سود:ـ ایک سماجی لعنت

Share Article

مولانا ندیم الواجدی
حال ہی میں اخبارات نے ہندوستان کے ساہو کاری نظام کا ایک انتہائی دل خراش واقعہ شائع کیا ہے ، مغربی یوپی کے قصبے بڑھانہ کے ایک گائوں میں رہنے والے کسی غریب دلت نے پندرہ بر س پہلے گائوں کے ہی ایک مہاجن سے بیس ہزار روپئے بہ طور قرض لئے تھے ، اس قرض کے بدلے وہ غریب دلت پندرہ سال تک مہاجن کے یہاں ملازمت کر چکا ہے ، اس نے اپنی دس بیگھے زمین بھی فروخت کر ڈالی ہے ، اس کے باوجود بھی پورا قرض ادا نہیں ہو سکا بلکہ مہاجن کے حساب سے ابھی تک مقروض پر تین لاکھ روپئے باقی ہیں ، بہ ظاہر یہ ایک خبر ہے ، لیکن درحقیقت یہ اس سماج کے منہ پر طمانچہ ہے جو ابھی تک مہاجنی نظام میں جکڑا ہوا ہے ، سود درسود کے چکر میں کتنے ہی لوگ دردر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبورہیں، کتنے ہی لوگوں کے ہاتھوںمیں کاسۂ گدائی آگیا ہے ، کتنے ہی لوگ دن رات کے تقاضوں سے عاجز آکر موت کی دہلیز پر قربان ہورہے ہیں ، کوئی ایک واقعہ ہی خبر بنتا ہے ، ورنہ اس طرح کے واقعات ہر روز پیش آتے ہیں ، ہندوستان میں خود کشی کے بڑھتے ہوئے اعداد وشمار بھی مہاجنی نظام کی بربریت کی داستان سناتے رہتے ہیں ، گذشتہ چند سالوں کے دوران مہاراشٹر کے دوربھ اور آندھرا کے قبائلی علاقوں کے ہزاروں کاشت کاراس لئے اپنی زندگی کا چراغ بجھا بیٹھے کہ وہ گرامین بینکوں سے لیا ہوا قرض مع سود ادا نہیں کر سکے تھے، پہلے ہندوستانی سماج پر مہاجن تنہا راج کر رہے تھے ، اب اس راج پاٹ میں بینک بھی حصہ دار بن چکے ہیں ، بات ایک ہی ہے ، دونوں غریبوں کا شکار کر رہے ہیں موت و حیات کی رسمیات کے لئے، یا چھوٹی موٹی تجارتی وزراعتی ضرورتوں کے لیے حاصل کئے جانے والا قرض سود در سود کی شکل میں سماج کے غریب طبقے کے افراد کو اس طرح کچل کر رکھ دیتا ہے کہ وہ سر اٹھاکر جینے کا حوصلہ بھی چھوڑ دیتے ہیں ، سوال یہ ہے کہ سماج کے ٹھیکیداروں کو اور حکومت کے ذمہ داروں کو غریبوں کی مدد ، اور معاشرے کی اصلاح کا خیال کب آئے گا ،سود کا عفریت غریبوں کو نگلتا چلا جا رہا ہے ، کیا ہمارا معاشرہ اس خوفناک منظر کو اسی طرح بے حسی کے ساتھ دیکھتا رہے گا یا کوئی ایسی تدبیر بھی کرے گا جس سے ہمارا سماج سود کی لعنت سے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے محفوظ ہو جائے؟
افسوس اس بات کا ہے کہ اب ہر گلی محلّے میں فائننس کے نام پر باقاعدہ سودی کاروبارکا نظام چل رہا ہے ، لوگ بڑے بڑے دفتر کھولے بیٹھے ہیں ، ہزاروں لاکھوں افراد اس دھندے سے جڑے ہوئے ہیں ، اور اسے ایک نفع بخش کاروبار کی شکل دے دی گئی ہے ہمارے لئے سب سے زیادہ دکھ کی بات یہ ہے کہ فائننس کے اس کاروبار میں مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد بھی ملوث ہے ،اس طرح مسلمانوں کا معاشرہ دوہرا عذاب جھیل رہا ہے ، ایک طرف غریب مسلمان سود پر پیسہ اٹھا کر غریب تر ہو تے جا رہے ہیں ، دوسری طرف کچھ مسلمان مال ودولت سے اپنا گھر تو بھررہے ہیں مگر آخرت کی لعنتیں بھی سمیٹ رہے ہیں ، کیا یہ انتہائی تکلیف دہ صورت حال نہیں ہے کہ جس امت کے ایک ایک فرد کو سود کا دشمن اور اس نظام کا مخالف ہونا چاہیے تھا اس کے بہت سے افراد سودی نظام کو فروغ دینے کا گناہ کر رہے ہیں اور انہیں گناہ کا احساس بھی نہیں ہے ، بلکہ وہ اسے دوسرے کاروبار وں کی طرح محض ایک کاروبار سمجھتے ہیں  اور جب انہیں بتلایا جاتا ہے کہ یہ کاروبار نہیں ہے بلکہ استحصال ہے ، گناہ عظیم ہے  ظلم اور تعدی ہے تو یہ نصیحت ان کے کانوں پر جوںکی طرح رینگ جاتی ہے ، خود غرضی اور مفاد پرستی نے ان سے سوچنے سمجھنے اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیتیں سلب کر لی ہیں ۔
اسلام وہ واحد مذہب ہے جس نے سود کا خاتمہ کرنے میں کو ئی کسر اٹھا نہیں رکھی ، لیکن اس مذہب کے نام لیوا آج کھلے بندوں اس کو فروغ دینے میں مصروف ہیں ،حالاں کہ قرآن کریم کی دس آیات سے اور چالیس سے زیادہ احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی حرمت ثابت ہے ، اس حرمت پر اجماع امت ہے اور اس میں نہ کسی عالم کا اختلاف ہے اور نہ کسی فقیہ کا کوئی ایسا قول جس سے کسی قسم کی گنجائش نکلتی ہو ، سود کی لعنت نئی نہیں ہے ،یہود بھی اس لعنت میںگرفتار تھے ، جاہلی معاشرے میں بھی اس کا چلن ہوا ، اسلام آیا تو اس نے جس طرح دوسری سماجی اور اخلاقی برائیوں کے خاتمے کے لئے جد وجہد کی اسی طرح سود جیسے ظالمانہ رواج کو بھی جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ہر ممکن سعی کی  ۸  ؁ھ میں سود کی ممانعت پر مشتمل آیات نازل ہوئیں ، جو حضرات صحابہؓ سود لیتے تھے وہ اس سے رک گئے ، اس طرح بلا توقف اس حکم پرعمل کا سلسلہ شروع ہوگیا ، تمام سودی لین دین معطل کر دئے گئے ، یہاں تک کہ غیر مسلم بھی اس حکم کے پابند ہو گئے ، حکم ہی اس قدر سخت تھا کہ مملکت اسلامیہ کے تمام باشندوں کے دل دہل گئے ، فرمایا: ’’ایمان والو! خدا سے ڈرو ، اور جو کچھ سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے چھوڑ دو اگر تم واقعی مؤمن ہو، لیکن اگر تم ایسا نہیں کرتے تو آگاہ ہو جائو کہ اللہ اور اس کے رسول کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے‘‘(البقرۃ:۲۷۸:۲۷۹)۔
اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ گناہ کتنا بڑا ہو گا جس کے ارتکاب پر خدا اور اس کے رسول کی طرف سے جنگ کی دھمکی دی جا رہی ہے ، یہی وجہ ہے کہ اس حکم کے نازل ہوتے ہی تمام مسلمانوں نے سودی لین دین سے توبہ کر لی ، جو سود لوگوں کے ذمہ باقی رہ گئے تھے وہ چھوڑ دئے گئے ، سرکاردوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنے خطبے میں ارشاد فرمایا ’’ جاہلیت کے تمام سودی معاملات کالعدم کردئے گئے ہیں ، اب اصل رقم ملے گی سود نہیں ملے گا، نہ تم ظلم کر سکو گے نہ تم پر ظلم کیا جائے گا، سب سے پہلے میں اپنے چچا عباس ابن عبد المطلب کا سود کالعدم کرتا ہوں ‘‘۔(مسلم :۴/۳۹، رقم الحدیث: ۳۰۰۹)
ایام جاہلیت میں سود کی جو شکل رائج تھی وہ بعینہ یہی تھی جس میں آج ہمارا معاشرہ گرفتار ہے ، اور جسے فائننس کہہ کر ایک وسیع کاروبار کی شکل دے دی گئی ہے  ابن جریر ، قتادہ ، ابو حیان وغیرہ ائمہ تفسیر کے جو قول ابن کثیر، تفسیر کبیر اور روح المعانی میں نقل کئے گئے ہیں ان کے مطابق ایام جاہلیت میں لوگ ایک معین مدت کے لئے لوگوں کو طے کردہ شرح سود پر روپیہ قرض دیا کرتے تھے ، اگر یہ رقم مع سود معین مدت میں ادا نہ ہوپاتی تو شرح سود کے اضافے کے ساتھ اس مدت میں توسیع کردی جاتی تھی ، اور لوگ یہ سمجھتے تھے کہ جس طرح خریدوفروخت میں منافع کمایا جاتا ہے اسی طرح روپیہ قرض دے کر بھی نفع کمایا جاتا ہے ، کیا آج سود کی یہی شکل رائج نہیں ہے ؟ قرآن کریم میں سود کی اس شکل کو بھی بہ طور خاص ذکر کرکے اسے حرام قرار دیا گیا ہے فرمایا: ’’ اے ایمان والو! سود مت کھائو کئی حصے زائداور اللہ تعالیٰ سے ڈروامید ہے کہ تم کامیاب ہو جائو ‘‘( آل عمران :۱۳۰)
اس میںاضعافًا مضاعفہ(کئی حصے زائد) کی قید احترازی نہیں بلکہ واقعی ہے ،یعنی اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر سوداضعافا مضاعفہ ہو تو حرام ہو گا ، ورنہ حرام نہیں ہو گا  یہاں رواجی سود کا خاص طور پر ذکر ہے کیوں کہ اس وقت سود کی یہی شکل متعارف اور مروج تھی ، اسے ہم آج کی زبان میں سود در سود کہتے ہیں ، حرام دونوں ہیں ، سود بھی اور سود در سود بھی ، سود کی شناعت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کی مذمت میں لگ بھگ چالیس احادیث نقل کی گئی ہیں ،ایک مرتبہ سر کارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ رات میں نے دو شخصوں کو دیکھا کہ وہ مجھے بیت المقدس تک لے گئے  اس سے آگے بڑھے تو خون کی ایک نہر دیکھی جس میں ایک آدمی اندر کھڑا ہے ، اندر والا شخص جب باہر نکلنے کا ارادہ کرتا ہے تو کنارے پر کھڑا ہوا آدمی اس کو تھپڑ مار کر پھر نہر میں گرادیتا ہے ، میں نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں ، انہوں نے جواب دیا کہ یہ نہر میں کھڑا ہوا آدمی سو د خور ہے جو اپنے کئے کی سزا بھگت رہا ہے۔(بخاری شریف:۶/۲۵۸۳)
سر کارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا کہ معراج کی رات جب ہم ساتویں آسمان پرپہنچے تو ہم نے بادل کی کڑک اور بجلی (کی چمک) دیکھی اور ایسی قوم پر ہمارا گزر ہوا جن کے پیٹ مکانات کی طرح بڑے بڑے تھے اور ان میں سانپ بچھو بھرے ہوئے تھے جو باہر سے نظر آرہے تھے، میں نے جبرئیل علیہ السلام سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں ، انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود خور ہیں۔( مسند احمد بن حنبل:۲/۳۵۳)سود کا گناہ کس درجے کا ہے اس کا اندازہ لگانے کے لئے یہ حدیث کافی ہے جس میں ارشاد فرمایا گیا کہ سود کے گناہ کا کم تر درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص اپنی ماں کے ساتھ بد کاری کرے۔(مستدرک حاکم : ۲/۴۳) ایک حدیث میں ہے کہ سود کا ایک درہم چھتیس بار کے زنا سے بڑھ کر ہے۔( الترغیب والترہیب :۳/۷) ایک موقع پر سر کارِ دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ سات چیزیں ہلاک کرنے والی ہیں ، شرک ، جادو، خون ناحق ، سودخوری، مال ِ یتیم ہڑپ کرنا ، جہاد سے راہ فرار اختیار کرنا اور پاک دامن عورت پر تہمت لگانا۔(بخاری شریف : ۳/۱۰۱۷)ایک حدیث میں ہے کہ سود کھانے والاقیامت کے دن پاگل اور مخبوط الحواس ہوکر اٹھے گا۔(مجمع الزوائد: ۴/۲۱۴ ) سود خور کی اس کیفیت کا بیان قرآن کریم میں بھی ہے فرمایا :  ’’ جو لوگ سود کھاتے ہیں وہ قیامت کے دن اس طرح کھڑے ہوں گے جس طرح وہ شخص کھڑا ہوتا ہو جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس بنا دیا ہو ‘‘ (البقرہ ۲۷۵)۔
مفسرین نے لکھا ہے کہ سودخور پیسے کے پیچھے دیوانہ بن جاتا ہے ، زر پرستی کی ہوس اسے تمام انسانی احساسات سے عاری بنا دیتی ہے ، یہ شخص آسیب زدہ دیوانوں اور پاگلوں کی طرح قبر سے اٹھایا جائے گا ، اس پرمخبوط الحواسی کی کیفیت غالب ہو گی  وہ بڑ بڑاتا ہوا اور بکواس کرتا ہوا اپنی قبر سے اٹھے گا ، کیوں کہ جرم وسزا میں ایک گونہ مناسبت ہوتی ہے ، اس لحاظ سے سود خور کی یہ دیوانگی اور یہ جنون اس لئے بھی ہو گا کہ وہ دنیا میں خود کوبڑا عقل مند سمجھتا تھا اور اپنی سود خوری کے گناہ کو بیع جیسا معاملہ قرار دے کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا کہ یہ کوئی گناہ نہیں ہے بلکہ نفع حاصل کرنے کا ایک ذریعہ ہے ، اس کا یہ دعویٰ بے عقلی پر مبنی تھا اس لئے اسے سزا بھی ایسی دی جائے گی جو زوال عقل کی صورت میں واقع ہو گی ۔
بہر حال سودمطلقاً حرام ہے ، اگر چہ قرآن کریم کی ان آیات میں سود کھانے کی ممانعت واردہے ، مگر یہ صرف محاورے کے طور پرہے ، اصل سود کا استعمال ہے خواہ وہ کھانے کی صورت میں ہویا اسے لباس ،مکان اور دوسری ضروریات زندگی پر خرچ کیا جائے ، یا اسے حاصل کر کے محفوظ کر لیا جائے ، سود ہر حالت میں حرام اور ناجائز ہے ، یہ بڑا المیہ ہے کہ بہت سے لوگ سودی لین دین میں مصروف ہیں مگر اسے گناہ سمجھ کر شرمندہ ہونے کے بجائے وہ اسے جائز ذریعہ آمدنی سمجھتے ہیں ، ان کے نزدیک یہ معاملہ ایسا ہی ہے جیسا خریدوفروخت کا کہ اس میں نفع کمانا جائز ہے اسی طرح کسی کو قرض دے کر بھی نفع کمایا جا سکتا ہے ، یہ لوگ سود خوری کے جرم میں توملوث تھے ہی اب اسے حلا ل سمجھنے کے گناہ میں بھی مبتلا ہو گئے ۔
سود خور اپنے حق میں یہ جذباتی دلیل بھی پیش کرتے ہیں کہ اگر ہم اپنا پیسہ خود تجارت میں لگاتے تو نفع کما سکتے تھے ، اس کے بجائے ہم نے یہ کیا کہ از راہ ہمدردی ضرورت مند لوگوں کو روپیہ دے دیا تاکہ وہ اسے تجارت میں لگا کر نفع کمائیں ، چنانچہ وہ لوگ تجارت کرتے ہیں اور نفع کماتے ہیں ، یہ عجیب بات ہے کہ قرض دینے والے کے پیسے سے قرض لینے والا تو فائدہ اٹھائے مگر اس فائدے میں سے کچھ حصہ قرض دینے والے کو نہ ملے ، یہ لوگ اس دلیل کو اپنے حق میں بڑی مضبوط تصور کرتے ہیں حالاں کہ ان کا یہ خیال انتہائی مہمل ہے اور ان کی کم عقلی پر دلالت کرتا ہے ، صحیح بات یہ ہے کہ دنیا میں جتنے بھی کاروبار ہیں خواہ وہ تجارت کی شکل میں ہوںیا صنعت وحرفت اور زراعت کی صورت میں ، خواہ ان میں کوئی شخص صرف اپنی محنت سے مشغول ہو یا محنت اور سر مائے دونوں سے لگا ہوا ہو، سب میں نفع کے ساتھ نقصان کا خطرہ بھی لگا رہتا ہے ، ان میں سے کوئی کام بھی ایسا نہیں ہے جس میں یقینی نفع کی ضمانت دی جا سکے  صرف قرض دے کر سود حاصل کرنے والوں کا کاروبار ہی ایسا ہے جس میں وہ لوگ نقصان کے خطرے سے محفوظ ہونے کے ساتھ ساتھ مقرر اور لازمی نفع کے حق دار ہیں  ایک شخص ہے جو کاروبار میں اپنا سر مایہ بھی لگائے بیٹھا ہے ، اپنا وقت ، اپنی محنت اور اپنی قابلیت سب کچھ اس نے کاروبار میں لگا رکھی ہے ، پھر بھی اسے نقصان کا دھڑکا لگارہتا ہے اور نفع بھی ہو تو یہ ضروری نہیں کہ جتنا اس نے اپنے ذہن میں متعین کر رکھا تھا اس قدر نفع ہو ، ہو سکتا ہے وہ نفع کم بھی ہو جائے ، یا توقع سے بڑھ جائے ، یا بالکل ہی نہ ہو  بلکہ نفع کے ساتھ رأس المال بھی ڈوب جائے ، اس کااندیشہ اپنی جگہ ہے دوسری طرف وہ شخص ہے جس نے صرف سرمایہ لگایا ہے ، نہ اس کا وقت لگ رہا ہے ، نہ وہ محنت کر رہا ہے نہ اس کی کوئی قابلیت کام آرہی ہے مگروہ یقینی نفع حاصل کرتا جا رہا ہے آخر انصاف کا وہ کون سا پیمانہ ہے اور عقل کا وہ کیا معیار ہے جس کی رو سے اس معاملے کو صحیح قرار دیا جا سکے ۔
بہ ہر حال تجارت اور سود میں بنیادی فرق ہے ، معاشی لحاظ سے بھی اور اخلاقی نقطۂ نظر سے بھی، پہلے معاشی فرق کو لے لیجئے ، تجارت میں تاجر اور خریدار دونوں کے درمیان مساوی بنیادوں پر منافع کا تبادلہ ہوتا ہے ، تاجر اپنی چیز فروخت کر کے نفع حاصل کر رہا ہے اور خریدار اپنی ضرورت کی چیز خرید کر نفع اٹھانا چاہتا ہے ، جب کہ سود لینے والا تو متعین مقدار میں مال حاصل کر کے نفع کما لیتا ہے ، مگر سود دینے والے کا نفع محتمل ہے ، ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی ، یہ کم بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ بھی ، اور اگر وہ قرض لے کر اسے ذاتی ضرورتوں پر صرف کر دیتا ہے تو اس میں نفع کی کوئی صورت ہی نہیں ہے ، اس طرح ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس معاملے میں ایک فریق سراسر فائدے میں ہے اور دوسرا فریق خسارے میں ہے ،یا ایک فریق یقینی فائدہ اٹھا رہا ہے اور وہ فائدہ متعین بھی ہے جب کہ دوسرے فریق کا نفع غیر یقینی اور غیر متعین ہے ۔
تاجر اگر منافع بھی کمائے تو وہ کم وبیش تو ہو سکتا ہے مگر لامحدود نہیں ہو سکتا ، وہ خریدار سے صرف ایک بار نفع لے گا خواہ وہ نفع کتنا ہی کیوں نہ ہو اور معاملہ ختم ہوجائے گا ، جب کہ سود خورکے منافع کی کوئی حد مقرر نہیں ہے ، جب تک اس کا قرض ؛ مقروض کے ذمے باقی ہے وہ طے شدہ رقم کے مطالبے کاحق رکھتا ہے ، خواہ یہ مدت کتنی ہی زیادہ کیوں نہ ہو جائے ، سود خورکا نفع شیطان کی آنت کی طرح بڑھتا ہی چلا جاتا ہے ، بعض اوقات مقروض اپنا سب کچھ بیچ کر بھی سود خور کا منافع اور اصل رقم ادا نہیں کر پاتا ، جیسا کہ عام طور پر مشاہدہ کیا جا رہا ہے ۔
معاشی وجوہ سے قطع نظر کر کے دیکھا جائے تب بھی یہ ایک ایسا معاملہ ہے جس کی کوئی اخلاقی بنیاد نہیں ہے ، معاشرے میں تاجر کو جو عزت واحترام،وقار اور اعتماد حاصل ہے اس کا عشر عشیر بھی سودخور کو میسر نہیں ہے ، خواہ وہ کتنا ہی بڑا سیٹھ کیوں نہ ہو  لفظ سود خوریا سود خوار ہی اس قدر کر یہہ ہے کہ سماعت اور طبع نازک پر سخت ناگوار گذرتا ہے ، جب بھی یہ لفظ بولاجاتا ہے تو بے شمار اخلاقی برائیاں نگاہ کے سامنے آجاتی ہیں  سود خور کی سر شت میںخود غرضی ، مفاد پرستی ، ہو س گیری ، بے رحمی ، شقاوت ، بخل اور زر پرستی جیسی مہلک صفات داخل ہیں ،اسے اپنے ہی جیسے لوگوں سے نہ کسی قسم کی کوئی ہمدردی ہوتی ہے اور نہ اس کے دل میں امداد باہمی کا کوئی جذبہ ، حالاں کہ انسان کا اصل جو ہر ایثار وسخاوت ہے ، یہ جوہر جسے میسر ہو جائے وہ خود تکلیف اٹھاسکتا ہے ، مگر دوسروں کو راحت پہنچانے کی کوشش کرتا ہے ، سودی کا روبار میں جذبۂ ایثار وسخاوت بالکل مٹ جاتا ہے ، سود خور کو صرف اپنے سر مائے اور سود کی واپسی سے مطلب ہو تا ہے ، دوسرا شخص کس حال میں ہے اسے اس کی پرواہ نہیں ہوتی ، اس کے دل میں کسی کے لئے جذبۂ ترحمّ باقی نہیں رہتا بلکہ وہ دوسروں کی مصیبتوں پر اپنی خوش حالی کی عمارت بنانے کی کوشش کرتا ہے ،مال ودولت کی حرص اسے نیک وبد اور اچھے برے میں تمیز کرنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتی ہے ،اسلام چاہتا ہے کہ معاشرے کی تعمیر اچھی بنیادوں پر ہو ، اس لئے اس نے سود کو حرام قرار دے دیا کیوں کہ اس سے انسان کے اندر رزائل پیدا ہو تے ہیں ، تجارت کو حلا ل قرار دیا کیوں کہ اس سے محنت  مشقت اور اکل حلال اور دیانت جیسی صفات عالیہ کو فروغ ملتاہے ، اسی لئے قرآن کریم میں سود کو تباہ کن اور تجارت کو ترقی کا ذریعہ قرار دیا گیاہے۔
مسلمانوں کو چاہئیے کہ وہ سود کی لعنت سے بچنے کی کوشش کریں ، مغربی طرز کے نظام معیشت نے سود کو ترقی کی بنیاد بنا کر پیش کیاتھا ، لوگ اس نظریئے کی طرف اس طرح لپکے کہ اسے ہی سب کچھ سمجھ بیٹھے ، حالاںکہ مغرب کے اقتصادی بحران نے اس نظرئیے کی بنیاد کھوکھلی کر کے رکھ دی ہے اور لوگ اسلام کے غیر سودی اقتصادی نظام میں جائے پناہ ڈھو نڈرہے ہیں مسلمانوں کو یہ بھی چاہیے کہ وہ مغرب کی تباہ حالی سے سبق لیں اور اس برائی سے دور رہیں اگر اس میں وقتی نفع بھی ہو تب بھی یہ حقیقت سامنے رکھیں کہ اس میں ضرور کچھ ایسے نقصانات ہیں جن تک ہماری ناقص عقل کی رسائی نہیں ہے ، ورنہ شریعت اسے حرام قرار نہ دیتی ، شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو حرام سمجھنا اور ان سے بچنا اور حلال کی ہوئی چیزوں کو جائز سمجھنا اور انہیں اختیار کرنا ہی ایک مومن کا پہلا فرض ہے ۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *