انصاف کے ہنوز منتظر ہیں ہاشم پورہ متاثرین

Share Article

اے یو آصف
اس سے بڑا ظلم اور کیا ہوسکتا ہے کہ تقریبا 30 برس بعد ہاشم پورہ معاملہ ابھی تک انصاف کا متقاضی ہے۔ وہ بد نصیب 42 افراد جنہیں پی اے سی کے جوانوں نے 22مئی 1987 کودن دھاڑے گھروں سے نکال کر میرٹھ میں ہاشم پورہ محلہ کے باہر گل مرگ سنیما کے سامنے جمع کیا اور پھر ٹرک میں بیٹھا کر مراد نگر ؍غازی آباد کے گنگ نہر اور ہنڈن ندی کے پاس لائے اور پانی میں گولیوں سے مار کر پھینک دیا۔ان میں سے بچے ہوئے چند افراد اور مقولین کے اعزہ و اقارب ہنوز معاوضہ سے محروم ہیں۔ یہ معاملہ غازی آباد کی عدالت سے چکر کاٹتا ہوا جلد مقدمہ نمٹانے کے لئے دہلی کی تیس ہزاری عدالت لایا گیا اور وہاں 21مارچ 2015 کو ثبوت کی عدم فراہمی کے سبب قاتل کا پتہ نہ لگ سکنے پر نتیجہ یہ نکلا کہ پی اے سی کے 16 ملزم جوان بری الذمہ قرار دیئے گئے۔
دلچسپ بات تو یہ تھی کہ جو واقعہ دنیا بھر میں ظلم و بربریت کا نشان بن گیا اور جس کے نتیجے میں بدنصیب 42 افراد میں سے بیشتر موت کے منہ میں چلے گئے، اسے انجام دینے والوں کا عدالت پتہ نہیں لگا سکی۔ واقعی یہ کیسی عجیب بات ہے کہ کوئی ثبوت نہیں مل سکا جبکہ اس تعلق سے متعدد انکوائری کمیٹی بیٹھائی گئی اور انہوں نے اپنی رپورٹ میں کھل کر پی اے سی کے متعدد جوانوں پر شک کی سوئی بھی رکھی۔
گزشتہ 21مارچ 2015 کو دہلی کی ٹرائل عدالت کے ذریعے سنائے گئے فیصلے کے بعد سب سے قابل ذکر بات تو یہ تھی کہ ان بد نصیب 42افراد میں سے زندہ بچے ذوالفقار ناصر نے چشم دید گواہ کے طور پر اس فیصلہ کو دہلی ہائی کورٹ میں کھلم کھلا چیلنج کردیا۔ یہ وہی ذوالفقار ناصر ہیں جنہوں نے پی اے سی کے جوانوں کی مراد نگر میں گنگ نہر پل کے پاس گولیاں کھا کر واقعہ کے کچھ دیر بعد لنگڑاتے ہوئے نہر کے کنارے کنارے چل کر ٹرک پر آنے کی ہمت کی اور مشہور قلفی فالودہ کی دکان کے آگے تھانہ کے سامنے ایک پیشاب گھر میں کئی گھنٹے تک پناہ لیاور اپنی جان بچا کر اس واقعہ کے عینی شاہد بن گئے۔ افسوس صد افسوس کہ آج انہیں فرسٹ ایڈ دے کر ان کی جان بچانے والے ڈاکٹر خالد ہاشمی اور ان کے والد حکیم ذاکر حسین اس دنیا میں نہیں ہیں ،مگر ان کے بچائے ہوئے یہ شخص حقیقی ظالم و قاتل کے لئے سب سے بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں۔
انصاف کی اس لڑائی میں ذو لفقار ناصر تنہا نہیں ہیں۔ دہلی ہائی کورٹ میں تیس ہزاری عدالت کے ڈیڑھ برس قبل کے فیصلہ کو مزید جنہوں نے چیلنج کیا ہے، ان میں اس زمانے کے لوک دل اور اب بی جے پی رہنما ڈاکٹر سبرامنین سوامی اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن شامل ہیں۔ ڈاکٹر سوامی کا ہاشم پورہ معاملہ سے ابتدا سے تعلق ہے۔ اس سانحہ کے فوراً بعد یہ سابق ڈپٹی وزیر قانون اور بزرگ سیاست داں محمد یونس سلیم کے ہمراہ مراد نگر کی گنگ نہر اور غازی آباد کی ہنڈن ندی کے پاس گئے تھے اور ہنڈن ندی میں بہتی ہوئی چند لاشوں کو بھی دیکھا تھا اور اسی مقام پر لاشوں کے پاس کھڑے ہوکر انگریزی ہفتہ وار ’ریڈیئنس ‘ کو انٹرویو دیا تھا اور اس سانحہ کو ’ اسیٹیٹ اسپانسرڈ جیبنو سائڈ ‘ قرار دیا تھا۔ ان کے اسی انٹرویو کے بعد یہ سانحہ اسی نام سے معروف ہوگیا تھا اور آج بھی اسی نام سے جانا جاتاہے۔
یہ صحافی بھی اس سفر میں ان کے ساتھ تھا اور مذکورہ انٹریو بھی اسی نے لیا تھا۔ اس صحافی کو یہ بات ابھی تک یاد ہے کہ سڑی ہوئی لاش سے آرہی بدبو کو برداشت نہ کرنے کے سبب ڈاکٹر سوامی نے اس وقت اپنی دھوتی کے دامن سے ناک کو ڈھک لیا تھا اور محمد یونس سلیم مرحوم نے بھی اپنی ناک پر رومال رکھ لیا تھا اور اس صحافی سے کہا تھا کہ کچھ دور کھیت میں چل کر بات کریں،کیونکہ یہاں بدبو کی وجہ سے کھڑا ہونا مشکل ہورہا ہے۔ تب اس صحافی کا برجستہ جواب تھا کہ’ نہیں‘اسی جگہ انٹرویو ہوگا تاکہ فطری رد عمل سامنے آسکے‘۔ ’ریڈیئنس‘ میں ناک پر دھوتی کا دامن اور رومال رکھے ان رہنمائوں کی تصویر کے ساتھ یہ انٹرویو آج بھی اپنی کہانی آپ کہہ رہا ہے۔ ڈاکٹر سوامی نے ایک برس بعد اس سانحہ کی پہلی برسی کے موقع پر مراد نگر سے راج گھاٹ دہلی تک پیدل مارچ کیا تھا اور اس وقت کئی سو افراد ان کے شریک سفر تھے۔ بعد ازاں بوٹ کلب پر انہوں نے ’مرن برت ‘ رکھا تھا تاکہ اس معاملے میں انصاف ہوسکے۔ ان دنوں کئی دنوں کے بعد ان کے ’برت ‘ کو مرکزی حکومت کی یقین دہانی کرائے جانے کے بعد توڑ وایا گیا تھا۔یہ اس کے بعد بھی اس سانحہ کے تعلق سے اپنی آواز اٹھاتے رہے اور یو پی کے اس وقت کے وزیر اعلیٰ آنجہانی ویر بہادر سنگھ اور وزیر مملکت برائے داخلہ پی چدمبرم پر اس سانحہ میں ہاتھ ہونے کا الزام لگاتے رہے اور آج بھی لگارہے ہیں۔
اس طرح ذوالفقار ناصر کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر سوامی کی بھی اس معاملہ میں قانونی لڑائی مستقل جاری ہے۔ دراصل اسی تعلق سے دہلی ہائی کورٹ نے گزشتہ 6اکتوبر 2016 کو اتر پردیش حکومت سے کہا ہے کہ وہ 1987 کے واقعہ سے متعلق 22جون 1989 کی سی بی-سی آئی ڈی رپورٹ کو عدالت میں 24 نومبر تک پیش کرے۔ ہائی کورٹ نے اس روز یہ بھی ہدایت دی کہ 24 نومبر سے قبل رسپانڈینٹ یہ وضاحت کرتے ہوئے ایفی ڈیوٹ فائل کرے کہ مذکورہ پورے معاملہ میںریکارڈ کے منٹننس‘ پریزرویشن اور ختم کرنے کے لحاظ سے کب اور کیا اقدامات کئے گئے؟۔ اس تعلق سے اتر پردیش کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل ظفر یاب جیلانی نے اس صحافی سے فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں دو گواہ کو اور طلب کیا گیا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ سی بی – سی آئی ڈی کی 1989 کی مذکورہ رپورٹ بھی مل گئی ہے اور مقدمہ کی مضبوط پیروی کے لئے کافی ثبوت اب دستیاب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں متعلقہ ٹرک کی شناخت نہ ہونا ایک بڑی بھول رہی ہے۔
ویسے ہائی کورٹ نے 6 اکتوبر کو اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ یوپی حکومت نے اب تک تمام متاثرین کے ورثاء اور اعزہ و اقارب کو ان کی بازآبادکاری کے لئے معاوضہ ادا نہیں کیا ہے۔ اس نے متعلقہ سرکاری ذمہ داوں سے جلد از جلد ایکسگریشیا رقم ادا کرنے کی بھی ہدایت دی ہے۔ دو ججوں گیتا متل اور پی ایس تیجی پر مشتمل بینچ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ’’ یہ معاملہ 1987 میں شروع ہوا اور اس کے لئے تمام متاثرین کو اسٹیٹ لیگل سروسز اتھارٹی کی ویکٹم کمپنسیشن اسکیم کے تحت معاوضہ ابھی تک نہیں ملا ہے۔ لہٰذا یہ ہدایت دی جاتی ہے کہ ریاست یو پی میرٹھ لیگل سروسز اتھارٹی کے پاس اس معاملہ میں ان متاثرین کی فہرست اور پوری معلومات پیش کرے جنہیں معاوضہ دیا گیا ہے۔دراصل میرٹھ لیگل سروسز اتھارٹی کے سکریٹری کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ریلیف کے مستحق افراد کی نشاندہی کے عمل کو پورا کرے اور اس بات کو دیکھے کہ ویکٹم کمپنسیشن اسکیم کے تحت ایکس گریشیا متاثرین کے مستحق خاندانوں تک پہنچے۔دہلی ہائی کورٹ نے یہ بھی تاکید کی کہ متاثرین اور ان کے خاندانوں کی نشاندہی کا عمل 6اکتوبر سے لے کر 6ہفتوں کے اندر پورا ہوجائے اور معاوضہ کی رقم ہر حال میں اس کے 15دنوں کے اندر ادا ہوجائے۔
بہر حال اب دیکھنا یہ ہے کہ دہلی کی تیس ہزاری عدالت ہاشم پورہ کے جس معاملہ میں مظلومین کے حق میں انصاف پر مبنی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کرپائی تھی، دہلی ہائی کورٹ کیا فیصلہ کرتاہے۔ منتظر ہیں صرف ذوالفقار ناصر، ڈاکٹر سوامی اور نیشنل ہیومن رائٹس کمیشن ہی نہیں بلکہ حق و انصاف کی توقع رکھنے والے ملک کے تمام شہری اس بڑے فیصلہ کے۔

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔
Share Article

auasif asif

تقریباً40برسوں سے لسانی صحافت سے جڑے 63سالہ اے یو آصف ’چوتھی دنیا‘ کی اردو ٹیم کے ذمہ دار ہیں۔ چوتھی دنیا اردو میں ادارتی صفحات پر ان کا ’لمحہ فکریہ‘ پابندی سے شائع ہوتا ہے۔ انہوں نے متعدد انگریزی، ہندی اور اردو اخبارات و رسائل سے وابستگی کے دوران کئی ہزار زائد انٹرویوز،انویسٹی گیٹیو اور کوراسٹوریز، کتابوں کے تبصرے اور شخصیات کے پروفائل کیے ہیں۔ عمومی ایشوز کو کور کرنے کےساتھ ان کی حاشیہ پر رہ رہے افراد اورطبقات بشمول مسلمانوں پر مہارت ہے خواہ وہ کسی بھی ملک ہوں۔یہ 2003میں امریکی حکومت کی دعوت پر امریکہ کا دورہ کرکے 9/11کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لینے والے5سائوتھ ایشیا کے سینئر صحافیوں کے وفد میں شامل تھے۔ 1986میںمیانمار (برما) سے ہندوستان آنے والے اولین مہاجر خاندان سے کٹیہار جیل میں انٹرویو لینے کا نہیں کریڈیٹ حاصل ہے۔ 1987میں بھی ہاشم پورا سانحہ کی جائے وقوع مراد نگر جاکر رپورٹنگ کرنے والے یہ پہلے صحافی ہیں۔ علاوہ ازیں متعدد صدور، وزیراعظم و دیگر اہم شخصیات سے انہوں نے انٹرویو لیے ہیں۔ انہوںنے کئی کتابیں تصنیف کی ہیں جن میں انگریزی میں میڈیاسے متعلق دوکتابیں شامل ہیں جو کہ جرمن زبان میں ترجمہ ہوکر جرمنی کی متعدد یونیورسٹیوں کے نصاب میں پڑھائی جاتی ہیں۔ یہ نئی دہلی میں پریس کلب آف انڈیا کے رکن بھی ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *