!بے قصور مسلم نوجوانوں کا مستقبل دائو پر

Share Article

سنتوش بھارتیہ
ہندودہشت گردی، مسلم دہشت گردی، سنگھ پریوار کی دہشت گردی یہ تینوں ہی اصطلاحیں سوامی اسیمانند کے اقبالیہ بیان کے بعد سے لگاتار سننے میں آ رہی ہیں۔ ایک اخبار نے سرخی لگائی ’’اسیما نند کے اقبالیہ بیان سے اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے والوں کا منہ کالا‘‘۔ ایک اخبار نے سرخی لگائی’’ یہ ہندو دہشت گردی نہیں سنگھ پریوار کی دہشت گردی ہے‘‘۔ ایک اخبار نے لکھا’’سوامی اسیمانند کا اقبالیہ بیان اور ہندو دہشت گردی کا چہرہ بے نقاب‘‘، غرضیکہ جتنے اخبار اتنی سرخیاں۔ سوامی اسیمانند کا مختلف بم دھماکوں میں ملوث ہونا ثابت ہونے کے بعد اہم یہ نہیں ہے کہ ہم یہ سوچیں کہ ہندو دہشت گرد ی ہے یا مسلمان۔ یہ سوچنا ہے کہ دہشت گرد نہ ہندو ہے نہ مسلمان ۔وہ انسانیت کی قتل و غارت گری کا وہ بھیانک رخ ہے جس سے نہ صرف ملک و قوم کو نقصان ہوتا ہے بلکہ گھر کے گھر تباہ وبرباد ہو جاتے ہیں۔ معصوم بچے یتیم ہو جاتے ہیں اور خوبصورت جوان دوشیزائیںبیوگی کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں۔ بات یہ اہم نہیں ہے کہ کون پکڑا گیا، اہم یہ ہے کہ جو پکڑا گیا وہ معصوم اور بے گناہ تو نہیں ہے۔ اسی لئے مکہ مسجد، مالیگائوں، سمجھوتہ ایکسپریس اور اجمیر شریف درگاہ میں دھماکہ کے بعد جن مسلم نوجوانوں کو بے گناہ پکڑ کر بند کر دیا گیا ، ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کا مستقبل بچایا جائے اور تاریخ پہ تاریخ والی روایت کو ختم کر کے فوری طور پر ان مسلم نوجوانوں کی رہائی کا انتظام ہو ۔ ممبئی میں تقریباً پچاس مسلم تنظیموں نے جس طرح ریلی نکالی اور اس میں ممبئی کے تاریخی آزاد میدان میں چلچلاتی دھوپ میں ہزاروں کی تعداد میں مسلمانوں نے اکٹھا ہو کر صدائے احتجاج بلند کیا وہ ایک اچھی کوشش ہے۔ اس کے علاوہ جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی اور ابو عاصم اعظمی وغیرہ نے بھی مسلم نوجوانوں کو رہا کرنے کی مانگ کی ہے۔ یہاں اہم بات یہ بھی ہے کہ اسیمانند کے اقبالیہ بیان اور اعتراف جرم کے بعد ان نوجوانوں کی رہائی کا فوراً انتظام کیوں نہیں کیا جا رہاہے۔اس معاملہ میں حکومت کو براہ راست ملزمین کو رہاکئے جانے کے لئے عدالت میں درخواست دینی چاہئے۔ مسلم تنظیموں اور مسلم رہنمائوں کو چاہئے کہ وہ مشتعل کرنے والے بیانات دینے اور گمراہ کرنے والے خیالات کا اظہار کرنے سے پرہیز کریں اور مسلم نوجوانوں کو حوصلہ دیں کیونکہ کافی عرصہ سے مسلم نوجوانوں میں ایک بے یقینی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ وہ داڑھی رکھنے سے پرہیز کرنے لگے ہیں ،گھر سے اگر کوئی نوجوان پٹھانی کوٹ یا کرتا پائجامہ پہن کر نکلنے لگتا ہے تو ماں باپ اس کو فوراً کپڑے تبدیل کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ایک مزاج سا بن گیا ہے پولس کا بھی اور سیکورٹی کا بھی کہ وہ مسلم نوجوان دیکھ کر ہی اس کو روک لیتے ہیں اور پھر اس کو تلاشی کے نام پر بے عزت کرتے ہیں۔اقلیتوں کو چاروں طرف سے ذلیل و خوار کیا جاتا ہے اور ان پر بے بنیاد الزام لگا کر انہیںجیلوں میں ٹھونس دیا جاتا ہے۔ یہ شاید 20فروری 1998کی بات ہے جب ایک مسلم نوجوان محمد عامر خان جو کہ اپنے گھر سے عشاء کی نماز پڑھ کر نکل رہا تھا ، اس کو پرانی دہلی کے علاقہ سے پولس نے اٹھا لیا اور اس پر 1996-97کے سیریل بلاسٹ کا الزام لگا کر جیل میں بند کر دیا ۔1998سے 2006تک وہ تہاڑ جیل میں رہا اور جب 2006 میں اس کو بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیا جانا تھا تب اس سے کہا گیا کہ فرنٹیئر میل دھماکہ میں یو پی پولس نے اسے مجرم قرار دیا ہے، جو 10جنوری 1991میں ہوا تھا۔یہ سب سن کر اور پڑھ کر بالکل ایسا لگ رہا ہے جیسے پولس اس کا انتظار ہی کررہی ہوکہ کب کوئی ایسا لڑکا ملے جس کا کوئی نہ ہو اور جو اپنے بچائو کا انتظام بھی نہ کر سکے، اس کو کسی نہ کسی طرح پھنسالیا جائے۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ 19جون 2001کو غازی آباد کی ڈاسنہ جیل میں شکیل نامی نوجوان کی لاش ملی تھی جس کو 1996میں فرنٹیئر میل بم دھماکہ کا مجرم قرار دے کر جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ جس کی لاش اس کے سیل میں پنکھے سے لٹکی ہوئی پائی گئی تھی جبکہ اس کو زہر دے کر مارا گیا تھا۔ اسی طرح حیدر آباد کے ایک 22سالہ مسلم نوجوان محتشم بلال ،جو کہ انجینئر تھا، کو پانچ مارچ 2008کو گرفتار کیا گیا تھا۔ یہ تو کچھ نام ہیں مگر اسی طرح نہ جانے کتنے ہی نوجوان ہیں جن کو حیدر آباد، اعظم گڑھ، دہلی اور دوسرے شہروں سے بنا کسی وجہ کے پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیا گیا ہے۔ کیا ان نوجوانوں کے گھر خاندان اور اس سے وابستہ افراد کی ذہنی کیفیت کا اندازہ کوئی لگا سکتا ہے کہ جس کے بچے کو دہشت گرد کہہ کر جیل میں ڈال دیا جائے اور اس کی کوئی سنوائی نہ ہو۔ اسی طرح سنیل جوشی کے قتل کے بعد دیواسی میںر ہنے والے بلوے میں رشید شاہ کو 2007میں ان کے گھر میں گھس کر قتل کر دیا گیاتھا۔ جب ان کا بیٹا جلیل ان کو بچانے آیا تو اس کو بھی زندہ جلا دیا۔ دوسرے بھائی کے پیر میں گولی مار دی۔ اور جب فسادی ایک اور بھائی کی معصوم بچی کو جلا کر مارنے کی کوشش کر رہے تھے تو اس بچی کے باپ نے اسے بڑی مشکل سے بچاتو لیا مگر خود ذہنی توازن کھو بیٹھا۔ لطیف شاہ جو اس خاندان کا بچنے والا بدنصیب شخص تھا اس کا کہنا ہے کہ نہ تو ہم سنیل جوشی کو جانتے تھے اور نہ ہی ہمارا اس سے کوئی رابطہ تھا مگر فسادیوں نے بے رحمانہ طور پر میرے پورے گھر کو ختم کر دیا اور اس کے بعد کوئی سنوائی بھی نہیں ہے اور ابھی بھی ہمیں ڈرا دھمکا کر رکھا جاتا ہے۔ لطیف شاہ کا کہنا ہے کہ کوئی وکیل ہماری پیروی کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ہماری لڑائی لڑنے کے لئے ایک سینئر وکیل سدھارتھ ملکار آگے آئے ہیں، یہ سب تو وہ مشہور کیس ہیں جو سامنے آ گئے ہیں مگر جن غریب لڑکوں کو سڑک سے پکڑ لیا گیا ، جن کے ماں باپ غریب ہیں اور سماج کے خوف سے بھی کوئی قدم نہیں اٹھاتے، عبد الکلیم نام کا 21سالہ نوجوان جس کا نام اسیما نند کے اقبال جرم سے کافی مشہور ہوا ہے۔ اس کو بھی پہلے کوئی نہیں جانتا تھا وہ غریب بھی 2007میں مکہ مسجد بلاسٹ میں پکڑا گیا تھا مگر جیسا کہ اس کا کہنا ہے کہ اس کے حسن اخلاق نے اسیما نند کو اعتراف جرم پر مجبور کر دیا ، بہت ہی تعجب خیز لگتا ہے کیونکہ جس شخص نے اتنے بڑے بڑے بلاسٹ کئے ہوں اور بدنام زمانہ گروہ کا حصہ ہو۔ وہ ایک نوجوان کی باتوں میں آ کر اقبال جرم کرلے یہ بات ہضم نہیں ہوتی، بلکہ غیر منطقی لگتی ہے ، کئی بار ایسا لگتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی سازش یا کوئی سوچی سمجھی اسکیم تو نہیں ہے۔ خیر جو بھی ہے یہ بات سمجھ لینی چاہئے کہ مسلم نوجوانوں کو صرف شک کی بنیاد پر مجرم بنا کر جیلوں میں بند کر رکھا ہے ہم سب کو مل کر ان کی رہائی کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ ان کا مستقبل خراب ہونے سے بچ جائے۔

سنتوش بھارتیہ

Editor-in-cheif at Chauthi Duniya
سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔
Share Article

سنتوش بھارتیہ

سنتوش بھارتی’چوتھی دنیا‘ کے مدیر اعلی ہیں۔ہندی صحافت میں ان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں ان کا شمار ہندوستان کے 10معروف صحافیوں میں کیا جاتا ہے۔ وہ ایسے مدبر اور مفکر ہیں جوتبدیلی میں یقین رکھتے ہیں۔1986میں جب انھوں نے چوتھی دنیا کا آغاز کیا تھا، تب انھوں نے صحافت کو مکمل طور پر نئے معنی دیئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *