سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور عادل الجبیر نے باور کرایا ہے کہ بین الاقوامی بحری جہاز رانی کی آزادی کو پہنچنے والا کوئی بھی نقصان بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہے۔گزشتہ روز اپنی ٹویٹ میں الجبیر نے مزید کہا کہ ایران پر لازم ہے کہ وہ اپنی حرکتوں اور بین الاقوامی قانون کی پامالی کی حقیقت کو جانے۔ ان میں خلیج عربی میں برطانوی بحری جہاز کو تحویل میں لینے سمیت شہری جہازوں کا راستہ روکا جانا شامل ہے۔ یہ تمام امور یکسر طور پر مسترد کیے جاتے ہیں۔ عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اس طرح کی کارروائیوں کا منہ توڑ جواب دے۔یاد رہے کہ ایران نے جمعے کی شام برطانوی پرچم بردار بحری جہاز اسٹینا امپیرو کو قبضے میں لے لیا تھا۔ جہاز پر 23 افراد سوار تھے اور وہ الفجیرہ کی بندرگاہ سے سعودی عرب جا رہا تھا۔
 
دوسری جانب برطانوی کارگو چیمبر نے گزشتہ روز اعلان میں کہا کہ سلطنت عْمان کے پانی میں مذکورہ تیل بردار جہاز پر ایران کا قبضہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ برطانیہ نے اس حوالے سے عالمی سلامتی کونسل کو ایک خط بھیجا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ ایران کے اس دعوے کا کوئی ثبوت نہیں کہ برطانوی تیل بردار جہاز ایک ایرانی کشتی سے ٹکرایا تھا۔ ایرانی فورسز سلطنت عْمان کے علاقائی پانی میں تیل بردار جہاز کے قریب آ گئیں۔ جہاز کے خلاف ایران کا اقدام غیر قانونی مداخلت کے مترادف ہے۔ بین الاقوامی آبی گزر گاہوں میں جہاز رانی کے لیے خطرات ناقابل قبول ہیں۔ یہ ایک بڑی جارحیت ہے اور حالیہ صورت حال انتہائی تشویش ناک ہے۔اس سے قبل ہفتے کے روز برطانوی وزارت خارجہ نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں برطانوی پرچم بردار بحری آئل ٹینکر کو تحویل میں لیے جانے کے بعد لندن نے ایرانی ناظم الامور کو طلب کر لیا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here