ایران۔ سعودی عرب کشیدگی میں کمی لانے کے لیے عمران خان کی ایران کو پیشکش

Share Article

 

سعودی عرب اور ایران کے درمیان تناؤ کے خاتمے کے لیے پاکستان نے ثالثی کی خدمات کے دائرہ کار اپنی میزبانی میں دونوں ممالک کو براہ راست مذاکرات کی پیش کش کی ہے۔پاکستان خلیج فارس میں ان دونوں ممالک کے مابین کشیدگی ختم کرانے کی خاطر سفارت کاری کے ذریعے انہیں براہ راست مذاکرات پر آمادہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

دونوں مسلمان ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں کے مرحلے میں شامل دو اعلی حکام نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر میڈیا کو بتایا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ دورہ تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کے دوران یہ تجویز پیش کی۔انہوں نے ایرانی حکام کو بتایا کہ پاکستان نہ صرف دونوں ممالک کے مابین مذاکرات میں سہولت کاری کے لیے تیار ہے بلکہ اس کے ساتھ یہ اسلام آباد میں براہ راست مذاکرات کی میزبانی فراہم کرنے کا بھی عندیہ دیتا ہے، تا ہم عمران خان کی اس تجویز پر ایرانی قیادت نے محتاط ردعمل کا مظاہرہ کیا۔

حکام کے مطابق وزیر اعظم عمران خان امن کوششوں کے سلسلے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے آج ریاض میں ہونے والی ملاقات میں بھی اپنے اس نظریے کو پیش کریں گے۔پاکستانی اعلی افسران کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اس تجویزکا مقصد ایرانی اورسعودی حکام کے درمیان راوبط کی راہیں کھولنا ہے کیونکہ آرامکو پر ڈراون حملوں کے بعد سے تناو ٔمیں باعث ِ تشویش حد تک اضافہ ہوا ہے۔اعلی افسران نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سعودی عرب کا اسٹریٹجک اتحادی جبکہ ایران کا ہمسایہ ہے، ان دونوں ممالک میں تصادم ہونے کی صورت میں ملک اور پورے خطے پر اس کے انتہائی منفی اثرات مرتب ہوں گے اور کسی جنگ کی صورت میں حکومتِ پاکستان کے لیے بہت ہی مشکل صورتحال پیدا ہو جائے گی۔حکمتِ عملی معاہدے کا شراکت دار ہونے کے ناطے پاکستان حملوں کے بعد سعودی عرب کی آزادی و خودمختاری کی حفاظت کا ذمہ دار ہے لیکن یہ صورت حال پاکستان کو ایران سے براہ راست محاذآرائی سے دوچار کر دے گی، جس کے انتہائی تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔ لہذا اس پیچیدگی کاموقع پیدا نہ ہونے کے لیے حکومتِ پاکستان ایران اورسعودی عرب کے مابین کشیدگی میں گراوٹ کے درپے ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *