سپریم کورٹ کی شبیہ ملک میںسب سے زیادہ طاقتور، سب سے زیادہ انصاف پسند اور عوام کے حقوق کے واحد آخری محافظ کے طور پر بن گئی ہے۔ ہندوستان کے وہ لوگ جو دولت، ڈنڈے اور دماغ سے قوت والے ہیں، ان کے لیے سپریم کورٹ ان کے مقاصد کو پورا کرنے کا ذریعہ بن گیا ہے۔ ان دونوں شبیہوں کو دیکھنے کے بعد جب سپریم کورٹ کی اصلی تصویر پر نظر جاتی ہے، تو جی گھبرا جاتا ہے۔ کیونکہ وہاںسپریم کورٹ کا سپریم جج سرکار کے سامنے گڑگڑاتا ہے، سرکار سے انکساری، لیکن سخت الفاظ میں اپنا درد بیان کرتا ہے اور سرکار اس کا نوٹس ہی نہیں لیتی، اس پر کوئی ردعمل ہی نہیں دیتی۔ ہم اپنا درد اس لیے بیان کررہے ہیں کہ تاکہ سپریم کورٹ کو بھی سمجھ میںآئے کہ اس سے بھی کہیں اگر چوک ہوتی ہے، تب اس کے مہلک اثرات سب سے زیادہ اس ملک کے عام لوگوں کو بھگتنے پڑتے ہیں۔ عام لوگ اب بھی آخری امید کے طور پرسپریم کورٹ کی طرف ٹکٹکی لگاکر دیکھتے ہیں، ویسے ہی جیسے سورج کی طرف کوئی ننگی آنکھوں سے دیکھے۔ کم سے کم سپریم کورٹ کو چاہیے کہ وہ سورج کی طرح اس کی طرف ننگی آنکھوں سے دیکھنے والوں کو اندھا کرنے کا کام نہ کرے۔ سورج کی طرح سپریم کورٹ میںبھی جلال ہے، لیکن سپریم کورٹ کا جلال ہندوستان کے عوام کی تاریکی دور کرنے کے کام آسکتا ہے۔
سپریم کورٹ کے کئی ایسے فیصلے ہیں، جن پر سرکاریں عمل نہیں کرتی ہیں، جن پر بڑے دولت مند طبقے عمل نہیں کرتے ہیں۔ سپریم کورٹ، اپنے دیے گئے فیصلوں میںسے کتنوں پر عمل ہوا، کتنوں پر نہیں، اس کا کوئی حساب کتاب نہیں رکھتا۔ اگر وہ حساب کتاب رکھتا، تو پاتا کہ اس کے احکامات کے تعمیل نہ کرنے کا قصوروار وہی نظام ہے، جس پر سپریم کورٹ کے فیصلوں کو نافذ کرنے کی ذمہ داری ہے، چاہے وہ ریاستی سرکاریں ہوں یا مرکزی سرکار۔ اس کے بعد پھر بڑے وکیلوں کی بات آتی ہے۔ یہ بڑے وکیل صرف اس لیے ہیں کہ وہ ایک پیشی پر جانے کے پانچ لاکھ سے لے کر 75 لاکھ روپے تک محنتانہ لے سکیں۔ اگر جج ان کی بات نہ سنے، اگر جج اگلی تاریخ لگا دے، تو ان کے وہ پیسے ایمانداری کے پیسے ہو جاتے ہیں۔ اور جو عام درجہ کا آدمی اپنا گھر بار بیچ کر انھیںپیسہ دیتا ہے، جس کا مقدمہ اگر سپریم کورٹ میں ہے، تو وہ آنسو بہاتا ہوا اپنے گھر چلا جاتا ہے، اگلی پیشی پر اگلے پانچ لاکھ سے لے کر 75 لاکھ روپے تک کا انتظام کرنے کے لیے۔ سپریم کورٹ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اس ملک کے عوام کو انصاف مل سکے۔ آخری فیصلہ دینے کا حق آئین نے سپریم کورٹ کے ہاتھ میں دیا ہے۔ لیکن سپریم کورٹ نے آج تک یہ نہیںسوچا کہ اس ملک کا 95 فیصد آدمی اس کی ناک کے نیچے مقدمہ لڑنے والے بڑے وکیلوںکی فیس کیسے دے سکتا ہے؟ اگر نہیںدے سکتا، تب پھر سپریم کورٹ سے آخری فیصلہ پانے کی امید میں وہ بڑے وکیلوں کے چکر میں پھنس جاتا ہے، جہاں اقتصادی طور پر اس کی موت یقینی ہے، چاہے وہ جیتے یا پھر ہارے۔
کیا سپریم کورٹ، اپنے ذریعہ دیے گئے فیصلوں میںسے کتنے فیصلوںپر عمل سرکاروں نے کیا، اس کا کوئی حساب کتاب نہیں نکلو اسکتا؟ اور ان لوگوں پر جنھوں نے سالوں سے سپریم کورٹ کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی ہے، کیا ان پر انصاف کا ڈنڈا نہیں چلا سکتا۔ چونکہ سپریم کورٹ یہ کام نہیں کر رہا ہے، اسی لیے آج سپریم کورٹ کی ساکھ پر نہ صرف سوالیہ نشان لگ رہا ہے، بلکہ سپریم کورٹ کے سپریم جج کو گڑگڑانے والی زبان کا استعمال کرکے نظام عدل کی تکلیفوں کا ذکر کرنا پڑ رہا ہے۔
ملک کے سامنے بہت سارے ایسے سوال ہیں، جن پر سپریم کورٹ کی رائے جلد آنی چاہیے، لیکن سپریم کورٹ ان معاملات میںجلدی رائے نہیں دیتا، کیوں؟ کیا ملک کے عوام، جنھوں نے جمہوریت کے لیے اپنا سب کچھ داؤں پر لگا رکھا ہے، انھیں یہ جاننے کا حق نہیں ہے؟ اس لیے سپریم کورٹ کے فیصلوںپر یقین اور آستھا کے سوال کو لے کر ملک میںایک نئی بحث چل رہی ہے۔ کئی لوگوںکا کہنا ہے کہ یقین اور آستھا کے مسئلے پر سپریم کورٹ کو دخل نہیں دینا چاہیے۔ اس میں سب سے نئی مثال راج ٹھاکرے کی ہے، جنھوں نے سپریم کورٹ کے حکم کو نہ ماننے کا عوامی طور پر اعلان کیا۔ سرکار اسی آئیڈیا لوجی کی ہے، جس آئیڈیا لوجی کے راج ٹھاکرے ہیں۔ اس لیے سپریم کورٹ کے اعلان کی ذمہ داری کے ساتھ خلاف ورزی کرنے کی اپیل یا اعلان کرنے والے راج ٹھاکرے کے خلاف کہیں پر ایک پتہ بھی نہیں کھڑکا۔ سپریم کورٹ کے جج، جنھوں نے یہ فیصلہ دیایا سپریم کورٹ کے باقی جج جو فیصلے سے باہر تھے یا اس بینچ کے ممبر نہیں تھے، انھیں شاید اس بات پر تھوڑی شرم آرہی ہوگی کہ وہاں سے نکلنے والا فیصلہ، جو سب کا سب سپریم کورٹ کا فیصلہ مانا جاتا ہے، اسے لے کر کس طریقے سے خلاف ورزی کرنے کی اپیل کی گئی۔ ا س سے پہلے بابری مسجد، رام مندر کے سوال پر آستھا کا سوال کھڑا ہوا۔ کئی مقامات پر یہ کہا گیا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں مانیں گے، کیونکہ آستھا میں عدالت دخل نہیں دے سکتی۔ ہمارے ملک میں کئی طرح کے مذاہب ہیں، کئی طرح کی آئیڈیالوجیز ہیں، کئی طرح کی زبانیں ہیں۔ اور جب ہم دیکھتے ہیں تو سپریم کورٹ کے بہت سارے فیصلے منصفانہ معلوم نہیں پڑتے۔ لیکن ان پر کوئی سوال نہیں اٹھا سکتا، کیونکہ یہ سپریم کورٹ کے فیصلے ہیں۔ نظر ثانی کی عرضی داخل کی جاسکتی ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر آپ کے دیے گئے فیصلے کو کوئی شخص نہ ماننے کا عوامی طور پر اعلان کرے اور سرکاریں اس حکم کو نافذ ہی نہ کریں اور سپریم کورٹ اس پر کچھ نہ کرے، تو اس ملک کے عوام کس سے اپنے درد کا اظہار کریں۔
یہ بات میںاس لیے کہہ رہا ہوں کہ ہمارے ملک کے آئینی ادارے کمزور ہورہے ہیں۔ لوگوں کا اعتماد سیاستدانوں، اسمبلیوں او رپارلیمنٹ سے کمزور ہو رہا ہے۔ انھیں لگتا ہے کہ ان کے لیے لڑنے کا وعدہ کرنے والے لوگ ان کے خلاف کھڑے ہوجاتے ہیں اور ان کے مفادات کے خلاف پیسے والوں سے پیسہ لے کر ان کے مفادات کی بلی چڑھا دیتے ہیں۔ اور تب انھیں صرف سپریم کورٹ نظر آتا ہے، لیکن عوامی اہمیت کے بڑے موضوعات پر پی آئی ایل ڈالی جائے اور سپریم کورٹ کو لگے کہ اس پی آئی ایل کا کوئی مطلب نہیں ہے، تو ملک کے عوام کیا کریں۔ کسان کو فصل کے دام نہیںملتے، سرکار چپ رہتی ہے۔ اربوںٹن اناج سڑ کر تباہ ہوجاتا ہے۔ سپریم کورٹ رائے دیتا ہے، سرکار اس کی خلاف ورزی کردیتی ہے۔ سپریم کورٹ بدعنوانی کے خلاف فیصلہ دیتا ہے، سرکار اسے گھما دیتی ہے۔ اور بڑے وکیل جو انصاف کی حفاظت کے نام پر کالا کوٹ پہنتے ہیں، وہ اسی انصاف کو ناانصافی میںبدلنے کے لیے کیس لڑتے ہیں۔ عام طور پرایسا مانا جاتا ہے کہ ہمارے ملک کی جمہوریت، عاملہ، عدلیہ اور مقننہ کے بیچ محفوظ ہے۔ لیکن عدلیہ پر مقننہ اور عاملہ اپنا اعتماد کھورہی ہیں۔ عدلیہ بھی کم و بیش اعتماد کھو چکی ہے۔ یہ سچائی ہے کہ اس ملک کے عوام کا انصاف دینے والے بڑے حصے کے اوپر سے اعتماد ختم ہوگیا ہے۔ صرف سپریم کورٹ کے اوپر اس کا اعتماد بچا ہے۔ اگر سپریم کورٹ بھی اپنے فیصلوں کی حفاظت نہیں کر سکتا، نافذ نہیںکرا سکتا اور جو سرکار اسے نافذ نہ کرے اسے سزا دینا چھوڑیے، تبصرہ تک نہیں کرسکتا، توکیا سپریم کورٹ بھی رفتہ رفتہ دیگر آئینی اداروں کی طرح ناخون و دانت سے عاری ہورہا ہے یعنی کمزور ہوتا جارہا ہے ۔
اس کا ذمہ دار کون ہے؟ شاید اس کا ذمہ دار خود اس ملک کا سپریم کورٹ ہے۔ ا س کا ذمہ دار اس ملک کا نظام عدل ہے، جو اپنے لیے سیدھا اور صحیح راستہ چننا بھولتا جارہا ہے۔ سپریم کورٹ کو سرکار کو یہ ہدایت دینی چاہیے کہ وہ ایک یا دو سال میںایسا منصوبہ پیش کرے کہ اس ملک کے عام آدمی کو پانچ سال کے اندر سپریم کورٹ کا فیصلہ مل جائے۔ پورے نظام عدل کا ایسا ڈھانچہ تیار کرے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو اور کوئی بھی صرف پیسے ہونے کے دم پر سپریم کورٹ نام کی تلوار کو ناانصافی کے حق میں نہ کھڑا کر سکے۔ جو ایسا کرے، اس کے ساتھ پھر سپریم کورٹ ایک سخت خاندان کے مکھیا کی طرح سلوک کیوں نہ کرے۔ یہ سارے سوال من میں ہیں اور یہ سارے سوال آج سپریم کورٹ سے کرنے کی خواہش اس لیے ہو رہی ہے کیونکہ تھوڑے دنوں میں یہ ملک بدنظمی کی سیر گاہ بن جائے گا۔ اسے روکنے کی ذمہ داری عاملہ اور مقننہ تو نہیں نبھا رہی ہیں، عدلیہ ہی کم سے کم نبھائے۔ آپ کے کان میں ہماری یہ التجا پہنچے گی، مائی لارڈ!

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here