ایران نے ہمارے آئل ٹینکر کا راستہ روکا ہے: برطانیہ

Share Article
Iranian Boats Tried to Block British Tanker in Persian Gulf, U.K. Says

 

خلیجی ممالک میں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی میں مزید اضافہ ہوتا نظر آ رہا ہے ۔اب برطانیہ کی جانب سے یہ اعتراض درج کرایا گیاہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں ہمارے آئل ٹینکر کا راستہ روکنے کی کوشش کی ہے ۔دوسری جانب ایران نے برطانوی دعوے کو سختی سے مسترد کر دیا ہے ۔ وزیر خارجہ ریان جواد ظریف نے واضح کیا ہے کہ برطانیہ کا مذکور بیان صرف خطے میں کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ہے ۔ذرائع کے مطابق برطانیہ نے کہا ہے کہ ایران نے اس کے ایک تجارتی آئل ٹینکر کا راستہ روکنے اور اسے موڑنے کی کوشش کی ہے تاہم برطانوی رائل نیوی نے یہ کوشش کامیاب نہیں ہونے دی۔

Image result for Iran has stopped our oil tanker's way: Britain

ایرانی فورسز نے بدھ 10 جولائی کو مبینہ طور پر ایک برطانوی تجارتی بحری جہاز کو اس وقت روکنے اور اس کا راستہ تبدیل کرنے کی کوشش کی جب وہ آبنائے ہْرمز میں سے گزر رہا تھا۔ لندن کے مطابق تاہم برطانوی رائل نیوی کے ایک بحری جہاز نے یہ کوشش کامیاب نہیں ہونے دی۔برطانوی حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان کے مطابق، ”بین الاقوامی قوانین کے برخلاف، تین ایرانی کشتیوں نے تجارتی بحری جہاز برٹش ہیریٹیج کا آبنائے ہْرمز میں راستہ روکنے کی کوشش کی۔‘‘بیان کے مطابق برطانوی نیول فریگیٹ ایچ ایم ایس مونٹروز کی طرف سے ایرانی کشتیوں کو متنبہ کرنے اور ان کشتیوں اور برطانوی آئل ٹینکر کے درمیان آ جانے کے بعد مذکورہ ایرانی کشتیاں واپس لوٹ گئیں۔اس بیان میں مزید کہا گیا ہے، ”ہمیں اس عمل پر تحفظات ہیں اور ہم ایران سے یہ مطالبہ دہراتے ہیں کہ وہ علاقے میں کشیدگی میں کمی لائے۔‘‘

Image result for Iran has stopped our oil tanker's way: Britain

دوسری طرف ایرانی انقلابی گارڈز نے برطانوی دعوے کو مسترد کیا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے بھی اس برطانوی الزام کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے اسے مسترد کر دیا ہے۔ ظریف کے مطابق، ”بظاہر برطانوی آئل ٹینکر اس علاقے سے گزرا ہے۔ جو کچھ انہوں نے خود ہی کہا ہے یا جو دعوے کیے جا رہے ہیں وہ محض کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش ہے اور اس کی کوئی وقعت نہیں۔‘‘

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *