امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایران پر عاید کی گئی پابندیاں نہیں اٹھائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ کہ ایران نے مذاکرات کے لیے پابندیاں اٹھانے کی شرط عاید کی ہے مگر ہم تہران کی اس شرط کوقبول نہیں کریں گے۔
میڈیا رپورٹوں کے مطابق امریکی صدر نے پابندیاں اٹھانے کے بدلے میں ایرانیوں سے ان کے ملنے کی درخواست کو مسترد کردیا ہے۔ ذرائع کے مطابق کانگریس کے ارکان کو گذشتہ روز ایک بند کمرہ اجلاس میں سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر ایران کی طرف سے کیے گئے حملوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ خیال رہے کہ امریکہ پہلے ہی سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پر حملوں میں ایران کو مورد الزام ٹھہرا چکا ہے۔ ایک ٹویٹ میں صدر ٹرمپ نے لکھا کہ’ایرانی لیڈر چاہتے ہیں کہ میں ان سے ملنے کے لیے ایران پرعائد پابندیاں ختم کردوں۔ میں نے کہہ دیا ہے کہ بالکل نہیں۔سینیٹرز نے بتایا کہ ان کو یہ بریفنگ پینٹاگون اور امریکی انٹیلی جنس حکام نے فراہم کی۔بریفنگ کے بعد صدر ٹرمپ کے قریبی اتحادی سینیٹر لنڈسے گراہم نے ایران کو مناسب پیغام پہنچانے کے لئے فوجی ردعمل کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ان کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ اس انتظار میں ہیں کہ اتحاد بننے کے بعد کیا ہوگا؟
گراہم نے فوجی رد عمل کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ میں اب سے زیادہ پرعزم ہوں کہ ایران کے خلاف فوجی ایکشن لیا جانا چاہیئے۔ انہیں اپنی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ پابندیوں سے یہ کام کبھی نہیں ہوگا۔ ہمیں فوجی انتقامی کارروائی کے بارے میں سوچنا ہوگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here