عراق میں بڑھتی خانہ جنگی،اعتماد بحالی ہی مسئلہ کا حل

Share Article

وسیم احمد

آج عراق جس طرح کی خانہ جنگی کا شکار ہے،اس سے مشرق وسطیٰ کے ممالک سعودی عرب، ایران، متحدہ عرب امارات اور کویت سبھی متاثر ہیں۔ اگر یہ خانہ جنگی بڑھتی ہے تو ہندوستان بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے گا۔ہندوستان مذکورہ بالا خطہ سے 57فیصد تیل درآمد کرتا ہے۔ لہٰذا اس صورت میں تیل کی سپلائی رکے گی اور اندرون ملک مہنگائی بڑھے گی جو کہ ہر ایک گھر کو سیدھے متأثر کرے گی اور ’اچھے دن‘ نزدیک آنے کے بجائے دور ہوجائیںگے۔ اس لئے ضرورت ہے کہ ہندوستان اس خطہ کے تیل سے مستفیض ہونے والے ایشیا کے دیگر دو ممالک چین اور جاپان دونوں کے ساتھ مل کر کوئی حکمت عملی بنائے۔ دراصل ہندوستان کی اس قضیہ میں حل کے لئے پیش رفت کے مد نظر اس پورے مسئلہ اور داعش کو سمجھنا ضروری ہے۔آئیے دیکھتے ہیں کہ عراق میں فی الوقت صورت حال کیا ہے.

p-8عراق سلک رہا ہے۔داعشجنگجو ئوں کے ہاتھوں عراقی فوجیوں کو نشانا بنایا جارہا ہے اور بے گناہ شہری تشدد کا نشانا بن رہے ہیں۔عراق کے کئی علاقے جنگجوئوں کے قبضے میں جاچکے ہیں ۔موصل اور صوبہ نینوا سے فوجیوں کو باہر نکال کرجنگجوئوں نے اپنا قبضہ جما لیا ہے۔ تکریت اورصوبہ انبار اور شمال میں واقع دوسرے چھوٹے بڑے کئی شہر اور قصبے پہلے سے ہی ان کے قبضے میں ہیں اور اب صوبہ صلاح الدین اور تل عفر پر قبضے کی کوشش کی جارہی ہے۔حیرت کی بات تو یہ ہے کہ عسکریت پسند ی دھیرے دھیرے اپنا دائرہ بڑھاتے جارہے ہیں اور حکومت ان کو روکنے میں پورے طور پر ناکام ہے۔بلکہ خطرہ منڈلانے لگا ہے کہ وہ بغداد کو اپنے نشانے پر نہ لے لیں۔ کیونکہ بغداد کے مضافات میں واقع بعقوبہ تک جنگجو پہنچ چکے ہیں۔
اس گروپ کی طاقت میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے۔اپنی طاقت بڑھانے کے لئے یہ گروپ عراق کی سرحدیں عبور کرکے شام میںداخل ہوتا ہے ۔وہاں جنگجو گروپ تیار کرتا ہے اور پھر شامی حکومت کے خلاف ان جنگجوئوں کو استعمال کرتا ہے۔اپنے وسائل میں اضافہ کے لئے اسلحہ ڈپوئوں اور بینکوں پر حملے کرتا ہے اور پھر ل لُوٹے ہوئے اسلحہ اور دولت کو حکومت کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے۔ دوسری طرف حکومت کی طاقت کو کم کرنے کے لئے پائپ لائنوں کو کاٹ دیتا ہے،سرکاری املاک کو تباہ کرتا ہے اور جو فوجی ان کی پکڑ میں آتے ہیں انہیں ذبح کردیا جاتا ہے اور پھر شہریوں کو خوفزدہ کرنے کے لئے فوج کے مارے جانے کے منظر کو عوام میں پھیلایا جاتا ہے ۔تاکہ اس منظر کو دیکھنے کے بعد فوج خوفزدہ ہوکر ان سے لڑنے کے بارے میں نہ سوچ سکیں۔
ان کے اس عمل نے پورے عراق کولرزہ کر رکھ دیا ہے۔ پوری دنیا حیران ہے۔عراق کی حکومت بے بس نظر آرہی ہے۔ نورالمالکی اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام تو ہیں ہی، غیر ملکیوں کو تحفظ دینے کے لئے بھی ان کے پاس کوئی کارگر طریقۂ کار نہیں ہے۔ہندوستان سمیت کئی ملکوں کے شہری مقبوضہ علاقے میں پھنس گئے ہیں۔ہر ملک اپنے اپنے شہریوں کو باہر نکالنے کے لئے الگ الگ تدبیریں کر رہے تھے۔اس بحران کی زد میں ہندوستان کے 46 باشندے تکریت شہر میں اور 40موصل میں پھنسے تھے۔ جن کو باہر نکالنے کے لئے ہندوستانی سفارت خانے کو بے پناہ محنت کرنی پڑی۔
یہاں پر ایک اہم سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ داعش کا یہ ہنگامہ کوئی اچانک نہیں ہوا ہے۔2006 کے بعد سے ہی اس گروپ کی سرگرمیاں عراق کے مختلف علاقوں میں جاری تھیں اور ان سرگرمیوں کی وجہ سے2011 کے بعد شمال کے کئی شہر اور قصبے میں ان کا اثر و رسوخ بہت بڑھ گیا۔اب غور کرنے والی بات یہ ہے کہ ہندوستانی سفارتخانہ اس سلسلے میں پہلے سے ہی فعال کیوں نہیں تھا۔ایسے علاقے جہاں جنگجو پہلے سے ہی سرگرم تھے، ان حساس علاقوں میں ہندوستانی شہریوں کو جانے کی اجازت کیوں دی گئی؟
یاد رکھنے والی بات یہ ہے کہ تکریت اور موصل تیل پیدا کرنے والا علاقہ ہے اور یہی وجہ ہے کہ غیر ملکی شہری اس علاقے میں بڑی تعداد میں رہتے تھے ۔خاص طور پر ہندوستان اور عراق کا رشتہ بہت گہرا ہے اور اسی گہرے رشتے کی وجہ سے ہندوستانی ملازمین کی بڑی تعداد یہاں پر رہتی ہے۔تقریباً 18 ہزار ہندوستانی عراق کے شمالی خطے میںتیل کمپنیوں اور کنسٹرکشن کے علاوہ اسپتالوں میں کام کرتے ہیں۔اب جبکہ پورے خطے میں داعش کی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں تو ایسے وقت میں ان کو تحفظ دینا ہندستانی سفارت خانے کی اولین ترجیحات میں شامل ہونا چاہئے۔اس سلسلے میں سفارت خانے کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی کہ ان پھنسے ہوئے لوگوں سے سفارت خانے کے ملازمین مسلسل رابطے میںرہے اور مقامی انتظامیہ سے مل کر ان کو مکمل تحفظ دینے کا ماحول بنایا اور اس سلسلے میں سفارت خانے کو عراقی حکومت کا بھرپور تعاون رہا اور اس تعاون کی خاص وجہ یہ تھی کہ عراق اور ہندوستان کا دوستانہ رشتہ برسوں پرانا ہے۔
عراق اور ہندوستان کے رشتے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتاہے کہ ہندوستان کے لئے عراق دوسرا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک ہے اور عراق نے ہر انٹرنیشنل ایشو پر ہندوستانی کی حمایت کی ہے۔اب جبکہ عراق مصیبتوں میں پھنسا ہوا ہے اور داعش نے عراقی حکومت کو شدید ترین بحران میں ڈال دیا ہے تو ایسے وقت میں ہندوستان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عراق کو اس بحران سے باہر نکالنے اور داعش کے پنجے سے نجات دلانے کے لئے اس کو بھرپور تعاون دے۔عراق اس وقت شدید بحرانی دور سے گزر رہا ہے اور اس بحرانی دور کو پیدا کرنے والا ایک سنی جنگجو گروپ داعش ہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخرداعش کو عراق میں پنپنے کا موقع کیسے ملا؟اگر غور کریں تو اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں نورالمالکی کی وہ سیاسی غلطی کا عمل دخل ہے جس کی وجہ سے اس گروپ کو شہہ ملی۔داعش سنی وہابیوں کا ایک گروپ ہے جو عراق ، شام اور پھر لبنان کے بعد فلسطین میں اسلامی حکومت قائم کرنا چاہتا ہے۔ اس گروپ کا القاعدہ سے جڑے رہنے کا انکشاف 2004 میں اس وقت ہوا جب ابو مصعب الزرقاوی نے اسامہ بن لا دن کے لئے عراق میں کام کرنا شروع کیا۔اس نے القاعدہ کے اشارے پر دو برسوںتک عراق کے مختلف علاقوں میں دہشت گردانہ سرگرمی انجام دیا مگر2006 میں وہ مارا گیا۔اس کی موت کے بعد ابو حمزہ کو یہ ذمہ داری دی گئی مگر اسی سال ابو حمزہ بھی مارا گیا۔ابو حمزہ کی موت اور نور المالکی کی دہشت گردوں کے خلاف سخت آپریشن کی وجہ سے القاعدہ دم توڑنے لگا۔
مگر اسی سال یعنی 2006 میں ابو حمزہ کے ساتھیوں نے جو ادھر ادھر بکھر گئے تھے ،انہوں نے چھوٹی چھوٹی تنظیموں سے مل کر ایک مشترکہ تنظیم بنائی اور اس کا نام ’’ الدولۃ الاسلامیۃ فی العراق و الشام‘‘ رکھا۔جس کا مخفف داعش کہلاتا ہے۔اس مشترکہ تنظیم کا سربراہ ابو عمر البغدادی کو بنا یا گیالیکن 2010 میں ابو عمر قتل کردیا گیا ۔اس کے بعد اس تنظیم کا سربراہ ابو بکر البغدادی بنا۔ابو بکر کے دور میں اس تنظیم نے اپنی سرگرمیاںخوب بڑھالی۔اس نے اپنی طاقت کو مزید بڑھانے کے لئے 2013 میںشام کی ایک بڑی وہابی تنظیم ’’ جبھۃ النصرۃ‘‘ کو اپنے ساتھ ملا لیا اور پھر اس نے عراق اور شام کے خلاف مسلسل دہشت گردانہ سرگرمیاں انجام دیتی رہیں۔اس گروپ نے خاص طور پر سنیوں کو شیعہ کے خلاف متحد کرنے اور عراق میں نورا لمالکی اور شام میں بشار اسد کی حکومت کے خلاف متحد کرنا شروع کردیا۔
ابتدا میں یہ گروپ سنیوں کو متحد کرنے میں کامیاب نہیں ہورہی تھی۔ کیوں کہ تکریت میں سنیوں کی ایک کونسل’’ مجلس البیداری‘‘ جس کا صوبے میں بڑا اثر و رسوخ تھا ، یہ کونسل دہشت گردی کے خاتمے کے لئے حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی تھی اور امریکی انخلاء کے بعد القاعدہ کا سخت مقابلہ کر رہی تھی۔لیکن بعد میں نور المالکی نے اس کونسل کوصرف اس لئے توڑ دیا کیونکہ وہ سنیوں پر مشتمل تھی اور نور المالکی کے ساتھ کونسل کا کئی سیاسی مسئلوں پر اختلاف تھا۔نور المالکی نے غلطی یہ کی کہ اپنے سیاسی مخالفین کو دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے نام پر دبائو ڈالا کہ وہ یا تو ملک چھوڑ دیں یا سرنڈر کرکے چپ ہوکر بیٹھ جائیں۔غرضیکہ المالکی نے سیاسی مفاہمت کا راستہ نہیں اپنایا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ یہ کونسل ٹوٹ گئی ۔یوں اس قبائلی کونسل کو مفلوج بنا کر رکھ دیا گیا جو القاعدہ سے لڑتی رہی تھی۔ اس کونسل کے ٹوٹ جانے کے بعد داعش کے لئے راستہ بالکل صاف ہوچکا تھا۔ چنانچہ سنی اور شیعہ کا نعرہ لگا کر اس گروپ نے تمام سنیوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا شروع کردیا اور پھر دھیرے دھیرے اس کی طاقت اتنی بڑھ گئی کہ اس نے عراق کے کئی صوبوں پر قبضہ جما لیا ۔
اب نور المالکی یہ بیان دے رہے ہیں کہ سب مل کر دہشت گردی کے خلاف لڑیں گے۔لیکن ان کے اس بیان پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا ۔کیونکہ ماضی میں انہوں نے سیاسی اختلاف کی بنیاد پر القاعدہ سے لوہا لینے والی البیداری جیسی کونسل کے خلاف آپریشن کرکے اس کو بے اثر بنا دیا۔ اگر وہ دہشت گردی کے خلاف واقعی مخلص ہوتے تو مقامی آبادی کو اعتماد میں لئے بغیر فوج استعمال نہیں کرتے۔ اگرموجودہ وقت میں مقامی سنی المالکی کے ساتھ ہو بھی جاتے ہیں تو اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے کہ دہشت گردی سے جنگ طویل اور صبر آزما رہے گی۔ اس لیے نوری المالکی کو چاہیے کہ وہ پہلے سنیوں میں اعتماد بحال کریں، نیز نینوا اور انبار صوبوں کے قبائل میں اپنے بارے میں غصے کو کم کرنے کے لیے اقدامات کریں۔ بصورت دیگر بغداد کی طرف بڑھتی داعش کے خلاف لڑائی میں مالکی کی کامیابی آسان نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *