انتخابی چکرویو میں پھنسے سماجوادی

Share Article

اجے کمار
p-9bسماجوادی پارٹی کو ٹکٹ تقسیم کو لے کر چھکے چھوٹ گئے ہیں۔ایک سال پہلے جن لیڈروں کو لوک سبھا کا ٹکٹ دیا گیا تھا ،انتخابی دوڑ میں ان میں سے کئی کے ٹکٹ کٹ گئے۔ پہلے سماجوادی قیادت نے پارٹی کے وفاداروں کو ٹکٹ تھمایا تھا، لیکن اب امیدواروں کی قابلیتوں کی بنیاد وفاداری کے بجائے انتخاب جیتنے کی صلاحیت کا اندازہ کرکے طے کیا جارہا ہے۔دیگر پارٹیوں سے آنے والے لیڈروں کے علاوہ پرانے وفاداروں کے لئے بھی پارٹی نے ٹکٹ کے دروازے کھلے رکھے ہیں۔سارا دار ومدار ملائم سنگھ نے اپنے کندھوں پر لے رکھا ہے۔ ان کی ٹیم امیدواروں کی تو جانچ کر رہی رہی ہے، اس کے علاوہ ایسے لیڈروں کی تلاش میں بھی لگی ہے ، جو خود انتخاب جیتنے کی صلاحیت رکھتے ہوں، ساتھ ہی وہ آس پاس کے ضلعوں کی انتخابی تصویر بھی بدل سکیں۔سماج وادی پارٹی میں ابھی تک تقریباً ڈیڑھ درجن امیدوار بدلے جاچکے ہیں۔ سماجوادی پارٹی سرکار کے وزیر راج کیشور،برہما شنکر ترپاٹھی اور درگا پرساد یادو جو پچھلی مرتبہ لوک سبھا کا انتخاب لڑے تھے، اس مرتبہ میدان میں نہیں دکھیں گے۔یہ سبھی لیڈر 2009 میں لوک سبھا انتخاب ہار گئے تھے۔ اس کے علاوہ 2009 میں لوک سبھا لڑے، لیکن ہار گئے۔ایسے لیڈروں میں مہراج گنج سے اجیت منی، بانس گائوں سے شاردا دیوی، جھمریا سے ماتا پرسد، گھوسی سے ارشد جمال اور سلیم پور سے ہری کیول پرساد بھی سائیکل کی سواری کرتے نہیں دکھیں گے۔ٹکٹ بدلنے کے بعد پارٹی میں قیادت کے خلاف غصے کی چنگاری صاف دکھائی دے رہی ہے۔ اعلیٰ کمان کے ذریعہ کچھ لیڈروں کو لال بتیاں دے کر ڈیمیج کنٹرول کی کوششیں ضرور کی گئیں، لیکن نتیجہ امید کے مطابق نہیں رہا۔ باغی لیڈروں کے ذریعہ کہیں کھل کر تو کہیں اندرونی طور پر سماج وادی پارٹی کے امیدواروں کو کمزور کیاجارہا ہے۔
سب سے تازہ بدلائو اور بغاوت کے سُر سہارن پور میں دیکھنے کو ملے، جو کئی معنی میں سماج وادی پارٹی کے لئے خطرے کی گھنٹی ثابت ہو سکتے ہیں۔مغربی اترپردیش کے قد آور لیکن سزا یافتہ لیڈر رشید مسعود جو ماضی میں کانگریس سے مل گئے تھے، کی طاقت پہچانتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے ان کے بیٹے سادان مسعود کو سہارن پور سے میدان میں اتارا ہے۔ پہلے یہاں سے رشید مسعود کے بھتیجے عمران مسعود انتخاب لڑ رہے تھے۔ عمران کی وجہ سے ہی رشید مسعود نے سماج وادی پارٹی سے کنارا کر لیا تھا۔ مسعود کہتے بھی ہیں کہ ان کا نیتا جی (ملائم سنگھ) سے کوئی اختلاف نہیں تھا۔ بس عمران کو لے کر تھوڑا من مٹائو پیدا ہو گیا تھا۔ عمران اب نیا ٹھکانا تلاش رہے ہیں۔ سلطان پور میں حال میں امیدوار بدلا گیا ہے۔یہاں کا بدلائو بھی کافی اہم مانا جارہا ہے۔ سماج وادی پارٹی نے یہاں شکیل احمد کا ٹکٹ کاٹ کر دبنگ لیڈر عتیق احمد کو اپنا نیا امیدوار بنایا ہے۔ عتیق احمد بہو جن سماج پارٹی کے دور میں فرار تھے۔یہاں تک کہ انہیں یو پی چھوڑنا پڑا تھا۔ ٹکٹ ملتے ہی عتیق نے پورے دم خم کے ساتھ سلطان پور میں انٹری کی۔ ادھر ٹکٹ کٹنے سے ناراض شکیل احمد مخالفت کے راستے پر چل پڑے، پانی سر سے اونچا ہوتا دیکھ کر عتیق کو وہاں سے چلتا کردیا گیا اور شکیل پھر ٹکٹ پا گئے۔ بی جے پی نے یہاں سے ارون گاندھی کو اتارنے کا ارادہ کیا ہے۔ تو بہو جن سماج پارٹی نے دبنگ لیڈر پون پانڈے کو میدان میں اتارا ہے۔
سماج وادی پارٹی میں بغاوت کے سُر پُروانچل کی لال گنج سیٹ پر بھی ابھرے۔ اعظم گڑھ ضلع میں پڑنے والی اس پارلیمانی سیٹ سے سابق ممبر پارلیمنٹ داروغہ پرساد سروج کو امیدوار بنایا گیا تھا،لیکن بعد میں ممبر اسمبلی بیچئی سروج کو امیدوار بنا دیا گیا۔ داروغہ کا ٹکٹ کٹا، تو ان کے حمایتی مخالفت پر اتر آئے۔ دو ماہ تک اختلاف کا سلسلہ چلتا رہا، پھر بھی بات نہیں بنی، تو سروج بھگوا رنگ میں رنگ گئے۔ جون پور میں بھی سماج وادی پارٹی کی اندرونی سیاست کا پارہ ڈاکٹر کے پی یادو کا ٹکٹ کٹنے سے چڑھا ہے۔انہیں نومبر 2012 میں امیدوار بنایا گیا تھا۔وہ ایک سال تک سڑکوں پر کوشش جاری رکھے رہے، پھر اچانک ان کی جگہ کابینی وزیر اور قد آور لیڈر پارس ناتھ یادو کو امیدوار بنا دیا گیا۔ مخالفت میں ڈاکٹر کے پی یادو کے حامیوں نے ہنگامہ کیا۔ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں،ٹکٹ کٹنے کے بعد ہفتے بھر تک لکھنؤ میں ملائم سنگھ سے ملنے کی کوشش کرتا رہا، لیکن بات نہیں بنی۔ 27 سالوں سے نیتا جی سے جڑا ہوں، 36 بار گرفتار ہوا،12 بار جیل گیا،2002 میں اسمبلی ٹکٹ کاٹا گیا، تو نیتا جی نے مجبوری بتائی۔ 2007 میں بھی سازش کی سیاست کا شکار ہو گیا۔ ایک سال سے تیاریوں میں لگا رہا،لیکن بغیر پوچھے ٹکٹ کاٹ دیا گیا۔ کانپور میں کسی پرانے سماجوادی کی جگہ مزاحیہ اداکار راجو شریواستو کو لڑائے جانے کی زبردست مخالفت ہو رہی ہے۔ راجو آج تک عوام کے درمیان اپنی گرفت بھی نہیں بنا پارہے ہیں۔
ایسی ہی حالت فروخ آباد کی ہے۔ یہاں بھی امیدوار بدلنا سماجوادی پارٹی قیادت کو بھاری پڑ رہا ہے۔ یہاں اسٹیٹ منسٹر یادو کے تیور تیکھے ہیں۔ ان کے حامی وزیر کے بیٹے کا ٹکٹ کٹنے سے افسردہ ہیں۔ سچن کا ٹکٹ کاٹ کر علی گنج ( ایٹا) کے ممبر اسمبلی رامیشور یادو کو امیدوار بنایا جا چکا ہے۔ لیکن سچن کی انتخابی مہم بدستور چل رہی ہے۔ جبکہ پچھلے دنوں وہ پارٹی کے بڑے لیڈروں کی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ سچن بھی بغاوت کر سکتے ہیں، بس پینچ سچن کے والد کا پڑ رہا ہے، جو اکھلیش سرکار میں وزیر ہیں اور اپنی لال بتی نہیں کھونا چاہتے ہیں۔ مظفر نگر کے فساد ات کے بعد مغربی اتر پردیش کو لے کر کافی محتاط سماج وادی پارٹی اعلیٰ کمان دیگر پارٹیوں کے ممبران پارلیمنٹ کو بھی اپنی طرف کھینچ رہا ہے۔ ہاتھرس سے راشٹریہ لوک دل کی ممبر پارلیمنٹ ساریکا سنگھ بگھیل اور امروہا سے آزاد ممبر پارلیمنٹ دویندر ناگپال کو پارٹی نے اپنے ساتھ جوڑ لیا ہے۔ ساریکا کو تو آگرارہ سے ٹکٹ بھی دے دیا گیا ہے ۔ سنبھل کے بہو جن سماج پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ شفیق الرحمن برق بھی سماج وادی پارٹی کا دامن تھامنے کے فراق میں ہیں۔ بہو جن سماج پارٹی سے برق کو ٹکٹ کی ہری جھنڈی نہیں مل پائی تھی۔ مظفر نگر کے بہو جن سماج پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ قادر رانا کے تئیں بھی سماج وادی پارٹی نرم رخ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ وہ بھی سماج وادی پارٹی سے ٹکٹ کی چاہت پالے ہوئے ہیں۔ سماج وادی پارٹی کے بڑے لیڈر پورے حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ بغاوت والی سیٹوں پر ملائم سنگھ خود ڈیمیج کنٹرول کر رہے ہیں۔ اس کے لئے انچارجوں سے رپورٹ لی جارہی ہے۔ لیکن کہا یہی جارہا ہے کہ مقامی سطح پر بغاوت چل رہی ہے، اعلیٰ کمان سے کوئی خفا نہیں ہے۔ہاں، اس کا نقصان ضرور پارٹی کو اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
ٹکٹ تقسیم کو لے کر پھنستے جارہے سماجوادی پارٹی کی قیادت کے لئے مصیبت کئی مورچوں پر منہ کھولے کھڑی ہے۔ پارٹی سے مخالفت کرنے والوں سے نمٹنا بھی اس کے لئے ٹیڑھی کھیر ثابت ہو رہا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ممبر پارلیمنٹ برج بھوشن شرن سنگھ کی بغاوت، مغربی اتر پردیش سے سوم پال شاستری کا انتخاب لڑنے سے انکار، 2009 کے لوک سبھا انتخاب میں سائیکل کی سواری کرنے والے بھوجپوری گلوکار منوج تیواری کا بھگوا کرن، ملائم سرکار میں وزیر رہے دیوریا کے سینئر لیڈر درگا پرساد اور ہردوئی کے سابق ممبر اسمبلی ستیش ورما کا بی جے پی میں جانا بھی سماج وادی پارٹی کے لئے مشکلیں پیدا کر رہے ہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *