برطانیہ کی طرف سے ایران پر کچھ نئی پابندیاں عائد  کیے جانے  کی وجہ سے  تہران میں مشتعل کچھ لوگوں نے برطانیہ سفارت خانے میں گھس کر توڑ پھوڑ کی۔برطانیہ امریکہ کا سب سے بڑا حلیف ہے اور اس کے ہر فیصلے پر بے چوں و چرا عمل کرتا ہے۔ امریکہ نے 2003 سے ایران پر معاشی پابندی عائدکر رکھی ہے۔یہ پابندی ایران کی طرف سے ایٹمی تونائی منصوبوں میں تبدیلی نہ کرنے پر مصر رہنے کی وجہ سے عائد کی گئی ہے۔اس پابندی کی وجہ سے ایران کی معیشت پر کوئی خاص  منفی اثر نہیں پڑا ہے ،لہٰذا ان پابندیوں کے نتیجے میں مغربی طاقتیں ایران کو اپنی باتیں منوانے پر مجبور کرسکتی ہیں جبکہ مغربی طاقتیں یہ چاہتی ہیں کہ ایران جلد سے جلد  اپنی ایٹمی توانائی سے دستبردار ہو یا منصوبے میں تبدیلی کا اعلان کرے۔پرانی پابندیوں سے مایوس ہوکر مغربی طاقتوں نے ایران کے خلاف کچھ نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی پابندی  کے نفاذ کے بعد ایران میں دیگر تجارتی امور کے ساتھ  مرکزی بینک کا لین دین بھی متاثر ہوگا۔ ظاہر ہے ایسی صورت میں ایران کی تجارت پر خطرناک نتیجہ بر آمد ہوگا،جو وہاں کے عوام کے لئے قطعی اچھی علامت نہیں ہے۔اگرچہ روس اور چین اس پابندی کے خلاف ویٹو پاور استعمال کرنے کی باتیں کہہ رہے  ہیں مگر مغربی طاقتوں کے اصرار کے سامنے شاید یہ دونوں ملک نرم پڑ جائیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے اور امریکہ مغربی طاقتوں سے مل کر ایران کے مرکزی بینک پر روک لگا نے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو اس کا  اثر ایران کی تجارتی منڈی پر زبردست مندی کی شکل میں ظاہر ہوگا ۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ نئی معاشی پابندی کے عائد کرنیکے بعد ایران کی حکومت اپنے ایٹمی نظریے میں کوئی تبدیلی لائے گی؟حالات سے ایسامحسوس ہوتاہے کہ ایران ان پابندیوں سے خوفزدہ نہیں ہے۔ وہ ہر طرح کی مشکلوں کا سامنا کرنے کے لئے تیار ہے۔وہ اپنے ایٹمی عزائم سے پیچھے نہیں ہٹے گا،جیسا کہ مجلس شوریٰ کے اسپیکر علی لاریجانی نے اپنے ایک بیان میں صاف کردیا ہے کہ ’’امریکہ چاہے جتنی کوشش کرلے اور جتنی سازشیں رچ لے مگر ایران اپنے ایٹمی منصوبے میں کوئی ترمیم و تبدیلی نہیں کرے گا۔‘‘ لاریجانی کے اس بیان سے یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ ایران اپنے منصوبوں کو بدلنے کے حق میں نہیں ہے ۔اس بات کو امریکہ اور برطانیہ دونوں ہی ملک کے حکمراں جانتے ہیں پھر یہ طاقتیں ایران کو معاشی  پابندیوں میں جکڑ کر رکھنا کیوں چاہتی ہیں۔کیا وہ یہ چاہتی ہیں کہ ایران کی حکومت معاشی بد حالی سے تنگ آکر امریکہ کی باتیں تسلیم کرلے یا اس کے پیچھے مقصد کچھ اور ہے۔اگر پابندی کے پس پردہ حقائق کا جائزہ لیا جائے تو یہ اشارہ ملتا ہے کہ اب تک جہاں ،جس ملک پر بھی پابندی لگائی گئی ہے وہاں کے صرف  عوام ہی پریشان ہوئے ہیں ۔حکومت پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑا ہے۔ نوے کی دہائی میںعرب ایکونومیکل یونٹ نے  معاشی پابندی کے تعلق سے جو تجزیہ پیش کیا ہے اس میں بھی یہی بات کہی گئی ہے کہ جب کسی ملک پر  معاشی پابندی لگائی جاتی ہے تو اس کا اثر حکمرانوں پر نہیں پڑتاہے بلکہ اس پابندی کی وجہ سے تسکروں  اور غیر آئینی طور پر تجارت کرنے والوں کو سیدھا  فائدہ ملتا ہے۔ یونٹ نے اپنے ایک میمورنڈم میں کہا ہے کہ جب کسی ملک پر پابندی لگائی جاتی ہے تو پڑوس ملک میں غیر قانونی تجارت کرنے والوں کی باچھیں کھل جاتی ہیں ۔متاثرہ ملک میں وہ اپنی غیر آئینی تجارتوں کا جال بچھا دیتے ہیں ،جس کا  خمیازہ عوام کو بھگتنا پڑتا ہے ۔ چنانچہ گزشتہ صدی کی نوی دہائی میں جب عراق پر معاشی پابندی لگائی گئی تھی تو اس کا راست اثر وہاں کے عوام اور بچوں پر پڑا تھا۔بچے غذا اور دوا میں کمی کی وجہ سے موت کے منہ میں جارہے تھے لیکن حکمرانوں کے محلوں میں اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا تھا، لہٰذا معاشی پابندیوں کے باوجود کسی بھی حکومت کو اپنی بات منوانے کے لئے مجبور نہیں کیا جاسکتا ہے۔اگر امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ نئی پابندیوں سے ایران کو جھکا دے گا اور اس کے حکمرانوں کو ایٹمی توانائی میں تبدیلی لانے پر مجبور کردے گا تو اس کی خام خیالی ہے کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ معاشی پابندی کسی حکومت کو جھکانے کا کامیاب طریقہ نہیں ہے۔خود ایران پر 2003 سے امریکہ نے جزوی طور پر معاشی پابندی لگا رکھی ہے لیکن وہ اپنے مقصد میں ذرا بھی کامیاب نہیں ہوسکا ہے تو پھرنئی پابندیوں سے وہ کیاحاصل کرناچاہتا ہے، سوائے اس کے کہ وہ عوام کے لئے مزید مشکلیں پیدا کرے، یا پھر امریکہ  ایران کے ساتھ بھی وہی صورت حال پیدا کرنا چاہتا ہے جو شام کے ساتھ ہورہا ہے۔ پہلے وہ عوامی سطح پر حکومت مخالف تحریکیں لاکر سیاست میں اتھل پتھل پیدا کرے تاکہ اپنی مرضی  کی حکومت لاکر ایٹمی توانائی کے منصوبوں میں تبدیلی کی راہیں ہموار ہو۔اگر ایسا ہی ہے تو ایران کو ابھی سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ امریکہ اور اس کی حلیف پارٹیاں عراق ،افغـانستان مصر اور لیبیا کے بعد شام میں اپنا قدم جمانے کے قریب ہے۔اس کے بعد وہ ایران کی طرف رخ کرسکتا ہے جس کے لئے وہ ابھی سے ہی راہیں ہموار کر رہا ہے اور معاشی پابندیوں کے ذریعہ وہاں کے عوام میں بے چینی پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ عوام اپنے حکمراں سے بغاوت کرنے پر  مجبور ہوجائیں۔ ایران کے لئے  یہ ایک نازک وقت ہے۔اسے مغربی طاقتوں کے مقابلے عوامی و حکومت کی سطح پر اتحاد کی ضرورت ہے۔ایک ایسے اتحاد کی جس میں مغربی طاقتوں کو مداخلت کی کوئی راہ نہ ملے۔ سرکاری سطح پر جو بھی اختلافات ہیں ان کو باہمی بات چیت سے ختم کرنے کی ضرورت ہے خاص طور پر مرشد اعلیٰ خامنہ آی ، مجلس مشاورت کے اسپیکر لاریجانی  اور ایرانی صدر احمدی نژاد کے درمیان گزشتہ الیکشن سے ہی جو تلخیاں پائی جارہی ہیں ان تلخیوں کو ختم کرنا ہوگا  ورنہ امریکہ کو اپنے مقصد میں کامیاب ہوتے دیر نہیں لگے گی۔برطانیہ سفارت کانے پر حملے کے سلسلے میں تینوں رہنمائوں کے بیچ جو اختلاف سامنے آیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ اب ایران میں سیاسی سطح پر دراڑ آرہی ہے جو ملک کے لئے اچھی علامت نہیں ہے۔لاریجانی  کہتے ہیں کہ یہ حملہ مرشد اعلیٰ کے اشارے پر ہواہے۔جس کی حمایت انہوں نے بھی کی تھی اور ایرانی صدر نژاد کہتے ہیں کہ اگر یہ فیصلہ مرشد اعلیٰ کی طرف سے ہے تو غلط ہے اور لاریجانی نے جو کچھ بھی کیا ہے اس سے ایران کی خارجہ پالیسی متاثر ہوئی ہے۔اس حملے کی وجہ سے برطانیہ نے نہ صرف تہران میں اپنا سفارخانہ بند کردیا ہے بلکہ برطانیہ سے تمام ایرانی سفارت کاروں کو واپس ملک بھی بھیج دیا ہے۔سفارتی تعلقات کا منقطع ہوجانا دونوں ملکوں کے درمیان  بڑھتی تلخیوں کا غماز ہے۔ ایسے میں اگر ایرانی حکمراں مغربی طاقتوں کو افواہ پھیلانے اور سفارت خانے پر حملہ کرنے جیسے اقدام سے گریز کریں تو بہتر ہے کیونکہ اس کا خمیازہ ایرانیعوام کو ہی بھگتنا پڑے گا لہٰذا ایرانی حکومت کو  یا حکومت سے جڑے افراد کو ابھی کوئی ایسا قدم نہیں اٹھا نا چاہئے جس سے ان کی وازرت خارجہ پر عالمی دبائو میں اضافہ ہو۔کیونکہ مغربی طاقتیں موقع کی تلاش میں ہیں ،وہ اس بات کو جانتی ہیں کہ معاشی پابندی سے کسی بھی ملک کے حکمراں متاثر نہیں ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی حکومت کے فیصلے کو بدلا جا سکتا ہے پھر بھی ان طاقتوں کی طرف سے نئی نئی پابندیوں پر اصرار کرنا ان کی بد نیتی کی منہ بولتی تصویر ہے۔
مغربی طاقتوں کی طرف سے ایران پر نت نئی پابندیاں لگائے جانے سے ایک بات تو سمجھ میں آتی ہے کہ یہ طاقتیں ایران کو عراق اور لیبیا بنا دینا چاہتی ہیں مگر شاید مغربی طاقتوں کے لئے یہ آسان نہ ہو،کیونکہ ایران جغرافیائی اعتبار سے ایسے موقع پر ہے جہاں جنگ کی صورت میں اسے شام اور لبنان سے خاص طورسے لبنان میں موجود حزب اللہ کی بھرپور حمایت ایران کو مل سکتی ہے ۔حزب اللہ ایسی  جماعت کا نام ہے جس نے اسرائیل کو دھول چٹا رکھی ہے  اور یہ مغربی طاقتوں کے مقابلے میں ایران کے ساتھ کھڑی ہوگی ۔ایسی صورت میں اگر مغربی طاقتیں ایران کے خلاف کوئی کارروائی کرتی ہیں  جیسا کہ اسرائیل بار بار ایران پر حملے کی دھمکی دے رہا ہے تو ایسی صورت میں مغربی طاقتوں کے لئے ان کا یہ قدم انتہائی مہنگا ثابت ہوسکتا ہے۔   g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here