INX کیس: گواہ بننے کو تیار اندراني مکھرجی، آج کورٹ کرے گا سوال

Share Article

 

INX میڈیا کیس میں آج بڑا دن ہے۔ ایک طرف كا رتک چدمبرم کو ای ڈی کے سامنے پیش ہونا ہے تو وہیں اندراني مکھرجی کو اس معاملے میں گواہ بننے پر آج کورٹ ان سے براہ راست بات کرے گی۔

 

سرخیوں میں چھائے INX میڈیا کیس میں جمعرات کو ایک بڑا اپ ڈیٹ آیا۔ اس معاملے میں ملزم اندراني مکھرجی نے دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں گواہ بننے کی بات کہی تھی، آج کورٹ ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے جنوبی ممبئی کی بھائے كھلا جیل سے رابطہ قائم ہو گی۔ یہاں کورٹ اندراني مکھرجی سے پوچھے گا کہ کیا اس کے لئے ان پر کوئی دباؤ تو نہیں بنایا گیا ہے۔

 

 

آپ کو بتا دیں کہ اندراني مکھرجی شینا وورا قتل کیس میں سزا کاٹ رہی ہیں اور گزشتہ 4 سال سے جیل میں ہی بند ہیں۔ اندراني مکھرجی نے گزشتہ سال دسمبر میں کورٹ کو خط لکھ کر اس کیس میں گواہ بننے کی بات کہی تھی۔غور طلب ہے کہ آج ہی اس معاملے میں ای ڈی (ای ڈی) سابق وزیر خزانہ پی چدمبرم کے بیٹے كارتک چدمبرم سے پوچھ گچھ کرے گا۔ ای ڈی کے علاوہ كارتک پر اس کیس میں سی بی آئی کا بھی پیچ ہے۔

 

آپ کو بتا دیں کہ اس معاملے میں ای ڈی نے CBI کی ایف آئی آر کی بنیاد پر ایک PMLA کا معاملہ درج کیا ہے اور الزام لگایا ہے کہ INX میڈیا کو 2007 میں 305 کروڑ روپے کا غیر ملکی پیسے حاصل کرنے میں ایف آئی پی بی کی منظوری میں بے ضابطگی کی گئی ہے، اس دوران مرکزی وزیر خزانہ پی چدمبرم تھے۔
ED اور CBI بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ کس طرح UPA حکومت میں وزیر پی چدمبرم کے بیٹے كارتک چدمبرم ایف آئی پی بی کی منظوری حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔ غور طلب ہے کہ كارتک چدمبرم کو 28 فروری، 2018 کو گرفتار کیا گیا تھا، بعد میں انہیں ضمانت مل گئی۔

 

 

ED کی اب تک کی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ FIPB کی منظوری کے لئے آئی این ایکش میڈیا کے پیٹر اور اندراني مکھرجی نے پی چدمبرم سے ملاقات کی تھی، تاکہ ان کی درخواست میں کسی طرح کی تاخیر نہ ہو۔ ای ڈی نے کہا ہے کہ اس طرح سے جو روپیہ متعلقہ اداروں کو ملا، وہ غیر قانونی طور پر اےایس سی پی ایل میں لگا دیا گیا۔
ED نے كارتک چدمبرم کی 54 کروڑ روپے کی جائیداد اور کیس کے ساتھ منسلک ایک کمپنی کو كرك کیا ہے۔ ای ڈی نے اسی سے جڑے معاملے میں مکھرجی کی جائداد کو بھی كرك کیا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *