اقتدار کا غلط استعمال روکنا ہوگا

Share Article

میگھناد دیسائی
کیا یہ چونکانے والی بات نہیں ہے کہ گجرات کے دو ممبرانِ اسمبلی احمد آباد کے پاس ہنگامہ کرتے ہوئے پائے گئے۔ جب پولس نے انہیں گرفتار کر لیا تو وہ تشدد پر آمادہ ہوگئے۔ اس کی خبر جب نریندر مودی تک پہنچی، تو وہ پولس اسٹیشن گئے اور ممبرانِ اسمبلی کو گرفتار کرنے والے پولس والوں کو ڈانٹ لگائی اور اِن ممبران اسمبلی کو چھڑوایا۔ کیا یہ قانون و انتظامیہ کی خلاف ورزی نہیں ہے۔ کیا گجرات میں صدر راج نافذ ہونا چاہیے؟ اوپر کا واقعہ غلط نہیں ہے، لیکن یہ واقعہ احمد آباد کا نہیں، بلکہ کولکاتا کا تھا اور نریندر مودی نہیں، بلکہ دیدی نے ایسا غلط برتاؤ کیا تھا۔ جب سے وہ مغربی بنگال کے اقتدار میں آئی ہیں، تب سے ان کے ساتھ ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا ہے۔ لیکن کیا یہ سوچنے والی بات نہیں ہے کہ کتنی تیزی سے اقتدار بدعنوان ہوتا جا رہا ہے۔ ایسی حالت میں عوام اور پولس کو کس طرح سے بھروسہ دلایا جاسکتا ہے۔ ساتھ ہی مغربی بنگال کی پولس کو ایسے خود غرض برتاؤ سے کیسے بچایا جاسکتا ہے۔ کیا اسی کو تبدیلی کہا جاتا ہے۔
اگر دیکھا جائے تو اقتدار کا غلط استعمال اُس بدعنوانی سے زیادہ خطرناک ہے، جس میں پیسے لیے جاتے ہیں۔ ہندوستان میں اس بات پر غور کیا جانا چاہیے کہ یہاں اقتدار میں بیٹھے لوگ بے قابو ہیں۔ ان کے اختیارات پر قابو رکھنے والا کوئی نہیں ہے، جیسا کہ دیگر کئی ممالک میں ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ برطانیہ کا ہے، جب داخلہ سکریٹری تھیریسا میہ نے اپنے پاسپورٹ اور ویزا کے سلسلے میں اپنے حکم کی تعمیل نہ کرنے کے سبب ایک اہل کار کو برخاست کردیا۔ اس کے بعد اس اہل کار نے استعفیٰ دے دیا اور یونین کی مدد سے میہ کے اوپر ہتک کا مقدمہ چلایا۔ اس کے بعد میہ کو امورِ داخلہ کی کمیٹی کے سامنے حاضر ہونا پڑا۔ ایسی صورتِ حال پیدا ہوگئی، جس میں میہ کو بھی استعفیٰ دینا پڑ سکتا تھا۔ اب اس کا موازنہ اگر مغربی بنگال کے واقعہ سے کریں، تو کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ ممتا بنرجی کے اس برتاؤ کی مذمت نہیں کی جائے گی، نہ تو مغربی بنگال کی اسمبلی میں اور نہ ہی لوک سبھا میں اس پر کوئی سوال اٹھایا جائے گا۔ اس سے وہ پولس والے، جنہوں نے قانون کی پیروی کی، ان کا حوصلہ ٹوٹے گا۔ یہی نہیں، ان کے درمیان یہ پیغام جائے گا کہ وہ لوگ قانون کی پیروی کرنے کے لیے نہیں ہیں، بلکہ وزیر اعلیٰ، ترنمول کانگریس کے ایم ایل اے حضرات، یہاں تک کہ ان کے رشتہ داروں کے احکام کی پیروی کرنے کے لیے ہیں۔ اسی طرح اقتدار میں پھیلی بدعنوانی نیچے تک پھیلتی جاتی ہے اور طاقتور لوگ قتل جیسا جرم کرکے بھی قانون کے شکنجے سے نکل جاتے ہیں۔
حال ہی میں امریکہ کے سیاسی مفکر پال براس نے چودھری چرن سنگھ کی بایو گرافی ’’ہندوستانی سیاسی زندگی : چرن سنگھ اور کانگریس سیاست 1937 سے 1961 تک‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ یہ چودھری چرن سنگھ پر ان کے ذریعے لکھی جا رہی کتاب کی پہلی جلد ہے۔ اس میں اس بات کا ذکر ہے کہ 1946 میں بھی ویسی ہی بدعنوانی تھی، جیسی کہ آج کل ہے۔ اس میں براس نے رام منوہر لوہیا کے حوالہ سے بدعنوانی کی بات لکھی ہے۔ انہوں نے لکھا ہے کہ ایک بار جواہر لعل نہرو نے لوہیا سے کہا تھا کہ کس طرح کانگریس کے لوگوں کا زوال ہو رہا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں اور اس جھگڑے میں تعزیراتِ ہند کی ہر دفعہ کی خلاف ورزی کرتے ہیں۔ غور کرنے والی بات ہے کہ 1946 سے قبل کانگریس کے لیڈر مجاہدین آزادی تھے، وہ اس کے بعد اقتدار میں آ گئے تھے۔ اس سے تو یہی سمجھا جاسکتا ہے کہ جتنی زیادہ طاقت کسی کے پاس آتی ہے، اتنا ہی وہ بدعنوان ہو سکتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ایماندار ہے تو اسے پھنسانا کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ چودھری چرن سنگھ ایک ایماندار آدمی تھے، لیکن وہ ہمیشہ اس بات کے لیے فکرمند رہتے تھے کہ ان کے معاون اقتدار کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ وقت کے ساتھ ساتھ اقتدار کے غلط استعمال کا امکان بڑھتا گیا، ساتھ ہی بدعنوانی بھی بڑھتی گئی۔ جب اندرا گاندھی نے کانگریس پارٹی کو تقسیم کیا اور اپنی پارٹی بنائی تو ان کی پارٹی میں کوئی ایسا نہیں تھا جو انہیں کنٹرول کر سکے۔ اس کے ساتھ ہی اقتدار کا غلط استعمال بڑھتا گیا اور جب کانگریس کی اقتدار پر سے تنہا حکمرانی ختم ہوگئی تو دیگر پارٹیوں کو بھی اپنی طاقت کے غلط استعمال کا موقعہ مل گیا۔ اس طرح بدعنوانی کا دائرہ بڑھتا ہی گیا۔ اب ایسی حالت میں یہ کہنا صحیح نہیں ہوگا کہ بدعنوانی پر لگام کسنے کے لیے لوک پال کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ضرورت اس بات کی ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں کی طاقت کو قابو میں کیا جائے۔ جب کسی صوبہ کا وزیر اعلیٰ پولس کو اس کا کام کرنے سے نہ روکے تو کسی لوک پال کی ضرورت ہی نہیں ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *