جہاز رانی میں رکاوٹ ایران کو مہنگی پڑے گی: برطانیہ

Share Article

خلیج میں امریکہ اور ایران کے دمریان جاری کشیدگی کم ہونے کے بجائے مزید گہری ہوتی جا رہی ہے ۔ایران کے ذریعہ بحری حدود کی خلاف ورزی کے بعد برطانوی آئل ٹینکر کو قبضے میں لئے جانے کے بعدحالات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ برطانیہ نے اس سلسلے میں ایران کو انتباہ دیا ہے کہ اس کے نتائج برے ہو سکتے ہیں۔

Image result for uk vs iran

میڈیا ذرائع کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ جیریمی ہنٹ نے ایران کی جانب سے برطانیہ کا تیل بردار بحری جہاز قبضے میں لینے کے اقدام کے بعد تہران کو اس کے سنگین نتائج پر خبردار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینا معمولی بات نہیں۔ ایران کو اس کی بھاری قیمت چکانا پڑ سکتی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران کی جانب سے تیل بردار جہاز قبضے میں لینے کے بعد لندن سوچ سمجھ کر مگر کوئی ٹھوس لائحہ عمل اختیارکرے گا۔ انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ عالمی جہاز رانی میں رکاوٹ ڈالنے سے تہران کو نقصان پہنچے گا۔قبل ازیں برطانوی وزیر خارجہ نے اپنے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے بھی ٹیلیفون پر بات چیت کی اور انہیں صورت حال سے آگاہ کیا۔ توقع ہے کہ وہ اپنیایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے بھی رابطہ کریں گے۔جیریمی ہنٹ کا کہنا تھا کہ تیل بردار جہاز روکنے کے بعد ایران کے خلاف ہم سوچ سمجھ کر مگر ٹھوس رد عمل ظاہر کریں گے۔

 

Image result for Iran will hamper shipping expensive: United Kingdom

ان کا کہنا تھا کہ ہم ایران کے خلاف کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کے حق نہیں اور مسائل کو بات چیت اور سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ اس کے باوجود اگر ایران نے عالمی جہاز رانی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی تو سب سے زیادہ نقصان ایران کا ہوگا۔برطانوی حکومت نے جمعہ کی شام ایک بیان میں آبنائے ہرمز میں اپنا ایک تیل بردار جہاز ایرانی تحویل میں لیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے غیر معقول اور انتہائی تشویشناک اقدام قرار دیا۔جمعہ کو ایرانی ٹی وی چینل پر نشر ایک خبر میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی کے قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے برطانیہ کے ایک تیل بردار جہاز کو روکا گیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *