مہنگائی نے چھین لئے روشن مستقبل کے سپنے

Share Article

آدتیہ پوجن
آزادی کی63ویں سالگرہ منانے والا ہندوستان کیا حقیقت میں آزاد ہے؟ امسال 15؍اگست کو قوم کے نام وزیر اعظم کے بیان کو سننے کے بعد یہی لگتا ہے کہ ہمارا ملک ترقیات کی منازل اگرچہ طے کررہا ہے، لیکن ہم ابھی بھی ہر طرح کی بندشوں کے ساتھ جینے پر مجبور ہیں۔ کشمیر کا مسئلہ جوں کا توں بنا ہوا ہے۔ نکسل ازم رفتہ رفتہ پورے ملک میں اپنے پیر پھیلارہا ہے۔اقتصادی خوفناکیوں سے سماجی تانے بانے کے بکھرنے کا خطرہ اب بھی موجود ہے اورسب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ بڑھتی مہنگائی نے سماج کے سامنے فاقہ کشی کے حالات پیدا کردئے ہیں۔ قوم کے نام اپنے بیان میں وزیر اعظم نے ان تمام مسائل کے خلاف سخت قدم اٹھانے کی یقین دہانی ضرور کرائی، لیکن ایسی یقین دہانی تو ہم سالوں سے سنتے آرہے ہیں۔ کمر توڑ مہنگائی سے غریبوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنا مسلسل دوبھر ہوتا جارہا ہے اور ہم یوم آزادی کے موقع پر پرچم لہرا کر یہ سمجھ لیتے ہیں کہ ہم نے اپنی ذمہ داریاں پوری کردیں۔
32سالہ دلیپ منڈل دہلی کے منگول پوری کے علاقے میں ایک جھگی جھونپڑی کالونی میں رہتا ہے۔ آبائی طورپر بہار کے پورنیہ ضلع کا باشندہ دلیپ گزشتہ سات سالوں سے راجدھانی میں رہ کر اپنا اور اپنے خا ندان کا پیٹ پال رہا ہے۔ وہ ایک ایکسپورٹ ہاؤس میں سیکورٹی گارڈ ہے۔ محض3500روپے ماہانہ تنخواہ کے سہارے وہ اپنے، اپنی بیوی اور پانچ بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا انتظام کرتا ہے۔ حالانکہ اتنے پیسوں میں وہ دو سال پہلے تک بڑے مزے سے اپنی زندگی گزار رہا تھا۔ بچے اور بیوی بھی اس کے ساتھ ہی رہتے تھے۔ بیوی آس پاس کے گھروں میں کام کرکے تھوڑا بہت کما لیتی تھی اور بچے ایک اسکول میں پڑھنے جاتے تھے۔ دن بھرکی سخت محنت کے بعد دلیپ جب شام کو گھر لوٹتا تو بچوں کے ہنستے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر اس کی ساری تھکان دور ہوجاتی تھی، لیکن سرسا پرندے کے منہ کی طرح بڑھتی مہنگائی نے اس کی خوشحال زندگی میں بریک لگادئے۔ روزمرہ کی ضر ورت کی چیزوں کی بڑھتی قیمتوں سے بے حال دلیپ نے پہلے تو بچوں کا اسکول جانا بند کرایا اور پھر اپنے کنبہ کو گاؤں بھیج دیا۔ اب وہاں جاکر اس کے بچے پڑھتے نہیں، بیوی کھیتوں میں مزدوری کرتی ہے اور وہ یہاں تنہا رہنے پر مجبور ہیں۔ زندگی کے تعلق سے اس کے تمام خواب چکنا چور ہوچکے ہیں۔روٹی ، کپڑا اور مکان کی بنیادی ضرورتوں کا خرچ گزشتہ دوسالوں میں تقریباً دوگنا ہوچکا ہے، لیکن آمدنی نہیں بڑھی۔ دلیپ اپنے بچوں کو پڑھانا لکھانا چاہتا ہے، تاکہ وہ بڑے ہوکر اپنے پیروں پر کھڑے ہوسکیں، لیکن وہ کرے بھی تو کیا؟حکومت کی پالیسیوں میں غریبوں کا ذکر ضرور ہوتا ہے، لیکن محض ذکر کرنے سے کسی کا پیٹ نہیں بھرتا۔
ملک کی راجدھانی دہلی کو آج چھوٹا ہندوستان کہا جاتا ہے، کیوںکہ پورے ملک کے لوگ یہاں رہتے ہیں۔ غریبی اوربے روزگاری سے بے حال لوگوں کے لئے دہلی آخری سہارا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دو سے تین لاکھ لوگ روزی روٹی کی تلاش میں راجدھانی آتے ہیں اور یہیں کے ہوکر رہ جاتے ہیں۔ راجدھانی کی کل آبادی کا تقریباً40فیصدانہی پردیسیوں کاہے ،جو روشن مستقبل کا سپنا لئے اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آتے ہیں، لیکن دہلی کی یہ پردیسیوں کی آبادی بڑھتی مہنگائی سے ہلکان ہے۔ دہلی کے اصل باشندوں کے مقابلے میں ان کی ذمہ داریاں زیادہ ہیں اور مسائل بھی، لیکن زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی بڑھتی قیمتوں سے آبادی کے اس طبقے کے لئے مشکلیں مسلسل بڑھتی جارہی ہیں۔ اتر پردیش کے بلیا ضلع سے آئے سریندر کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اضافہ کی وجہ سے جینا دوبھر ہوچکا ہے۔ حکومت ہمیں دلاسہ اور یقین دہانی توکراتی ہے، لیکن جب بچہ دودھ کے لئے روتا ہے، تو ساری باتیں بھدا مذاق لگنے لگتی ہیں۔
بہار کے ہی مدھوبنی ضلع کا باشندہ آشانند بھی پانچ سالوں سے دہلی میں قیام پذیر ہے۔ وہ کپڑوں پر کڑھائی کا کام کرتا ہے۔ قریب ایک سال پہلے تک اس کے پاس ایک درجن مشینیں تھیں، اچھی خاصی کمائی ہوجاتی تھی، لیکن آج حالت یہ ہے کہ اس کے پاس صرف ایک مشین بچی ہے۔ مہنگائی کی وجہ سے جب ضرورت کی چیزوں کے لئے پیسے کم پڑنے لگے تو وہ ایک ایک کرکے ساری مشینیں فروخت کرنے پر مجبور ہوگیا۔اب وہ اکیلے دن بھر اپنی ایک مشین پر لگا رہتا ہے اور کسی طرح اپنا اور چار بچوں کا پیٹ بھرتا ہے۔ آشانند بتاتا ہے کہ پہلے اتنی کمائی ہوجاتی تھی کہ روزانہ کی ضرورتیں آسانی سے پوری ہوجاتی تھیں اور کبھی کبھی فیملی کے ساتھ سیر وتفریح بھی ہوجایا کرتی تھی، لیکن اب تو حالت یہ ہے کہ اسکول کی فیس دینے کے لئے بھی سوچنا پڑتا ہے۔ کمائی کم ہوتی جارہی ہے اور مہنگائی بڑھتی جارہی ہے ۔ سوال یہ ہے کہ ہم جیسے غریب جائیں تو کہاں جائیں، کیا کریں۔ اپنا گھر بار چھوڑ کر اس امید کے ساتھ دہلی آئے تھے کہ زندگی آرام سے کٹ جائے گی، بچوں کی پڑھائی لکھائی بھی ہوجائے گی، لیکن بڑھتی مہنگائی نے ہمارے مستقبل کو تاریک کردیا ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ مہنگائی نے پورے ملک میں غریبوں کا جینا محال کردیا ہے، لیکن راجدھانی کی اس غیرمقیم آبادی کے سامنے مشکلیں کچھ زیادہ ہیں۔ گھر سے ہزاروں کلو میٹر دور رہ کر جینے پر مجبور ان لوگوں کا ماہانہ خرچ کم ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ گھر کا کرایہ، کھانے پینے کا سامان اور بچوںکی پڑھائی لکھائی وغیرہ ایسے اخراجات ہیں جن میں کمی نہیں کی جاسکتی۔ دہل میں کاسٹ آف لیونگ جس طرح لگاتار بڑھتی جارہی ہے، اس سے ان کے سامنے فاقہ کشی کے حالات پیدا ہورہے ہیں،لیکن نہ تو حکومت اور نہ ہی رضاکار تنظیموں کو اس کی کوئی فکر ہے۔ سرکاری گوداموں میں رکھا غلہ سڑرہا ہے، اسے جلایا جارہا ہے، لیکن ہمارے وزیر زراعت اسے غریبوں کے درمیان تقسیم کرنے سے انکار کرتے ہیں۔ غریب جائیں تو کہاں جائیں؟ حکومت کی پالیسیاں متوسط اور اونچے طبقے کو مد نظر رکھ کربنائی جاتی ہیں۔ دولت مشترکہ کھیلوں کے انعقاد کے لئے ہزاروں کروڑ روپے خرچ کئے جارہے ہیں، لیکن پردیسیوںکی زندگی آسان بنانے کے لئے کچھ بھی نہیں کیا جارہا ہے۔ یہ حالت تب ہے جب کہ بہار جھارکھنڈ، اتر پردیش اور اڑیسہ جیسی ریاستوں سے آنے والے غیرمقیم دہلی کی سماجی اور اقتصادی ترقی میں اہم رول اداکرتے ہیں۔ فیکٹریوں میں مزدوری کرکے، سڑکوں پر رکشا ، آٹو رکشا اور چھوٹی موٹی دکان چلاکر کسی طرح اپنی زندگی گزار نے والے ان لوگوں کا مستقبل ویسے ہی غیر یقینی کے بھنور میں الجھا ہوا ہے، رہی سہی کسر مہنگائی نے پوری کردی ہے۔ دہلی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاںہر طرح کی آمدنی والے لوگوں کے لئے رہنے کی گنجائش ہے، لیکن اب یہ تاثرغلط ثابت ہورہا ہے۔ آج ان سب کی زبان پر ایک ہی سوال ہے، آخر جائیں تو جائیں کہاں؟

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *