ایران جوہری معاہدے کے تحت وعدوں کی مکمل پاسداری کرے

Share Article

فرانس، جرمنی اور برطانیہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 کے جوہری معاہدے میں کیے گئے وعدوں کی ‘مکمل پاسداری’ کرے۔ تینوں ممالک نے مشترکہ بیان میں کہا کہ ‘یہ ضروری ہے کہ ایران معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کی پوری تعمیل کرے۔خبر ایجنسی اے ایف پی کے مطابق بیان میں کہا گیا کہ ‘جولائی 2019 کے بعد سے ایران کی جانب سے وعدوں کی خلاف ورزی پر گہری تشویش ہے، ایسے تمام اقدامات ختم ہونا چاہیں۔اعلامیے میں کہا گیا کہ فرانس، جرمنی، اور برطانیہ سمیت یورپی یونین میں دیگر شراکت دار ‘بنیادی مشترکہ سلامتی مفادات کے حصے دار ہیں۔انہوں نے کہا کہ خطے میں ایران کی جانب سے غیر مستحکم کرنے والے اقدامات کا سفارت کاری اور بامقصد طریقے سے حل تلاش کرنا ہوگا جس میں تہران کا میزائل پروگرام بھی ہے۔بیان میں کہا گیا کہ ‘ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ خطے میں تناؤ میں کمی اور استحکام کے لیے اقدامات جاری رہیں۔

واضح رہے کہ 3 جنوری کو امریکی ڈرون حملے میں ایران کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد تہران نے امریکا کو سنگین نتائج کی دھمکی دی تھی۔ بعدازاں ایران نے قاسم سلیمانی کی ہلاکت کے جواب میں 8 جنوری کو عراق میں امریکا اور اس کی اتحادی افواج کے 2 فوجی اڈوں پر 15 بیلسٹک میزائل داغے تھے اور واشنگٹن نے تہران کا دعویٰ مسترد کردیا تھا کہ حملے میں امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔جس کے بعد ایران نے عالمی طاقتوں کے ساتھ 2015 میں کیے گئے جوہری معاہدے سے مکمل طور پر دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔

یاد رہے کہ 2015 میں اس وقت کے امریکی صدر باراک اوباما نے دیگر عالمی طاقتوں بشمول برطانیہ، چین، فرانس، جرمنی، روس اور امریکا کے مابین ویانا میں ایرانی جوہری پروگرام سے متعلق طے پانے والے ایک معاہدہ پر دستخط کیے تھے۔ایران نے بھی اس معاہدے پر دستخط کیے تھے جس میں کہا گیا تھا کہ ایران بلیسٹک میزائل بنانے کے تمام پروگرام بند کردے گا اور اس معاہدے کے متبادل کے طور پر ایران پر لگائی گئی پابندیاں اٹھا لی جائیں گی اور اسے امداد کے لیے اربوں روپے حاصل ہوسکیں گے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *