آئی این ایکس میڈیا منی لانڈرنگ کیس: ای ڈی کی گرفتاری سے چدمبرم کو ایک دن کی چھوٹ

Share Article

پی چدمبرم کے معاملے پر سپریم کورٹ میں سماعت آج بھی ادھوری رہی۔ جمعرات کو ساڑھے 11 بجے سالیسٹر جنرل تشار مہتہاپنی دلیلیں جاری رکھیں گے۔ کورٹ نے ای ڈی کے معاملے میں چدمبرم کی گرفتاری پر لگی روک 29 اگست تک بڑھا دی ہے۔

سالیسٹر جنرل تشار مہتہ نے کہا کہ چدمبرم کے وکلاء نے طویل جرح کی۔ بڑی بڑی باتیں کہیں ہیں۔ یہ صرف پیشگی ضمانت کا کیس ہے۔ بدعنوانی کا الزام مختلف ہوتا ہے، پیسوں کو غلط طریقے سے بیرون ملک بھیجنے یا وہاں سے لانے کا الزام مختلف ہے۔ دونوں کی الگ جانچ ہوتی ہے۔ چدمبرم ’وکٹم کارڈ‘ کھیل رہے ہیں۔ عمل کے مطابق ہی تحقیقات ہو رہی ہے۔ ای ڈی کو لگتا ہے کہ حراست میں لے کر پوچھ گچھ ضروری ہے۔

مہتہ نے کہا کہ کوئی بیوقوف شخص منی لانڈرنگ نہیں کر سکتا ہے۔ اس کے لئے کئی سطحوں کے جھوٹ کا کام کرنا ہوتا ہے۔ اس میں منی ٹریل ہوتا ہے اور اس کے ثبوت کو جمع کرنا بھی مشکل ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں جتنے ثبوت ہیں، وہ الیکٹرانک فارمیٹ میں ہے۔ جیسے ہی انہیں کورٹ کے سامنے پیش کیا جائے گا، ان کو ختم کر دیا جائے گا۔ چارج شیٹ دائر ہونے کے بعد ہی ثبوت کوملزم کے ساتھ شیئرکیا جا سکتا ہے۔ عمل کے مطابق ثبوتوں کو عدالت میں سیل بند لفافے میں دیا جاتا ہے۔ ثبوتوں میں بہت سارے دوسرے ممالک سے ملے ہیں کیونکہ بھارت بھی منی لانڈرنگ کے خلاف عالمی نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ اس میں بیرون ملک کی جائیداد ضبط کرنے کی تجویز ہے۔ چدمبرم کے کیس میں ہم نے بیرون ملک جائیداد ضبط کی ہے۔

تشار مہتہ نے کہا کہ منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت باقاعدہ طور پر طے کیا گیا ڈائریکٹر ہی گرفتار کر سکتا ہے۔ گرفتار کرنے کے پہلے اس کے پاس اس بات کے تحریری طور پر ثبوت ہوں کہ منی لانڈرنگ کی گئی ہے۔ ان ثبوتوں کو آزادایجنسی کی تحویلمیں رکھا جاتا ہے اور چارج شیٹ داخل ہونے کے بعد ہی ان ثبوتوں کو ملزم کو دیا جا سکتا ہے۔ مہتہ نے کہا کہ غیر ملکی بینکوں نے املاک اور کمپنیوں کے بارے میں کچھ خاص ان پٹ دیئے ہیں۔ ہم نے دوسرے ممالک کواپیلی خط بھیجا ہے۔ ایسے موڑ پر اگر کورٹ مداخلت کرتا ہے تو وہ ہمارے گرفتار کرنے کے جائزاختیارات میں مداخلت ہوگی۔ گذشتہ27 اگست کو چدمبرم نے سپریم کورٹ میں ایک نیا حلف نامہ دائر کر کہا تھا کہ جن غیر ملکی بینک اکاؤنٹس اور جائیداد کی بات جانچ ایجنسی کر رہی ہے، وہ میری نہیں ہے۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ فرضی غیر ملکی کمپنیاں بنانے کا الزام بے بنیاد ہے۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ جھوٹے الزام لگائے گئے، تاکہ عدالت کا رخ میرے خلاف رہے۔ چدمبرم نے اپنے حلف نامے میں حکومت پر پریشان کرنے کا الزام لگایا ہے۔ چدمبرم نے کہا تھا کہ ای ڈی اور سی بی آئی ان پر بیان دینے کے لئے دباؤ ڈال رہے ہیں۔

گذشتہ27 اگست کو چدمبرم نے کورٹ میں عرضی دائر کر مطالبہ کیا ہے کہ ای ڈی نے کیا سوال پوچھے ہیں ،جس کا جواب چدمبرم نے نہیں دیا تھا، اس کی فہرست دی جائے۔ چدمبرم کی یہ عرضی اس الزام پر لگائی گئی ہے جس میں ای ڈی نے الزام لگایا ہے کہ چدمبرم سوالات کے جواب دینے سے گریز کرتے ہیں۔

چدمبرم کی جانب سے سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی نے کہا تھا کہ چدمبرم کے خلاف جس منی لانڈرنگ قانون کی خلاف ورزی کا الزام ہے، وہ قانون جون 2009 میں آیا تھا جبکہ چدمبرم کے خلاف جرائم کا الزام 2007 کا ہے۔ جب قانون 2009 میں آیا تب 2007 میں پیش آیا جرم کو اس قانون کے تحت کس طرح شامل کیا جا سکتا ہے۔

سنگھوی نے کہا کہ ہائی کورٹ نے سی بی آئی اور ای ڈی کی باتوں کو مکمل طور مان لیا۔ اپنے حکم میں اس دعوے کو بنیاد بنایا کہ چدمبرم انکوائری یا سوالات سے بچ رہے ہیں، جبکہ وہ دستیاب تھے۔ آگے بھی رہیں گے۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ وہی بولیں جو سی بی آئی اور ای ڈی سننا چاہتے ہیں؟۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *