راجیو کمار
ایران کے مدعے پر امریکہ اور اسرائیل دوسرے ممالک کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ایک طرف ان دونوں ممالک نے ایران پر ایٹم بم بنانے کا الزام لگایا ہے، جس کی وجہ سے اس پر نہ صرف خود اقتصادی پابندی عائد ہو گئی ہے بلکہ دوسرے ممالک پر بھی اس کے لئے دبائو ڈالا ۔ دوسری طرف امریکی خفیہ ایجنسی کے ایک سینئر افسر کا کہنا ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا ہے۔ امریکہ کے ایک اخبار نے یہ خبر چھاپی ہے کہ ایران کے بارے میں امریکہ کا تازہ اندازہ وہی ہے جو 2007میں تھا۔ اس وقت امریکی خفیہ ایجنسی نے کہا تھا کہ ایران نے  2003میں ہی ایٹم بم بنانے کا پروگرام بند کر دیا تھا۔ یہی نہیں اس سینئر خفیہ افسر نے یہ بھی کہا ہے کہ اسرائیل بھلے ہی امریکہ سے ایران کے بارے میں مشکل سوا ل کر رہا ہے اور ایران کے خلاف جارحانہ کارروائی کرنے کے لئے اس پر دبائو بنا رہا ہے لیکن اس کی خفیہ ایجنسی موساد بھی اس بات سے متفق ہے کہ ایران ایٹم بم نہیں بنا رہا ہے۔ حالانکہ یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکی خفیہ ایجنسیاں ایران پر نگرانی رکھے ہوئے ہیں اور اس کے یورینیم کے فروغ اور میزائلوں کی ترقی کی کوشش کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن ابھی تک اس کے کوئی پختہ ثبوت نہیں ملے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنا رہا ہے۔کچھ ماہ قبل بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی( آئی اے ای اے ) نے اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ ایران 2003سے مسلسل ایٹمی ہتھیاروں پر ریسرچ کر رہا ہے۔ حالانکہ ایران نے آئی اے ای اے کی رپورٹ کو خارج کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ امریکی اشارے پر تیار کی گئی رپورٹ ہے۔ا یران کہتا رہا ہے کہ اس کا ایٹمی پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے۔
ان متضاد رپورٹوں کو کیا کہا جا سکتا ہے ۔ ایک طرف ایران پر ایٹم بم بنانے کا الزام عائد کر کے اس پر حملہ کرنے کی بات کی جاتی ہے تو دوسری طرف کہا جاتا ہے کہ ابھی اس کے ایٹم بنانے کے کوئی پختہ ثبوت نہیں ملے ہیں۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ امریکہ کے پہلے کے اندازہ اور ابھی کے اندازہ میں یکسانیت کیوں نہیں ہے۔ یا تو امریکہ پہلے جھوٹ بول رہا تھا یا پھر اب جھوٹ بول رہا ہے۔اگر اس نے پہلے جھوٹی رپورٹ تیار کی تھی تو اس سے ایران میں امریکہ کے پوشیدہ مفاد کا پتہ چلتا ہے۔روس اور دیگر کئی ممالک پہلے سے ہی کہہ رہے تھے کہ ایران کے ایٹم بم بنانے کا کوئی پختہ ثبوت نہیں ہے ۔ جس سے اس پر فوجی کارروائی کرنے یا پھر اقتصادی پابندی لگانے کا کوئی جواز نہیں بنتا ہے۔ ہندوستان نے جب بھی ایران پر اقتصادی پابندی نہیں لگائی اور اس سے تیل امپورٹ کرنا جاری رکھا ہے۔ لیکن جب ہندوستان نے امریکہ اور یوروپی یونین کی بات نہیں مانی تو انھوں نے سخت ردعمل ظاہر کیا تھا۔ لیکن اب وہ خود ہی کہہ رہا ہے کہ ایران کے ایٹم بم بنانے کے پختہ ثبوت نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ اس کی پرانی رپورٹ کو اگر جھوٹا مانا جائے تو آئی اے ای اے کی رپورٹ کو بھی غلط مانا جانا چاہئے۔ ایسے میں یہ بات صاف ہوتی ہے کہ بین الاقوامی تنظیمیں امریکہ کے اشاروں پر کام کرتی ہیں۔ امریکہ جو چاہے ، جیسی چاہے ان سے رپورٹ تیار کرا سکتا ہے۔ ہندوستان نے بھی مدعا اٹھایا تھا کہ بین الاقوامی تنظیموں میں کچھ ممالک کا دبدبہ ہے۔ ہندوستان سلامتی کونسل کی توسیع کی بات کر رہا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ اگر بین الاقوامی تنظیموں میں ترقی پذیر ممالک کی مناسب نمائندگی نہیں ہوگی تو پھر موجودہ دور میں ان تنظیموں کی اہمیت کم ہوتی جائے گی۔ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ بین الاقوامی تنظیموں کو کچھ چنندہ ممالک کے چنگل سے باہر نکالا جائے۔ اگر آئی اے ای اے کی رپورٹ کو اسی طرح جھٹلایا گیا تو اس پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ ایران تو اسی وقت کہہ رہا تھا کہ آئی اے ای اے چیف یوکیو امانو امریکہ کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی ہیں اور اسے مطمئن کرنے کے لئے ہی ایران مخالف رپورٹیں تیار کی ہیں۔ امریکہ کے اس تازہ اندازہ سے تو ایران کی بات ہی صحیح معلوم ہوتی ہے۔
اس کے برعکس اگر امریکی ایجنسی کی نئی رپورٹ کو غلط مانیں تو کہا جا سکتاہے کہ امریکہ ایران پر فوجی کارروائی کو یا تو کچھ وقت کے لئے ٹالنا چاہتا ہے یا پھر اسے اس بات کا ڈر ہے کہ ایران پر فوجی کارروائی کرنے سے اسے زیادہ نقصان ہوگا۔ چونکہ امریکہ کی طرف سے مسلسل یہ کہا جا رہا تھا کہ آئندہ کچھ مہینوں میں ایران پر فوجی کارروائی کی جائے گی۔ اسرائیل تو امریکہ کی ہاں کا انتظار کر رہا ہے۔ وہ تو جلد از جلد ایران پر فوجی کارروائی کرنا چاہتا ہے۔اسے تو بس موقع چاہئے جو کہ ایٹم بم بنانے کے ایشو پر مل رہا ہے۔لیکن امریکہ ابھی ایسا نہیں چاہتا ہے۔ا یران پر فوجی کارروائی ٹالنے کی کچھ وجوہات ہیں۔ ابھی وہ افغانستان میں پھنسا ہے۔وہاں امن بحالی کے لئے طالبان سے مذاکرات کر رہا ہے۔اس کے علاوہ پاکستان کے ساتھ بھی اس کے تعلقات بگڑ ے ہوئے ہیں۔ فی الحال اس طرح کے کوئی اشارے بھی امریکہ کو نہیں مل رہے ہیں کہ پاکستان ایران پر امریکہ کی کارروائی میں اسے تعاون کرے گا۔تعاون کی بات تو دور پاکستان تو ایران کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط کر رہا ہے۔ اس نے ایران سے اپنے معاشی تعلقات کو نہ صرف قائم رکھا ہے بلکہ اسے اور وسعت دینے کی کوشش بھی کی ہے۔ حال ہی میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے قومی صدور ایک اسٹیج پر آئے تھے۔ تینوں ممالک نے اس میٹنگ میں اتحاد کا تعارف بھی کرایا تھا۔ اس سے امریکہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے سے ڈر رہا ہے۔ ایران پر فوجی کارروائی کرنے سے بچنے کی ایک وجہ ایران کی فوجی اور تکنیکی صلاحیت کا مضبوط ہونا بھی کہا جا سکتا ہے۔ایران امریکہ اور اسرائیل کی فوجی کارروائی کی دھمکی سے کبھی نہیں ڈرا ہے۔ وہ ان کی دھمکیوں کا کرارا جواب دیتا رہا ہے۔ ایران نے تو امریکی ڈرون کو اپنے قبضہ میں لے کر اپنی تکنیکی قوت کانمونہ بھی دکھا دیا ہے۔ حالانکہ امریکہ اسے ماننے کو تیار نہیں ہے اور وہ کہتا رہا ہے کہ اس کا ڈرون تکنیکی خرابی کی وجہ سے گر گیا تھا، ایران نے اسے اپنے قبضہ میں اپنی تکنیک کی وجہ سے نہیں لیا تھا۔ امریکہ جو بھی کہے لیکن وہ حقیقت سے تو واقف ہے ۔ ایک طرف اسے اسرائیل کا دبائو درپیش ہے تو دوسری طرف اسے اس بات کا ڈر ہے کہ اگر اس وقت ایران پر فوجی کارروائی کی گئی تو اس کی فضیحت ہو جائے گی۔ اسرائیل کی بات نہ ماننے کی کوئی وجہ تو امریکہ کو بتانی ہی ہوگی کیونکہ امریکہ کی یہودی لابی کی وہاں کے سیاسی گلیاروں میں خاصی رسائی ہے۔امریکہ کے اس دوہرے رویہ سے دوسرے ممالک کو یہ سمجھنا چاہئے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کا تعین قومی مفادات کو دھیان میں رکھ کر کریں نہ کہ کسی غیر ملکی طاقت کے اثر میں۔ہندوستان کے لئے یہ اور ضروری ہے۔ حالانکہ ایران کے مدعے پر ہندوستا ن نے یوروپی یونین اور امریکہ کی بات نہیں مانی ہے اور قومی مفادات کو ہی دھیان میں رکھا ہے۔ ہندوستان نے ایران پر اقتصادی پابندی عائد کرنے اور وہاں سے تیل درآمد بند کرنے کے مطالبہ کو خارج کر دیا تھا۔ چونکہ ہندوستان پیٹرولیم کی کھپت کا 12فیصد ایران سے درآمد کرتا ہے ، جب تک اس کا متبادل نہ ہو اور ایران کے خلاف کارروائی کا کوئی پختہ ثبوت نہ ملے ،تب تک ہندوستان کو ایران کے سلسلہ میں اپنے موجودہ رخ پر ہی قائم رہنا ہوگا۔ لیکن ہندوستانی مخلوط حکومت کب کیا کر دے اس کا کچھ پتہ نہیں رہتا۔ حال ہی میں سری لنکا میں حقوق انسانی کی خلاف ورزی کے ایشو پر پہلے تو حکومت خاموش رہی لیکن جب حکومت کی معاون جماعت ڈی ایم کے نے حکومت پر دبائو ڈالا تو اسے امریکہ کی اس تجویز کی حمایت کرنے کو مجبور ہونا پڑا جس میں سری لنکا میں لٹے کے خلاف کارروائی کے دوران حقوق انسانی کی خلاف ورزی کی مذمت کی گئی ہے۔اس ایشو کو مغربی میڈیا نے اٹھایا تھا اور واقعات کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا تھا۔ تمل ناڈو کی سیاسی جماعتوں کو تملوں کا کتنا خیال ہے ،یہ تو پتہ نہیں لیکن اس ایشو کو اچھال کر وہ اپنا ووٹ بینک ہی مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ان کے ساتھ ہی صحیح غلط کے سوچے بغیر مرکزی حکومت یہ فیصلہ لینے کو تیار ہے کیونکہ اسے اپنا اقتدار بچانا ہے۔کہیں اسی طرح کوئی معاون جماعت ایران کے ایشو پر بھی ہندوستانی پالیسی کو بدلوانے کی ٹھان لے تو حکومت وہ بھی کر دے گی۔ ہندوستانی سیاست میں امریکہ پرست سیاسی جماعتوں کی کمی تو نہیں ہے۔ اس لئے اس بات کا خدشہ توموجودہ حکومت ہند کے سلسلہ میں قائم رہتا ہے۔ ہندوستان کو اگر وسط ایشیا کے توانائی وسائل تک اپنی رسائی کرنی ہے تو ایران کے ساتھ تعلقات خوشگوار بنانے ہوں گے۔ ابھی ہندوستان ایران کے تعاون سے وسط ایشیا تک بحری راستہ سے اپنی رسائی قائم کرنے کے لئے ایک ٹرانزٹ روٹ بنا رہاہے۔ اس سے وقت اور پیسے دونوں کی بچت ہوگی۔ وسط ایشیا سے تیل یا گیس ٹرانسپورٹ میں تعاون ملے گا اور اس کی قیمتیںبھی کچھ کم ہوں گی۔ اس لئے ہندوستانی سیاسی جماعتوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ کم سے کم خارجہ پالیسی بنانے میں داخلی سیاست پر توجہ نہ دیں بلکہ قومی مفادات کو دھیان میں رکھیں۔ امریکہ اپنے مفادات کو دھیان میں رکھتا ہے حالانکہ ہمیں اس کے نقش قدم پر نہیں چلنا ہے کیونکہ اس کامفاد دوسرے ممالک کو نقصان پہنچا کر ہی پورا ہوتا ہے۔ لیکن ہندوستان کا مفاد دوسرے ممالک کے مفادات کے ساتھ تال میل قائم کر کے ہی پورا ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے۔ ہمیں توڑنے کی نہیں جوڑنے کی سیاست کرنی چاہئے۔ ایران کے ایشو پر امریکہ کی خودغرضی کھلی کتاب کی طرح ہے۔امید یہی ہے کہ ہندوستان امریکہ کے جال میں نہ پھنسے گا۔g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here