امریکا کی قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے جبرالٹر حکومت کی جانب سے تحویل میں لئے جانے والے ایرانی جہاز داریان داریا 1 کی تازہ تصاویر جاری کی ہیں جن میں سپر آئیل ٹینکر کو شامی ساحلی علاقے میں طرطوس بحری اڈے کے قریب دیکھا جا سکتا ہے۔اپنے سرکاری ٹویٹر اکاؤنٹ پر پوسٹ بیان میں مسٹر بولٹن نے دعویٰ کیا کہ ’’ادریان درایا 1 کی شام کی جانب پیش قدمی کی خبروں کو غلط قرار دینے والوں کے لئے یہ تصاویر بین ثبوت ہیں۔‘‘
ان کا مزید کہنا تھا کہ ایران، شامی عوام کے قاتل بشار الاسد کے ہاتھ مضبوط کرنے کو ایرانی عوام کی خدمت کے بجائے زیادہ اہم سمجھتا ہے۔ ہم مذاکرات چاہتے ہیں، تاہم ایران کو خود پر عاید پابندیوں میں اس وقت تک کوئی نرمی نہیں دی جا سکتی جب تک وہ دہشت گردی پھیلانے اور جھوٹ بولنے سے باز نہ آئے۔امریکی خبر رساں ادارے ’’ایسوسی ایٹڈ پریس‘‘ نے ہفتے کے روز خبر دی ہے کہ انہیں میکسار ٹکنالوجیز کے توسط سے چند تصاویر ملی ہیں جن میں ایرانی آئیل ٹینکر کو وہاں دیکھا جا سکتا ہے۔ یہ تصاویر جان بولٹن کی جانب سے قبل ازیں جاری کردہ بلیک اینڈ وائٹ تصاویر سے ملتی جلتی ہیں۔ایران حکام نے اپنے متنازع آئیل ٹینکر کی شام میں موجودگی کا اعتراف نہیں کیا۔ بحری جہاز نے گذشتہ پیر کو خودکار تشخیص کا نظام بند کر دیا تھا۔جبرالٹر حکومت نے جولائی کے مہینے میں ایرانی سپر آئیل ٹینکر کو تحویل میں لیتے ہوئے خدشتہ ظاہر کیا تھا کہ اس کی نقل وحرکت سے شام پر عاید یورپی یونین کی پابندیاں غیر مؤثر ہو جائیں گی۔ تاہم جہاز کو تہران کیی جانب سے یقین دہانی پر جانے کی اجازت ملی کہ جہاز پر لدا تیل شام نہیں لیجایا جائے گا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here