پاکستانی شوٹرس کو ویزا نہ دینے پر ایل او سی نے دیا ہندوستان کو بڑا جھٹکا، تقریباب پر لگائی روک

Share Article

LOC

نئی دہلی: پاکستانی کھلاڑیوں کو ویزا نہ دینے کا فیصلہ، ہندوستان میں ہونے والی کھیل تقریبات کے لئے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔ پلوامہ دہشت گردانہ حملے کے بعد 2 پاکستانی شوٹرس کو دہلی کا ویزا نہ دینے پر بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے ہندوستان میں آئندہ کھیلوں کے انعقاد پر روک لگا دی ہے، ساتھ ہی IOC نے تمام بین الاقوامی کھیلوں کی ایسوسی ایشنز سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی ہندوستان میں کھیل تقریب منعقد نہ ہونے دیں۔ دہلی میں چل رہے عالمی شوٹنگ کے لئے دو پاکستانی شوٹرس کو بھارت کا ویزا نہیں دیا گیا تھا۔اس فیصلے کے بعد بین الاقوامی اولمپک کمیٹی نے بھارت سے تمام طرح کی بات چیت بند کر دی ہے، ساتھ ہی ہندوستان سے ضمانت مانگی گئی ہے کہ جب تک وہ اولمپکس چارٹر کو پورا کرنے کے لئے حکومت کی منظوری نہیں لیتا، تب تک یہاں پر کھیلوں کا انعقاد نہیں ہو گا۔ اولمپک کمیٹی کا کہنا ہے کہ مقابلہ میں حصہ لینے آ رہے کھلاڑیوں کو ویزا نہ دینا اولمپکس چارٹر کے اصولوں کے خلاف ہے۔ کھلاڑیوں کے ساتھ کوئی بھی میزبان ملک اس طرح کا امتیاز نہیں کر سکتا۔ ہندوستان کی جانب سے دائر آئندہ کھیلوں کی درخواستوں کو بھی ہولڈ پر ڈالی گئی ہیں۔ ساتھ ہی کمیٹی نے دیگر بین الاقوامی کھیلوں کی ایسوسی ایشنز سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی ہندوستان میں کھیل تقریب منعقد نہ ہونے دیں، جب تک کہ حکومت ہند تحریری طور پر کھلاڑیوں کو شامل کرنے کی ضمانت نہ لے۔

ہندوستان کا اولمپکس کوٹہ بھی منسوخ
بتا دیں کہ بین الاقوامی نشانہ بازی کھیل فیڈریشن (ISSF) کا یہ مقابلہ جمعرات سے دہلی کے ڈاکٹرکرن سنگھ شوٹنگ رینج میں جاری ہے۔ اس سے 2020 ٹوکیو اولمپکس کے لئے 16 کوٹہ حاصل کئے جا سکتے تھے، جنہیں اب منسوخ کر دیا گیا ہے۔ پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کے بعد بھارتی قومی رائفل یونین نے کہا کہ ہماری حکومت نے پاکستان کے کھلاڑیوں کی درخواست کی منظوری دے دی تھی لیکن وہ ہم سے پہلے کی صورت حال تھی۔ پاکستان نے اس ورلڈ کپ کے لئے دو نشانے بازوں جی ایم بشیر اور خلیل احمد کے لئے ویزا درخواست دی تھی۔ دونوں شوٹر ریپڈ فائر طبقے کے تھے، جنہیں ویزا نہیں دیا گیا۔ پلوامہ حملے کی ذمہ داری پاکستانی دہشت گرد تنظیم جیش محمد نے لی ہے جس میں سی آر پی ایف کے 40 جوان شہید ہو گئے تھے۔ ہندوستان کا ماننا ہے کہ پاکستان اس دہشت گرد تنظیموں کو پناہ دیتا ہے اور ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرتا۔وہیں بات کریں کرکٹ ورلڈ کپ کی تو پاکستان کے ساتھ بھارت کے میچ نہ ہونے کو لے کر بھی بات چیت کا بازار گرم ہے، وہیں بی سی سی آئی نے بھی صاف کر دیا ہے کہ وہ اس موضوع میں کچھ نہیں کر سکتا کیونکہ یہ معاملہ آئی سی سی کے ساتھ مشروط ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *