادہ ہے کہ وہ سبق سیکھیں کہ ان کے آپسی انتشار ان کے مضبوط نہ ہونےنے ایک ملک کی قسمت کا فیصلہ ایسے کیا کہ وہ بری طرح بکھر گیا۔مینگھم بلر نے تسلیم کیا ہے کہ 2004کے بعد برطانوی شہری کسی حد تک دہشت گردی کی کارروائیوں میں شریک ہوجائیںگے۔ ایم آئی فائیو اس کا پہلے سے اندازہ نہیں کرسکی۔ عراق کی جنگ نے اس انتہاپسندانہ نظریے کو اجاگر کردیا کہ مغرب اسلام کو مٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔
سابق ایم آئی فائیو سربراہ نے یہ بھی کہا کہ وہ بھی اس خیال کی حامل ہیں کہ عراق پر حملے سے برطانیہ مزید دہشت گردی کی زد میں آسکتا ہے اور انہوں نے اس وقت کے ہوم سکریٹری ڈیوڈ بلنکٹ سے اس سلسلے میں بات بھی کی تھی، لیکن انہیں یہ نہیں پتا کہ یہ مسئلہ سابق وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے ساتھ زیر بحث آیا یا نہیں۔
خیر اب تو یہ سوال کہ عراق پر حملہ جائز تھا یا ناجائز بے کار ہی ہے، اب تو صرف یہ سوچنا ہے کہ عراق کو دوبارہ بسانے کی، اس کی آباد کاری کی ذمہ داری کون لے گا؟ کیا اسلامی ممالک یا دنیا کے دوسرے جمہوری ممالک اس بدنصیب عراق کو پھر سے بسا پائیںگے،کیوںکہ امریکیوں نے ایک چنگاری تو عراق میں ڈال ہی دی ہے اور وہ ہے شیعہ، سنی اور کرد کا آپسی ٹکراؤ، کیوںکہ پہلے ان ممالک میں کم سے کم تہذیبی و تمدنی، مذہبی اور نسلی بھید بھاؤ نہیں تھا، مگر جس طرح انگریز ہندوستان کو آزاد تو کر گئے، مگر کشمیر کو گلے کی ہڈی بنا کر چھوڑ گئے، اس طرح امریکہ بھی عراق میں شیعہ، سنی اور کردوں کے بیچ نفرت کے بیچ بوچکا ہے۔ کہیں ان میں تہذیبی ٹکراؤ تو نہیں ہوگا اور اوباما اب عراق کے لیے کیا کریںگے۔ جس امریکہ نے عراق کو تباہ و برباد کردیا، اب اوباما اس کا ازالہ کیسے کریںگے؟ اس لیے آزادی کا جشن منانے سے زیادہ یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ کیا ہوگا عراق کا؟ کون کرے گا اس کی مدد؟ ضرورت تو اس بات کی ہے کہ سبھی عرب ممالک اب متحد ہو کر عراق کی باز آباد کاری کا کام کریں اور جس طرح امریکی سکریٹری آف اسٹیٹ ہلیری کلنٹن نے مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے لیے فلسطین کے صدر محمود عباس اور اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو کو واشنگٹن ڈی سی مدعو کیا ہے تاکہ مظلوم فلسطین کا مسئلہ حل ہوسکے، اسی طرح عرب ممالک کو بھی سبھی کے ساتھ مل کر عراق کے لیے آگے آنا چاہیے اور عراقیوں کو بھی مظلوم فلسطینیوں جیسا ہی سمجھ کر ان کے لیے بھی کوششیں تیز کردینی چاہئیں۔

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

A.U. Asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *