انفارمیشن ٹیکنالوجی نے گائوں کی کایا پلٹ دی

Share Article

نوین چوہان 
p-12bہندوستان گاؤوں کا ملک ہے۔ گاندھی جی نے کہا تھا کہ جب تک گاؤں نہیں بدلے گا ، تب تک ملک نہیں بدلے گا۔ گزشتہ ایک دہائی میں ہندوستان نے اطلاعاتی شعبے میں بہت ترقی حاصل کی ہے۔ بنگلور، حیدر آباد جیسے شہروں کی پوری دنیا میں جو شناخت بنی ہے، وہ انفارمیشن ریوالیوشن کی وجہ سے ہی بنی ہے۔ سرکار لوگوں کو انفارمیشنٹیکنالوجی کا فائدہ دینے کے لیے بہت سے پر وگرام چلا رہی ہے، جن کے ذریعے سرکاری سہولیات کا فائدہ دیہی علاقے کے لوگوں کو بھی پہنچ سکے۔ لیکن سرکار نے لوگوں کو اس انفارمیشن ریوالیوشن سے جوڑنے کے لیے اب تک جو بھی قدم اٹھائے ہیں، ان سے گاؤں میں رہنے والے لوگوں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، نہ ہی ان کے رہن سہن کے معیار میں کوئی تبدیلی آئی۔ لیکن راجستھان کے شیخاوٹی علاقے میں سرکار کی کوششوں سے الگ ’مرارکا فاؤنڈیشن‘ نے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ذریعے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لانے کے لیے دو سال پہلے تجرباتی طور پر کچھ پروگرام شروع کیے تھے، جن کی ابتدائی کامیابی کو دیکھتے ہوئے ان کو وسعت بھی دی گئی تھی۔ مرارکا فاؤنڈیشن نے تعلیم میں سدھار لانے اور عورت کو بااختیار بنانے کے لیے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال کیا ۔ شیخاوٹی میں ان دونوں شعبوں میں اصلاح کے وسیع امکان تھے۔ ان دونوں شعبوں میں کام کرکے دیہی علاقوں کے طلبا و طالبات اور خواتین کی زندگی میں اہم تبدیلی لائی جاسکتی تھی۔ مرارکا فاؤنڈیشن نے شیخاوٹی کے دیہی علاقوں میں تعلیم پارہے طلبا و طالبات کو’ آن لائن‘ ایجوکیشن سے متعارف کرایا اور انھیں شہری طلبا وطالبات کے برابر لا کھڑا کیا۔ فاؤنڈیشن کی کوششوں کے نتائج بھی سامنے آنے لگے ہیں۔ یہاں کے طلبا و طالبات نت نئی کامیابی کی کہانیاں لکھ رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی دیہی علاقے میں پردے میں رہنے والی راجپوت عورتیں فاؤنڈیشن کے ذریعے چلائے گئے ’ویر بالا پروگرام‘ کی مدد سے گاؤں اور گھر میں رہتے ہوئے، اپنی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے خود کو کمپیوٹر ایجوکیشن کے ذریعے مضبوط بنا رہی ہیں۔اسی طرح سماج کے لوگوں کو دنیا کے مختلف رنگوں سے متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ بھارت اور انڈیا کے فرق کو پاٹنے کے لیے ای۔ لائبریری کی شروعا ت بھی کی ہے۔
آن لائن ایجوکیشن پروگرام
بہتر تعلیم پانے اور آگے بڑھنے پر کسی کی اجادارہ داری نہیں ہے۔ وسائل کی کمی یا اس کی فراہمی ہی تعلیمی معیار کو اچھا یا برا بناتی ہے۔ تعلیم کی نئی تکنیک، نئے نصاب، نئی سوچ او عالمی سطح پر تیزی سے آرہے مواصلاتی انقلاب میں تبدیلی، تعلیم کا جدید ماحول، جدید مشینیں اور نہ جانے کتنے مواقع فراہم کرنے والے وسائل گرامین بھارت کی رسائی سے کوسوں دور ہیں۔ ایسے میں دیہی علاقوں میں پڑھنے والے زیادہ تر ہوشیار طلبا، مقابلے کے اس دور میں شہری طلبا سے پیچھے رہ جاتے ہیں۔ دیہی علاقوں کے چنندہ طلبا کو ہی شہروں میں جاکر جدید تعلیم کے وسائل سے روبرو ہونے کا موقع ملتا ہے۔ اس کے لیے بھی انھیں موٹی فیس ادا کرنی ہوتی ہے۔ بیسک تعلیم میں اور کانسپٹ میں کلیئرٹی نہ ہونے کی وجہ سے انھیں وہاں بھی متوقع کامیابی نہیں مل پاتی ہے۔ اس طرح ہر سال دیہی علاقوں کے ہزاروں نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہوجاتا ہے۔ مہانگروں میں بڑی بڑی کوچنگ کلاس میں پڑھانے والے اساتذہ کو گاؤوں تک لانا آسان نہیں ہے، لیکن تکنیک اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے مرارکا فاؤنڈیشن نے یہ کام کر دکھایا ہے۔
مرارکا فاؤنڈیشن نے2011میں راجستھان کے شیخاوٹی علاقے کے سیکر ضلع کے بیری گاؤں سے آن لائن ایجوکیشن کی شروعات کی۔ بیری کا کیریئر سینئر سیکنڈری اسکول اس تجربہ کے لیے پہلی تجربہ گاہ بنا۔ یہاں سب سے پہلے ان طلبہ کا اندراج کیا گیا، جو آگے چل کر انجینئرنگ اور میڈیکل کے شعبے میں اپنا کریئر بنانا چاہتے تھے۔ اس کے ساتھ ہی دسویں اور بارہویں کا امتحان دے رہے طلبہ کو بھی اس میں شامل کیا گیا۔ انھیں انجینئرنگ اور میڈیکل کے داخلہ امتحان سے متعلق مضامین کی ویڈیو اور آڈیو ٹیوٹوریل، اسٹڈی میٹریل اور گزشتہ سالوں کے امتحان کے پرچے حل کراکے دیے گئے۔ روایتی تعلیمی نظام سے الگ اس دلچسپ تکنیک نے طلبہ کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ آج تین سال بعد اس پروگرام میں 9000سے زیادہ طلبہ جڑ چکے ہیں۔ اس سال اس پرگرام میں جڑے 241بچوں نے 85سے 100فیصد کے بیچ نمبر حاصل کیے۔ 603طلبہ نے 80سے 85فیصد کے درمیان نمبر حاصل کیے ہیں۔ اس پروگرام کی کامیابی کی کہانی یہیں پر ہی ختم نہیں ہوتی ہے۔ اس سال 2013میں ہوئے آئی آئی ٹی کے انٹرینسٹیسٹ میں 103طلبہ شریک ہوئے، اس میں سے 15طلبہ آئی آئی ٹی میں داخلہ پانے میں کامیاب ہوئے، جس میں 5طالبات بھی شامل ہیں۔ اسی طرح این ای ای ٹی کے امتحان میں 7اسٹوڈنٹس نے منتخب ہو کر شیخاوٹی کی ترقی میں ایک نیا باب شروع کر دیا۔مرارکا فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر مکیش گپتا نے پروگرام کی کامیابی پرخوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم چاہتے تھے کہ دیہی علاقے کے بچوں کو بھی موقع ملے، تاکہ وہ مقابلہ جاتی امتحانات میں مقابلہ کر سکیں۔ انھیں ایسا نہ لگے کہ وہ گاؤوں میں رہنے کہ وجہ سے پچھڑے ہوئے ہیں۔ یہ خوشی کی بات ہے کہ بچوں نے اس غیر روایتی طریقے کو بڑے جوش و خروش سے اپنایا، آج اس پروگرام کی کامیابی کا کریڈٹ بھی انہی کو جاتا ہے۔ مرارکا فاؤنڈیشن کے چیئر مین کمل مرارکا نے پروگرام کی کامیابی پر خوشی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گاؤوں کے بچوں کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھ کر وہ بہت خوشی محسوس کرتے ہیں۔ اس طرح کے پروگراموں سے ملک کے ہر بچے کو یکساں تعلیم حاصل کرنے اور ترقی کرنے کے یکساں مواقع ملیں گے، انھوں نے کہا کہ تکنیک بڑے سے بڑے فرق کو پاٹ دیتی ہے۔
انفارمیشنٹیکنالوجی کسی بھی شعبے کو بڑے ہی مؤثر طریقے سے کایا کلپ کر سکتی ہے ۔ شیخاوٹی میں چل رہا آن لائن ایجوکیشن پروگرام اس کی مثال ہے۔ یہاں انفارمیشن تکنیک کی وجہ سے تعلیمی میدان میں جو انقلاب آیا ہے، اس کے بارے میں دو سال پہلے کسی نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ سال در سال آن لائن ایجوکیشن پروگرام کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کامیاب طلبہ کی تعداد میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ بیری کے کریئر اسکول سے شروع ہوا یہ پروگرام آج 40 اسکول تک پہنچ چکا ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ کامیابی کے نت نئیریکارڈ توڑ رہا ہے۔ آج شیخاوٹی علاقے کا ہر بچہ اپنے مستقبل کو زیادہ محفوظ سمجھنے لگا ہے۔گاؤوں میں واقع ان اسکولوںمیں بھلے ہی اسمارٹ کلاسیز نہ ہوں، لیکن ان کے پاس جدید تعلیم کا اسمارٹ طریقہ ہے اور یہ ان کیخوابوں کو تعبیر دینے کے لیے کافی ہے، ان کو پر لگا کر اڑنے کے لیے یہ آن لائن ایجوکیشن پروگرام بہت ہی اچھا ہے۔
ویر بالا پروگرام
دنیا بھر میں راجستھان اپنے فن ثقافت اور روایت کے لیے جانا جاتا ہے، لیکن یہاں کی ثقافت میں شامل پردے کا رواج خواتین کی ترقی میں رکاوٹ رہا ہے۔ پڑھائی لکھائی پوری کرنے کے بعد بھی یہاں کی عورتوں کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ دیہی خواتین کی صورتحال سدھارنے، انھیں خود مختار بنانے اور خود کفیل بنانے کے مقصد سے مرارکا فاؤنڈیشن نے 2009میں دیہات میں رہنے والی خواتین کو جدید کمپیوٹر تعلیم سے جوڑ کر’ویر بالا پروتساہن پروجیکٹ‘ شروع کیا تھا، جس کے ذریعے دیہی خواتین کو مفت کمپیوٹر تعلیم دی گئی۔ اس کے ساتھ ہی خواتین کو کسان کال سینٹر کی بھی ٹریننگ دی گئی۔ اس کی وجہ سے آج دیہی خواتین اپنے گھر پر رہ کر ڈاٹا اینٹری اور کال سینٹر کا کام کر کے خود کفیل ہو رہی ہیں۔ موجودہ وقت میں جھن جھنو، سیکر اور جھالابار ضلع کے 2042کسان اس کال سینٹر سے جڑے ہوئے ہیں، جنھیں ویر بالائیں مقامی زبان میں آرگینک کھیتی سے متعلق تمام معلومات فراہم کررہی ہیں۔
ویر بالا کال سینٹر میں کام کرنے والی عورتوں کو آرگینک کھیتی کر رہے کسانوں کو صلاح دینے اور ان کے مسائل کو حل کرنے کی ٹریننگ دی جاتی ہے۔ کال سینٹر کے ذریعے کسانوں کے کھیت پر بنائے جانے والے آرگینک ایکسچینج، دوائیاں، فصلوں میں آنے والے مسائل کی جانکاری، مسائل کی تشخیص، مردا سدھار، کھیت ، فصل، ایریا اور بیج کے بارے میں معلومات فراہم کی جاتی ہے اور کال کا پورا ریکارڈویربالاؤں کے ذریعے رکھا جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کھیت میں مویشی پالن اور دیگر سرگرمیوں کی جانکاری دی جاتی ہے۔ اس پروگرام کے تحت کام کر رہی ویر بالاؤں کا کہنا ہے کہ ہم نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ہمیں کبھی کمپیوٹر سیکھنے کا موقع ملے گا۔ویر بالاؤں نے اپنی کوششوں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ گھونگھٹ کسی کی ترقی میں رکاوٹ نہیں بن سکتا۔ شیخاوٹی کی ان عورتوں کو اپنی روایت پر ناز ہے،اور ان کی کامیابی ہندوستان کی ہر عورت کو یہ پیغام دیتی ہے کہ جن کو کچھ کرنا ہوتا ہے، ان کے لیے مشکلات کوئی معنی نہیں رکھتیں اور پردے اور گھونگھٹ میں رہ کر بھی خواتین ترقی کی منازل طے کراسکتی ہیں۔
ای۔لائبریری
اس سال نول گڑھ کے نئے تعمیر ہوئے نگر پالیکا بھون میں ای۔لائبریری کا قیام کیا گیا ہے۔ اس لائبریری کا استعمال آن لائن ایجوکیشن سے جڑے اسٹوڈنٹس کے علاوہ عام باشندے بھی کر سکتے ہیں۔ اس لائبریری میں مختلف موضوعات کی الیکٹرانک کتابوں اور مختلف موضاعات سے متعلق ڈاکیومینٹریوں کا ذخیرہ ہے۔ یہاں عام آدمی اور طلبہ اس ذخیرے کا استعمال کر رہے ہیں۔ یہاں ہر عمر، ہر طبقہ کے لوگوں اور دلچسپی کے مطابق کتابیں اور ویڈیو دستیاب ہیں۔ مثال کے طور پر بزرگوں کے لیے یوگا اور روحانیت سے متعلق کتابیں اور ویڈیو، عورتوں کے لیے کھانا بنانے کی ریسپی، بچوںکے لیے کہانیاں، ویدک ریاضی وغیرہ۔ اس لائبریری کی مدد سے بچوں اور عام لوگوں نے کمپیوٹر آپریٹ کرنا بھی سیکھا ہے۔

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *