صوفی یاور
P-5Bاتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کا وقت جیسے جیسے نزدیک آرہا ہے، کئی مسئلوں پر عوامی اختلاف بھی سامنے آرہا ہے۔ کئی ایسے مسئلے بھی سامنے آرہے ہیں، جن پر عام طور پر لوگوں کا دھیان نہیں جاتا۔ ایسا ہی ایک مسئلہ پارلیمانی اور اسمبلی حلقوں میں شیڈولڈ کاسٹ اور شیدولڈ ٹرائبس کی نمائندگی ری ایڈجسٹمنٹ بل (تیسرا) 2013 کے واپس لئے جانے کاہے۔ اس کے برعکس اتر پردیش کے جنگلاتی علاقوں اور آدیواسی اکثریتی علاقوں میں شدید اختلاف ہو رہاہے اور سماجی اور سیاسی تنظیمیں اس مسئلے کو لے کر سڑک پر اتر رہی ہیں۔اس مسئلے پر آل انڈیا پیپلز فرنٹ ( آئی پی ایف) نے وزیر اعظم نریندرمودی کو خط لکھ کر بل لاگو کرنے کی مانگ کی ہے۔ بل لاگو نہیں ہونے پر آئی پی ایف نے سپریم کورٹ میں کونٹیپٹ پٹیشن(توہین پٹیشن )داخل کرنے کا اعلان کیا ہے اور کہا ہے کہ لاکھوں آدیواسیوں کے دستخط کے ساتھ عرضی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس کو بھیجا جائے گا۔
آئی پی ایف کے ریاستی جنرل سکریٹری دِنکر کپور نے وزیر اعظم کو لکھے خط کے بارے میں بتایا کہ مرکزی سرکار نے اتر پردیش کے آدیواسی سماج کی سیاسی نمائندگی طے کرنے کے لئے ہائی کورٹ کے حکم کی تعمیل میں بنایا گیا شیڈولڈ کاسٹ ؍ٹرائبس کی قیادت کا ایڈجسٹمنٹ بل (تیسرا )2013، چار جولائی 2014 کو راجیہ سبھا میں واپس لے کر آدیواسی سماج کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ یہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک میں آدیواسی سماج کو سیاسی قیادت سے محروم کرکے ان کے جمہوری حقوق پر حملہ ہے۔ مرکزی سرکار کی اس کارروائی کی وجہ سے اتر پردیش میں ہونے والے اسمبلی انتخابات میں آدیواسی برادری کے لئے اسمبلی میں ایک بھی سیٹ ریزرو نہیں ہو پائے گی۔ وزیر اعظم کو خط بھیج کر مانگ کی گئی ہے کہ مرکزی سرکار اس مسئلے پر ز سر نو غور کرے اور ہائی کورٹ کے حکم کا احترام کرتے ہوئے اتر پردیش کے آدیواسی سماج کے جمہوری حقوق کے تحفظ اور ان کی سیاسی نمائندگی کو طے کرنے کے لئے 18جولائی 2016 سے شروع ہورہے مانسون سیشن میں اس بل کو پارلیمنٹ میں پیش کرکے اسے منظور کرائے۔ اس سے الیکشن کمیشن اور ڈیلی میٹیشن کمیشن(حد بندی کمیشن) کو مطمئن کرنے کے لئے اتر پردیش کی دوردی اور اوبرا اسمبلی حلقے کی سیٹیں آدیواسی سماج کے لئے ریزرو ہو سکیں گی۔ وزیرا عظم سے یہ بھی مانگ کی گئی ہے کہ کول سمیت سبھی آدیواسی برادریوں کو شیڈولڈ ٹرائبس کا درجہ دیا جائے۔ تاکہ لوک سبھا میں بھی اتر پردیش کے آدیواسی برادری کی نمائندگی یقینی ہوسکے۔
قابل ذکر ہے کہ رابٹرس گن پارلیمانی حلقے کی نمائندگی بی جے پی کے آدیواسی نسل کے ممبر پارلیمنٹ کرتے ہیں۔اس کے باوجود بی جے پی نے اقتدار میں آتے ہی پارلیمانی اسمبلی حلقوںمیںشیڈولڈ کاسٹ اور شیڈولڈ ٹرائبس کی نمائندگی کا نو ایڈجسمنٹ بل2013 واپس لے لیا۔ اتر پردیش میں بڑی تعداد میں گونڈ، کھاروار، پنیکا، بھوئیاں، چیرو، بیگا، اگریا،کورنوا،تھارو، بوکسا، راجی، جونساری، بھوٹیا، پرہیا، سہریا، پٹھاری جیس شیڈولڈ برادریاں بستی ہیں۔ 2003 میں ان میں سے کئی برادریوں کو مرکزی سرکار نے شیڈولڈ ٹرائبس میں شامل کیا تھا۔ جو 2001 کی مردم شماری میں شیڈولڈ کاسٹ میں تھیں۔ یہی وجہ تھی کہ لوک سبھا اور اسمبلی کی سیٹوں کے سلسلے میں 2008 میں ہوئے نیشنل ڈیلی میٹیشن میں (قومی حد بندی ) ان برادرویں کے لئے لوک سبھا اور اسمبلی میں سیٹیں ریزرو نہیں کی گئیںاور لاکھوں کی آبادی والا آدیواسی سماج سیاسی نمائندگی سے محروم رہ گیا۔ ان کی سیاسی نمائندگی حاصل کرانے کے لئے آئی پی ایف سے جڑی’ آدیواسی و ونواسی مہا سبھا‘ سمیت تمام تنظیموں نے سپریم کورٹ اور الٰہ آباد ہائی کورٹ میں عرضی دائر کی تھیں۔ ایسے ہی ایک عرضی پر سپریم کورٹ نے ان برادریوں کے پارلیمانی و اسمبلی حلقوں میں سیاسی نمائندگی کو یقینی کرنے کے لئے مرکزی سرکار اور نیشنل الیکشن کمیشن کو ضروری کارروائی کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس حکم کے تئیں مرکزی سرکار نے تین بار آرڈیننس پیش کیا۔ بعد میں اسے 14 فروری 2013کو راجیہ سبھا میں پیش کیا گیا اور بحث کے بعد پارلیمنٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کو بھیج دیا گیا۔ اسٹینڈنگ کمیٹی نے اس بل کو پارلیمنٹ سے پاس کرانے کی سفارش کی تھی۔ اس آردیننس اور بل کی روشنی میں الیکشن کمیشن اور نیشنل ڈیلی میٹیشن کمیشن نے آدیواسی اکثریتی علاقہ سون بھدر کے دوردی، اوبرا اور رابٹرس گنج میں عوامی ہیئرنگ منعقد کی۔اس کے بعد الیکشن کمیشن اور ڈیلی میٹیشن کمیشن نے دودری اسمبلی سیٹ کو شیڈولڈ کاسٹ اور اوبرا اسمبلی سیٹ کو شیڈولڈ ٹرائبس کے لئے ریزرو کرنے کی سفارش کی تھی۔
سون بھدر ، مرزا پور، چندولی ضلع میں لاکھوں کی تعداد میں رہنے والے کول برادری سمیت دھانگرا(اورائوں)، دھریکا اور گوڈ، کھلوار، چیروں وغیرہ آدیواسی برادریوں کو آج تک آدیواسی کا درجہ نہیں ملا ہے۔ نتیجتاً رابٹرس گنج (شیڈولڈ کاسٹ) پارلیمانی سیٹ پر آدیواسی برادریوں کی اکثریت کے باوجود یہ سیٹ شیڈولڈ ٹرائبس کے لئے ریزرو نہیں ہے۔ اگر سرکار ان برادریوں کو شیڈولڈ ٹرائبس کے درجے دے دیتی ہے تو ریاست کی 80لوک سبھا سیٹوں میں بھی یو پی کے آدیواسی سماج کی نمائندگی طے ہو جائے گی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here