راشدہ حسین سے انٹرویو

Share Article

راشدہ حسین پرانی دہلی کے اسی خانوادہ سے تعلق رکھتی ہیں، جو علم و ادب اور تہذیب کا ایسا سرچشمہ تھا، جس سے ہر خاص و عام فیضیاب ہوتا تھا۔ خود انہوں نے اردو میڈیم سے تعلیم حاصل کی۔ پرانی دہلی کی تنگ و تاریک گلیوں سے نکل کر وہ آج جس مقام پر ہیں، اس پر ہر مسلمان لڑکی رشک کر سکتی ہے۔ ہمارا مقصد بھی یہی ہے کہ ہم ان مسلمان خواتین سے آپ کی ملاقات کرائیں، جن سے آپ کو عزم و حوصلہ ملے اور آپ کی رہنمائی ہو۔ اسی سلسلے میں گزشتہ دنوں چوتھی دنیا اردو کی ایڈیٹر وسیم راشد نے نیشنل اکیڈمی آف کسٹمز، ایکسائز اینڈ نارکوٹکس کی ڈائریکٹر جنرل، راشدہ حسین (آئی آر ایس) سے گفتگو کی، جس کے اقتباس قارئین کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔

آٓپ اپنے گھریلو پس منظر کے بارے میں کچھ بتائیں؟

محترمہ، آپ نے یہ سوال پوچھ کر مجھے ماضی کی خوشگواریادوں کی حسین دنیا میں پہنچا دیا، وہ دنیا جس میں میرے لیے شفقت و محبت کا ایک ایسا منظر تھا، جس کی یاد میرے لیے انتہائی خوشگوار ہے۔ یہ وہ باغ تھا، جس کی آبیاری میں میرے والدین کی الفت، پیار، محبت، تعلیم و تربیت کا ایسا حسین امتزاج شامل تھا، جس کی لذت ایک طویل مدت گزر جانے کے باوجود میں محسوس کر رہی ہوں اور وہ خوشگوار مناظر میرے پیش نظر ہیں۔ میرے والدین، جو میری زندگی کے معمارِ اعظم تھے، ان کو میں نے کیسا پایا، اس کے اظہار کے لیے زبان میں طاقت نہیں اور میں عالم تصور میں اُن حسین لمحات کی یاد میں گم ہوں۔

میرے والدین میں ایسا کسی قسم کا کوئی بھی اختلاف نہیں تھا، جس کا اثر بچوں کی زندگیوں پر پڑتا ہے۔ ایک منظم ماحول تھا، جس میں محبت کی چاشنی شامل تھی۔ لہٰذا، اس کا اثر ہم بہنوں اور بھائیوں کے اوپر بہترین تربیت کی شکل میں ظہور پذیر ہوتا رہا۔ نہ کوئی شکوہ، نہ شکایت، نہ کسی قسم کا کوئی کانٹینشن۔ ایک بہترین قناعت والی زندگی تھی، لہٰذا وہ ہم سب کی اعلیٰ تربیت میں مددگار ثابت ہوتی رہی۔ اس ماحول کا تصور شکر گزاری کی حدود سے بالاتر ہے۔ میرے والد گرامی قدر ایک معزز خاندان کے فرد تھے اور صفاتِ عالیہ و خصائل پسندیدہ سے متصف تھے۔ مذہبی لگاؤ نے قضا و قدر کے فیصلوں کے آگے سر نیاز خم کرنے کی عادت پیدا کردی تھی۔ ان کی تربیت گاہ ایک حسین باغ کے مترادف تھی۔ موجودہ حالات پر طمانیت قلب اور شکر گزاری کے جذبات نے ہم سب پر بہت اچھا اثر ڈالا۔ میں سب سے چھوٹی تھی، اس لیے بھائیوں اور بہنوں کا پیار ملتا رہا۔ سب بھائی تعلیم کے مدارج طے کرتے ہوئے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ ابھی میرے بھائی یعقوب قریشی صاحب چیف الیکشن کمشنر کے عہدہ سے ریٹائر ہوئے ہیں۔
سب بہنیں تعلیم یافتہ، اخلاق و عادات اور خصائل پسندیدہ کاخوش نما پیکر بنیں اور یہ سب اوصاف میرے والدین کی تعلیم و تربیت سے ہی ممکن ہوا۔ والدین کی تربیت اور فرماں برداری و اطاعت شماری نے کامیابی کی اعلیٰ منازل پر فائز کیا۔ اس زمانہ میں تعلیم نسواں کا فقدان تھا، لیکن والد صاحب عالم دین تھے۔ ان کی روح کا تقاضا تھا، جس کے تحت انہوں نے حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ’طلب العلم فریضۃ علیٰ کل مسلمۃ و مسلمہ‘ سے استفادہ کرتے ہوئے لڑکوں اور لڑکیوں کی تعلیم کے لیے خصوصی توجہ مبذول فرمائی۔
آپ کی ولادت کہاں ہوئی اور گھر کا ماحول کیسا تھا؟
میری ولادت مٹیا محل، پرانی دلی میں ہوئی۔ گھر کے ماحول کے بارے میں اوپر تذکرہ کر چکی ہوں۔ ہمارا مقصد حیات صرف حصولِ تعلیم ہی تھا۔
آپ نے کہاں تک تعلیم حاصل کی اور اس پوزیشن تک پہنچنے میں کن کن دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا؟
میں نے ہائر سیکنڈری اردو میڈیم اسکول، بلبلِ خانہ، آصف علی روڈ، دہلی سے پاس کیا۔ دلی یونیورسٹی سے ہسٹری میں ایم اے کیا، وہیں سے بی ایڈ کیا اور اسی سال سول سروسز کے مقابلہ جاتی امتحان میں بیٹھی اور میرا سلیکشن آئی آر ایس میں ہوگیا۔ اسی دوران سراج حسین، آئی اے ایس سے میرا رشتہ طے ہوگیا۔ شادی کے بارہ سال بعد ہم دونوں نے انگلینڈ سے ایم بی اے کیا۔
اس سفر میں کن کن پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا؟
مجھے مندرجہ بالا تعلیم حاصل کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی، جیسا کہ اکثر خاندانوں کی تنگ نظری کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میرے متعلقین کا نظریہ تھا :
ہے علم کی شمع سے ہستی میں اجالا
لَو اُس کی جو ہو خشک تو خوں اپنا پلا دو
میری لگن اور شوق کی وجہ سے مجھے کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ جیسا کہ میں پہلے عرض کر چکی ہوں، میرے گھر کا ماحول بہت خوش گوار تھا اور میری کامیابی میں میرے والدین اور بھائی بہنوں سبھی کا رول رہا۔ میرا نظریہ بھی یہی تھا کہ کسی بھی مشن کی کامیابی کے لیے جدوجہد تو کرنی ہی پڑتی ہے:
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے
کیا آج کل کے حالات مسلم لڑکیوں کے لیے سازگار ہیں؟
موجودہ دور میں تعلیم نسواں کے لیے کافی ترقی ہو رہی ہے۔ لڑکیاں لڑکوں کے دوش بدوش ہر فیلڈ میں تعلیم کے لیے کوشاں ہیں، نہ صرف تعلیم بلکہ روزگار کے لیے بھی کوشاں ہیں۔ خاندانوں میں تعلیم کا رواج بڑھ رہا ہے، رشتہ کے لیے بھی اب لوگ لڑکی کی تعلیمی ارتقا سے متعلق معلومات حاصل کرتے ہیں۔ لڑکیاں ڈاکٹری، انجینئرنگ اور سول سروسز کے امتحان دے رہی ہیں، ان کے اندر آگے بڑھنے اور کچھ کرنے کا جذبہ ہے، وہ ہر کورس میں حصہ لے رہی ہیں۔ کہیں کہیں پس ماندگی اور غربت ہے، مگر ہمت والے بچے ترقی کی راہ پر گامزن ہیں، ان کے اندر جہالت کی دیواریں گراکر آگے بڑھنے کا عزم ہے۔
مسلم نمائندگی یا لیڈرشپ کا خواتین کی تعلیم کے سلسلہ میں کیا رول رہا؟
خواتین کی تعلیم و ترقی میںاب کوئی مخالفت نہیں ہے۔ قوم بیدار ہوتی جا رہی ہے۔ تعلیم کے فوائد روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں۔ پرانی دلی ہو یا نئی دلی، سب جگہ حصولِ تعلیم کے لیے لوگ کوشاں ہیں۔ میرا تعلق بیشک پرانی دلی سے ہے، اُس وقت ضرور تعلیم کا فقدان تھا، لیکن اب نہیں ہے۔ ایک اکثریت ہے جو اس دوڑ میں آگے بڑھنا چاہتی ہے۔
کیا آپ کے مطابق مذہب لڑکیوں کی تعلیم و تربیت میں رکاوٹ بن سکتا ہے؟
جی نہیں، میرا نظریہ ہے کہ قرآنِ کریم میں پہلی آیت اقراء ہے، جس کے معنی ہیں پڑھو۔ مذہب حکم دے رہا ہے، مذہب رکاوٹ نہیں بن رہا۔ اپنی عزت کی حفاظت کرتے ہوئے علم حاصل کرنے کی ترغیب دے رہا ہے، مذہب کسی قسم کی رکاوٹ نہیں بن رہا ہے۔
حکومت کی طرف سے مسلم لڑکیوں کی تعلیم اور ترقی کے لیے جو اقدامات کیے جا رہے ہیں، کیا وہ کافی ہیں یا گورنمنٹ کو اور قدم اٹھانے چاہئیں؟
حکومت کی طرف سے جو کچھ ہو رہا ہے، اس کے علاوہ قوم کے بیدار مغز لوگ بھی کوشاں ہیں۔ مگر آبادی کی زیادتی کے باعث مزید اقدامات کیے جانے چاہئیں۔ دیہاتوں میں اسکول کھولے جائیں اور ذرائع آمد و رفت مہیا کرائی جائیں۔ آنگن واڑی اسکول کی تعداد بڑھے اور تعلیم کے ساتھ ساتھ تربیت کے لیے کوشش کی جائے۔ جلسے ہوں اور والدین نیز اساتذہ بچوں کی تربیت سے متعلق والدین کو آگاہ کریں، کیوں کہ بچہ کا پہلا اسکول ماں کی گود ہے۔
مسلم لڑکیوں اور ان کے والدین کو کیا پیغام دینا چاہیں گی؟
اپنی قوم کی فلاح اور بہبودی کے لیے سبھی متمنی رہتے ہیں۔ اسی طرح میری بھی یہ خواہش اور دیرینہ آرزو ہے کہ مسلم معاشرہ کی خواتین ترقی کریں اور اپنے قدموں پر اگر کھڑا ہونا چاہیں تو اس میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ علم حاصل کرنے کے جو فوائد ہیں، ان کا بیان کرنا ممکن ہی نہیں، اس لیے میری آرزو اور تمنا ہے کہ اس دوڑ میں لڑکیاں کسی قیمت پر پیچھے نہ رہیں۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *