عالمی المیہ

Share Article

عفاف اظہر
کنیڈا میں موسم انتخابات کی گہما گہمیاں اپنی پوری آب و تاب پر ہیں اس موجودہ حکومت کے یہ قبل از میعاد ہونے والے دوسرے انتخابات ہیں۔ ایک طرف انتخابات کی سرگرمیاں نقطۂ عروج پر ہیں تو دوسری طرف دنیا کے ہر دوسرے ملک کی طرح یہاں بھی مہنگائی بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ گیس اور پیٹرول سے لے کر اشیاء خورد و نوش کے نرخ تک اور تو اور مورگیج کے نرخ گھروں کے کرائے انشورنس کی قیمتیں اور ٹی ٹی سی کا کیا کہنا کہ وہ تو ویسے ہی سال میں دو دفعہ اس بہتی گنگا میں اپنا ہاتھ دھو لیتی ہے اور دوسری طرف ملازمین کی تنخواہیں ہیں کہ ایک طویل عرصہ سے جہاں تھیں وہیں ہیں اور وہاں سے ذرا سا ہلنے کی دور دور تک کوئی امید کی کرن بھی نظر نہیں آ رہی۔ امیر اور غریب کے درمیان فرق کی لکیر بدستور گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ صاحب زر بھری جھولیاں بھر رہے ہیں اور غریب کا جینا اب یہاں بھی دوبھر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تیسری دنیا کے ممالک کا اب کیا رونا کہ  جب خود کو پہلی دنیا کہلانے والوں کی بے حسی کا بھی وہی عالم ہو۔ حکمرانوں کے رونے یوں تو ہر ملک میں ہی روئے جا رہے ہیں شاید کہ یہ مذہب سیاست کے ماننے والے کہ جن کا تعلق چاہے کسی بھی خطہ ارض سے ہو خون کا گروپ ایک ہی ہوتا ہے۔ طریقہ واردات بھلے مختلف ہی سہی لیکن نیت میں فتور ایک سا ہی ہے۔ کہ ہر وہ بے حسی اور بے ضمیری جو تیسری دنیا کے حکمرانوں میں انکی جہالت کے سبب  نمایاں دکھائی دیتی ہے وہ پائی تو بدستور ان پہلی دنیا کے حکمرانوں میں بھی جاتی ہے ہاں فرق ہے تو صرف اتنا کہ انہیں ان کی تعلیم یافتہ سوچ وہ دلنشیں انداز بیاں فراہم کر دیتی ہے جو ان کی بے ضمیری کو خوبصورت الفاظ کے لبادے اوڑھا سکے۔
یوں تو کینیڈا کا شمار دنیا بھر کے ان ممالک میں ہوتا ہے جو ٹیکس کی وصولی میں پہلے نمبر پر آتے ہیں۔ دوسرے الفاظ میں ٹیکس گلے میں پڑی وہ ہڈی ہے جس کی چبھن کا احساس یہاں کا ہر وہ شہری ہی جانتا ہے جو باقاعدہ اس ٹیکس کی ادائیگی کررہا  ہے۔ ایک ذمہ دار شہری ہونے کے ناطے ٹیکس دینا شاید اتنا برا نہ بھی لگے بشر طیکہ اپنے رزق حلال سے دیے گئے اس ٹیکس کا یوں بے دریغ زیاں ہوتا نظر نہ آ رہا ہو کہ اپنے ملک میں اس بڑھتی ہوئی بیروزگاری سے نمٹنے کے لئے حکمرانوں کے پاس کوئی راستہ نہیں ہاں مگر پرائی جنگوں کی آگ میں جھونکنے کے لئے ہمارے  پاس بجٹ بھی ہے اور مذموم ارادے بھی۔ٹورانٹو کی سڑکوں پر آئے دن نشے سے دھت دم توڑتے ان بے گھر افراد کو اٹھانے کے لئے یہاں بھی حکمرانوں سے کوئی امید نہیں ہاں مگراس طرح ان قبل از میعاد کے انتخابات کی بھٹیوں میں پھونکنے  کے لئے ان کے پاس ٹیکس کا بجٹ موجود ہے۔ عوام کے انسانی حقوق کے تحفظ   کی بہتری کی خاطر قانون سازی اور ہر سال پہلے سے بڑھتی ہوئی جرائم کی روک تھام کے لئے یہاں بھی حکام بالا کے پاس وقت ہے نہ رقم ہاں مگر مجرمین کی جیلوں میں شاہانہ خاطر مدارات کے لئے فائیو اسٹار جیلوں کے قیام کے لئے بجٹ بھی موجود ہے اور قیدی مجرمین کی حفاظت اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے تمام تر قوانین بھی۔ اس کمر توڑ مہنگائی کے سیلاب کے آگے بند باندھنے اور مزدوروں کی اجرت بڑھانے کے لئے یہاں کے حکمران بھی بے بس اور لاچار ہی ہیں ہاں مگر یہ الگ بات ہے کہ وہ خود پارلیمنٹ میں براجمان ہوتے ہی اپنی تنخواہیں کون سے  بجٹ میں سے بڑھا لیتے ہیں اور پارلیمنٹ سے رخصتی سے قبل پنشن میں تیس فیصد کا  اضافہ کیسے اور کہاں سے کرتے ہیں یہ سمجھنے سے یہاں کے عوام بھی قاصر ہی ہیں۔
رہی بات یہاں کے عوام کی تو وہ بیچارے ویسے ہی اللہ میاں کی گا ئے ہیں مصروف  زندگی سڑکوں پر یوں گزرتی ہے کہ نہ دن کا ہوش نہ رات کا۔
ان کے پاس تو یہ سوچنے کے لئے ایک لمحہ بھی نہیں کہ انکا یہ ادا کیا گیا ٹیکس آخر جا کہاں رہا ہے اور نہ ہی یہ جاننے کے لئے وقت کہ ان کا جینا مزید دوبھر کیوں ہوتا چلا جا رہا ہے ؟ کہ ان بیچاروں کی حالت تو اس بادشاہ کے عوام کی سی ہے کہ جس کو اپنے عوام سے اپنے بارے میں رائے جاننے کی بڑی حسرت تھی اور عوام بھی کینیڈین عوام تھے پہاڑ سر سے گزر جائے یا قیامت ہی کیوں نہ آ جائے انھیں صرف اپنے کام سے مطلب تھا اور ایک دن بادشاہ سلامت نے اپنی حسرت پوری کرنے کے لئے اپنے وزیروں مشیروں سے مشورہ طلب کیا اور ایک وزیر کے مشورہ پر اس امید پر ایک شاندار سی ہائی وے تعمیر کروا دی کہ یقینایہ محنتی عوام مجبور ہو کر داد دیںگے، مگر بے سود، عوام کی طرف سے کوئی داد نہ پا کر اب بادشاہ سلامت بھنا گئے اور طیش میں آ کر ایک ٹول ٹیکس لگانے کا حکم دے دیا ہائی وے پر، کہ شاید اب ہی عوام شکایت کے بہانے چلے آئیں، مگر یہ بھی بے سود ہی رہا اب عوام کی یہ گھمبیر خاموشی بادشاہ کے غیض و غضب کو جگا گئی اور انتہائی برہم ہو کر وزیروں سے مشورہ طلب کیا کہ عوام کی خاموشی کو آخر کس طرح توڑا جائے اور یہ طے پایا کہ ٹول ٹیکس کی وصولی کی جگہ پر ایک آدمی کھڑا کر دیا جائے جو ٹیکس وصول کرنے کے بعد ایک جوتا بھی لگا دے اس امید پر کہ اب کی بار شاید عوام چلے ہی آئیں۔ ابھی کچھ دن گزرے تھے کہ عوامی نمائندے دربار میں آ گئے بادشاہ سلامت جو کہ اپنی جیت پر دل ہی دل میں خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے آنے کا سبب پوچھا تو عوامی نمائندگان کی جانب سے یہ جواب ملا کہ’’ہم عوام کی طرف سے یہ مانگ لے کر آئے ہیں کہ یہ جو ہائی وے پر ایک آدمی جوتے لگانے کے لئے بٹھایا گیا ہے اس کے اکیلے ہونے کی وجہ سے پیچھے لمبی لائن لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے لوگوں کو کام پر جانے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس لئے براہ مہربانی جوتے لگانے والے آدمیوں کی تعداد بڑھا دی جائے تاکہ عوام کو کام پر پہنچنے میں تاخیر کا سامنا نہ کرنا پڑے۔‘‘
بے ضمیر اگر حکمران ہیں تو بے حسی عوام کی بھی کہاں کسی سے کم ہے ؟ ظلم تب تک  ہی تو جیتا ہے جب تک اس کو سہنے والے موجود رہیں کہ ہر ظلم کی سانسیں مظلوم کی منافقت سے ہی تو طوالت پکڑتی ہیں۔اگر آج  دنیا بھر کے حکمرانوں کے خون کا گروپ ایک ہو چکا ہے تو عوامی منافقت اور بے حسی بھی تو ایک سی ہے۔ بڑے سے بڑے پہاڑ سر سے گزر رہے ہیں ہر آنے والا دن ایک نئی قیامت کی خبر لاتا ہے ہم سنتے ہیں اور دوسرے لمحے بھول جاتے ہیں۔ جب تک یہ ہماری خاموشی اور یہ منافقت ہمارے اندر یونہی زندہ ہے تو یوں سمجھئے کہ یہ ایک زرخیز زمین ہے ظلم کی ہر فصل کے لئے اور یہی تو  ہے وہ آب حیات جو ہر ظالم کے حوصلے بلند کرتا ہوا  اسے طویل زندگی کی نوید سنا رہا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *