ایران جوہری معاہدے کی حدود سے تجاوز کر رہا ہے: عالمی توانائی ایجنسی

Share Article

 

عالمی توانائی ایجنسی ‘آئی اے ای اے’ نے ایران پر جوہری معاہدے کی خلاف ورزیوں اور یورینیم افزودگی میں حدود سے تجاوز کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق جمعہ کے روز عالمی توانائی ایجنسی کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ تہران عالمی طاقتوں کے ساتھ طے پائے جوہری معاہدے کی شرائط کو پامال کر رہا ہے۔ آئی اے ای اے نے ایران پر سنہ 2015ئ￿ میں طے پائے معاہدے کی شرائط پرعمل درآمد کو یقینی بنانے اور یورینیم کی افزودگی کو مجاز حد سے آگے نہ لے جانے پر زور دیا ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ معاہدے کے تحت ایران کو 202 کلو گرام یورینیم افزدوگی کی اجازت دی گئی مگر تہران نے 241 کلو گرام یورینیم افزودہ کر لیا ہے جو معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

عالمی جوہری توانائی ایجنسی کی طرف سے ایران کی معاہدے کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایک رپورٹ رکن ممالک میں تقسیم کی۔ اس رپورٹ کی تفصیلات نیوز ایجنسی ‘رائیٹرز’ کو بھی موصول ہوئی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ ایران نے دو ماہ کے اندر یورینیم افزودگی کی شرح 241 اعشاریہ چھ کلو گرام کردی ہے۔یورینیم افزدوگی کا یہ تناسب 4 اعشاریہ 5 فی صد ہے۔ یہ مقدار ایران کو دی گئی یورینیم افزودگی کی 20 فی صد مقدار کے قریب ہے جب کہ ایرا کو جوہری اسلحہ کی تیاری کے لیے 90 فی صد یورینیم کو افزودہ کرنا پڑے گا۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *