جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے بین الاقوامی سیمینار کاانعقاد

Share Article
seminar-on-m-salim
نئی دہلی :خانوادہ قاسمی کے گل سرسبد،خطیب الاسلام حضرت مولانا محمد سالم قاسمی کو اتحاد امت کے عظیم پیامبرتھے اور ایک ایسے وقت میں جب امت کے شیرازہ کو بکھیرنے اور منتشر کرنے کی داخلی اور خارجی سطح پر کوشش کی جارہی ہے ان حالات میں حضرت مولانا محمد سالم قاسمیؒ جیسی شخصیات کا ہمارے درمیان سے اٹھ جانا کسی سانحہ سے کم نہیں ہے تاہم مولانا کی زندگی کی راہ، قربانیوں،جدو جہد اور ان کے نقوش قدم پر چل کر ملت کی شیرازہ بندی کی جاسکتی ہے۔ان خیالات کا اظہار آج جامعہ ملیہ اسلامیہ کے  ڈاکٹرانصاری آڈیٹوریم میں منعقد بین الاقوامی سیمینار میں مقررین نے کیا ہے۔
جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار اورشعبہ اسلامک اسٹڈیز جامعہ ملیہ اسلامیہ کے اشتراک سے یونیورسٹی کے انصاری آڈیٹوریم میں گذشتہ روزبین الاقوامی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں ملک و بیرون ملک کی کئی نامور شخصیتیں شریک ہوکر خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔جامعہ ملیہ اسلامیہ سابق پروفیسر و وائس چانسلر مولانا آزاد یونیورسٹی جودھپور پراخترالواسع نے کلیدی خطبہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مولانا محمد سالم قاسمی اس آخری دور میں اتحاد امت کے عظیم داعی تھے۔انہوں نے اپنے عمل و کردار کے ذریعہ امت کو اتحادکا پیغام دیاہے۔انہوں نے کہا کہ علم کا منطق حلم پر منتج ہوتا ہے۔مولانا محمد سالم قاسمی چوں کہ علوم دینیہ کے جید عالم دین اور پردادا امام مولانا محمد قاسم نانوتوی ؒ کے علوم کے پاسبان و محافظ تھے چناں چہ حلم وبربادی ان کی شخصیت کا لازمہ تھا اور انہوں نے مشکل حالات اور وقت میں بھی حلم و بردباری کی راہ ترک نہیں کی ہے۔مولانا محمد سالم قاسمی کی زندگی کے اس پیغام کو ملک کے تمام حصوں تک پھیلانے ی ضرورت ہے۔
دارالعلوم ندوۃ علماء لکھنو کے مہتمم مولانا ڈاکٹر محمد سعید الرحمن اعظمی نے خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کے مشن اور ان کی زندگی کے پیغام کو عام کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مولانا کی عظمت صرف یہ نہیں ہے کہ وہ ایک عظیم خانوادے کے فرزنداور وارث ہیں بلکہ مولانا اپنے جد امجد امام قاسم نانوتوی کے علوم کے پاسبان اور محاظ تھے اور انہوں نے اعتدال کیساتھ تحریک دیوبندیت کی پاسبانی کی اور ایک مثالی زندگی نئی نسل کے سامنے چھوڑی ہے۔مولانا نے اپنے شاگردوں اور قوم کو پیغام دیا ہے کہ مشکل حالات میں کس طریقہ سے حلم و بردباری کے ساتھ مقابلہ کیا جاتاہے۔مولانا سعید الرحمن اعظمی نے نئی دہلی میں بین الاقوامی سیمینار کے انعقاد کیلئے مفتی محفوظ الرحمن قاسمی کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے  امید ظاہر کہ مولانا مرحوم کی زندگی کا پیغام دور دور تک پہنچے اور نئی نسل ان کی زندگی سے سبق لے گی۔
جامعہ مظاہرعلوم سہارن پور کے امین عام مولانا محمد سید شاہد حسنی سہارنپوری نے کہا کہ مولانا محمد سالم قاسمی اپنے والد محترم حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒکے جانشیں ہی نہیں بلکہ انہوں نے اپنے والد محترم کے نقوش قدم پر چل کر امت کی رہنمائی کی۔
اس سے قبل سیمینار کا افتتاح کرتے ہوئے جامعۃ القاسم دارالعلوم لاسلامیہ کے مہتمم مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے کہا کہ خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی ؒ کی پوری زندگی فکر وللہی، اپنے جد امجد امام قاسم نانوتوی ؒ کے مشن کو آگے بڑھانے کیلئے وقف تھی۔اپنے والد محترم حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیب ؒ، جد امجد حافظ احمد صاحب رحمہ اللہ کی طرح مولانا مرحوم کی زندگی بھی دارالعلوم دیوبند اور تحریک دیوبند کیلئے وقف تھی، جد امجد امام قاسم نانوتوی کے علوم کی حفاظت و نگاہ بانی کے ساتھ آپ رحمہ اللہ نے بھی جدیدو قدیم اور دینی و عصری علوم کی تفریق کو مٹانے کی کوشش کرتے رہے۔زندگی کے آخری ایام میں تو بکھرے ہوئے موتیوں کو اکھٹا کرنے کی جو پہل اور قربانی پیش کی وہ تاریخ میں سنہرے حروف کے ساتھ لکھے جائیں گے۔خطیب الاسلام مرحوم نے ہمیں یہ پیغام دیا کہ ”اختلاف خواہ کسی جماعت اور طبقے میں ہو وہ اچھی نہیں ہے،مگر وہ اختلاف جو تقسیم کار کی نوعیت اختیار کرلے تو یہ رحمت بن جاتی ہے“۔وسیع النظر، کشادہ دل، علوم ربانی پر گہری گرفت ہونے کی وجہ سے آپ ہر حلقے میں یکساں مقبول اور احترام کی نگاہوں سے دیکھے جاتے تھے۔آج ہم خطیب الاسلام کو خراج عقیدت اس لیے بھی پیش کررہے ہیں کہ اس بہانے نئی نسل ا مام ربانی مولانا ناتویؒ کے مشن سے آگاہ ہوں اور ان میں بھی اسلام، مسلمان اور ملک کے تئیں فکرمندی کا جذبہ پیدا ہوا۔
انہوں نے کہاکہ امام قاسم نانوتویؒ کی تحریک کو ڈیڑھ سو سال سے زاید عرصے کا ہو چکا ہے۔اس وقفے میں نئے نئے چیلنج اور تقاضے ہمارے سامنے کھڑے ہورہے ہیں، امت کا شیرازہ بکھرتا جارہا ہے۔مسلمانوں کو لبرل اور قدامت کے نام پر تقسیم کردیا گیا ہے۔جدیدو قدیم اور عصری اور دینی تعلیم کے نام پر پیدا تفریق کی وجہ سے الہاد وارتداد ہمارے دروازے تک پہنچ چکاہے۔وقت ایک بار پھر شاہ ولی اللہ اور امام قاسم نانوتوی جیسی شخصیات کا انتظار کررہی ہے۔ان حالات میں ضرورت اس بات کی ہے کہ قرآن اور حدیث سے رشتے کو مستحکم کرنے اور اکابرین امت سے تصلب کے ساتھ عصر حاضر کے تقاضے سے ہم آہنگ ہونے کیلئے تدبیرین کی جائیں، مسلمانوں اور اسلام کے خلاف اٹھ رہے  فتنوں کا جائزہ لیتے ہوئے انہیں اسی زبان میں جواب دیا جائے۔نئی نسل کی ذہنی تربیت، شعور وآگاہی  کیلئے ادارے قائم کیے جائے۔نئی نسل اور پرانی نسلوں کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلوں کو مٹاکر ایک ہی صف میں محمود ایاز کھڑا کرنے کی ہمیں کوشش جاری رکھنا چاہیے۔
بین الاقوامی سیمینار میں معارف قاسم جدید کاخصوصی شمارہ جو مولانا محمد سالم قاسمی کی حیات وخدمات پر مشتمل ہے کی رسم رونمائی کی گئی۔یہ کتاب 800صفحات پر مشتمل ہے۔اس کے علاوہ جامعۃ القاسم دارالعلوم کی 30سالہ تاریخ کا رسم اجراء کیا گیا۔
اس موقع پر انقلاب کے ایڈیٹر شکیل شمسی نے کہا کہ مولاناپرانے روایات کے پاسدار ہونے کے ساتھ وسیع المشرب اور کشادل عالم دین تھے اور اعلیٰ کردار کے حامل تھے۔روزنامہ راشٹریہ سہارا کے گروپ ایڈیٹر مشرف عالم ذوقی نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات میں اس طرح کے سیمینار کے انعقاد کی ضرورت ہے۔ہمارے اکابرین نے ملت کو اتحاد کی دعوت دی ہے اورآج امت کو اتحاد کی ضرورت ہے اس لیے ضرورت اس بات کی ہے مولانا کے زندگی کے پیغام کو عام کیا جائے۔
جمعیۃ اہل حدیث کے ناظم عمومی مولا اصغر امام سلفی نے کہا کہ مولانا سالم کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں اور ہرایک پہلو روشن و تاباں ہیں،مگر مولانا نے جس طریقے سے مسلکی اختلافات سے اوپر اٹھ کر امت کو اتحاد کا پیغام دیا ہے وہ قابل قدر ہے۔مولانا نے کہا کہ ملک کے موجودہ حالات سے ہم سب پر عیاں ہیں پر اس روشنی ڈالنے کی ضرورت نہیں ہے۔ایسے میں مولانا جیسی شخصیات ہمارے لیے سرمایہ ہیں اورہم ان کی زندگی سے سبق لے کر امت کی شیرازہ بندی کی جاسکتی ہے۔سابق جسٹس سہیل اعجازصدیقی نے بھی مولانا کو اپنے وقت کا عظیم عالم دین،مفکر اور دانشور قرار دیتے ہوئے کہا کہ مولانا نے وسیع النظر عالم تھے۔جدید وقدیم کے درمیان پل تھے۔علوم اسلامیہ پر گہری گرفت کے ساتھ مولانا کی نظر ملک کے حالات پر تھی اور واضح نظریہ رکھنے والے تھے۔مدینہ منورہ سے تشریف لائے حکیم محمد عثمان مدنی قاسمی نے کہا کہ مولانا سالم قاسمی ؒ نے اپنے والد محترم کی طرح پوری دنیا میں تحریک دیوبند کی ترجمانی کی اور علماء دیوبند کے مسلک اور موقف کو پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔انہوں نے کہا کہ مولانا دارالعلوم دیوبند کے مزاج و موقف کے ترجمانی کے ساتھ امت کے تمام فرقوں کو ساتھ لے کر چلتے تھے اور ان کی کوشش تھی کہ اسلام کی ترجمانی کی جائے مسلک کو لوگوں کی سمجھ پر چھوڑ دیا جائے۔
اس موقع پر پروفیسر محمد اسحاق، پروفیسر اقتدار حسن، پروفیسر سید شاہد حسین، مفتی ارشد فاروقی، ڈاکٹر خالد اعظم کویت،مفتی تمیم،شہاب الدین ثاقب، شمس تبریز، مولانا رضوا ن الحق قاسمی نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *