امریکی پابندیوں پر ایران کا رد عمل اس کا قانونی حق ہے:روس

Share Article

 

خلیجی فارس اور مشرق وسطیٰ کے دیگر خطوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے بعد کریملن کے ترجمان کا کہنا ہے کہ امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے روسی صدر ولادمیر پیوتن کو حالیہ بحران پر کسی قسم کی یقین دہانی نہیں کرائی۔

 

واضح رہے کہ گزشتہ روز مائیک پومپیو کی روس میں روسی صدر ولادمیر پیوتن سے ملاقات ہوئی تھی جہاں انہوں نے حالیہ کشیدگی کی صورتحال پر بات چیت کی تھی تاہم واضح کیا تھا کہ امریکی اہداف پر کسی قسم کے حملے کا امریکہ رد عمل دے گا۔پیوتن کے ترجمان دمیتری پیسکوف نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ماسکو کی کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا اور اور ایران کے 2015 کے جوہری معاہدے سے دستبردار ہونے کے رد عمل کو قانونی قرار دیتے ہوئے اس کا دفاع کیا۔واضح رہے کہ ایران نے یورپی ممالک کو نیا جوہری معاہدہ کرنے کے لیے 60 روز کی ڈیڈ لائن دی ہے اور کہا ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو وہ بلند ترین سطح پر یورینیئم کی افزائش شروع کردیں گے۔دوسری جانب عراق میں امریکی سفارتخانے کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے انہیں ایران سے حالیہ کشیدگی میں اضافے کے پیش نظر تمام غیر ضروری اور غیر ہنگامی اسٹاف کو فوری طور پر ملک چھوڑنے کا کہا ہے۔سفارتخانے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والے یہ انتباہ ایسے وقت میں سامنے ا?یا جب گزشتہ ہفتے واشنگٹن نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ انہیں ایران اور اس کی پروکسی افواج کی جانب سے خطے میں امریکیوں اور امریکی مفاد کو نشانہ بنائے جانے کے خدشات کا سامنا ہے۔چند روز قبل سفارت خانے نے امریکیوں کو تجویز دی تھی کہ عراق کے سفر سے گریز کریں۔خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ 2015 کے ایران کے جوہری معاہدے کو ختم کرتے ہوئے ایران پر پابندیاں عائد کی تھیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *