ڈاکٹر قمر تبریز
کہتےہیں کہ مہذب معاشرے میں ایک گنہگار کو بھی سدھرنے کا موقع دیا جانا چاہیے۔ لیکن گزشتہ دنوں سری لنکا کی فوج نے ایل ٹی ٹی ای چیف پربھاکرن کے 12 سالہ بیٹے بالا چندرن کو جس طرح ہلاک کردیا، اس نے ہندوستان سمیت پوری دنیا میں، جنگی جرائم کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اس بحث کے شروع ہونے کی وجہ امریکی حمایت سے اقوامِ متحدہ کی حقوقِ انسانی کونسل میں پیش کی گئی وہ قرار داد ہے، جس کے تحت اس بات کی کوشش کی گئی ہے کہ بین الاقوامی برادری سری لنکا میںدہشت گرد گروپ تمل ٹائیگرس کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی کے بعد کی صورتِ حال پر اپنی توجہ مرکوز کرے۔ اس قرارداد کو امریکہ، فرانس اور ناروے کی طرف سے اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں 21 یا 22 مارچ کو پیش کرنے کی امید ہے، جس پر 23 مارچ کو ووٹنگ ہو سکتی ہے۔ قرارداد کے ذریعے حکومت سری لنکا پر یہ الزام لگانے کی کوشش کی گئی ہے کہ وہ ایل ٹی ٹی ای سے جنگ کے خاتمہ کے بعد بھی فوج کے ذریعے تملوں کا قتل عام کرا رہی ہے، اور اس کی ذمہ داری اپنے سر نہیں لے رہی ہے۔ دوسری جانب یہ ایک حقیقت ہے کہ حکومت ہند سری لنکا سے تمل ٹائیگرس کے خاتمہ کے بعد، اس ملک میں تمل برادری کی باز آبادکاری میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہی ہے، تمل اکثریتی علاقوں میں اسکول، کالج اور اسپتال کھولے جا رہے ہیں، جنگ میں جن تملوں کے گھر برباد ہوئے اُن کے لیے نئے گھر بنائے جا رہے ہیں ، برباد ہو چکے ان کے کھیتوں کو دوبارہ قابل کاشت بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس کے لیے ہندوستان کی طرف سے ٹریکٹر، کھاد، بیج وغیرہ زرعی سامان مہیا کرائے جا رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ہندوستان نے سری لنکا کی حکومت پر مسلسل یہ دباؤ بنائے رکھا ہے کہ وہاں کے نظامِ حکومت میں تملوں کو بھی برابر کی حصہ داری دی جانی چاہیے۔ لیکن ہندوستان کی موجودہ یو پی اے حکومت کے لیے مشکل اُس وقت پیدا ہوگئی، جب گزشتہ دنوں راجیہ سبھا میں اے آئی اے ڈی ایم کے اور ڈی ایم کے کے ممبرانِ پارلیمنٹ نے ہنگامہ برپا کردیا اور حکومت ہند پر دباؤ بنانے کی کوشش کی کہ وہ اس قرارداد کی حمایت کرے۔ حالانکہ ہندوستانی حکومت اب تک یہ کہتے ہوئے بچتی رہی ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی حقوق انسانی کونسل میں کسی مخصوص ملک سے متعلق قرارداد پر ووٹ نہ ڈالنے کی روایت پر عمل کرتی رہی ہے، البتہ تملوں کے اس معاملے میں وہ کوئی بھی فیصلہ تمام حقائق کو دیکھ لینے کے بعد ہی کرے گی۔ لیکن تمل ناڈو کے ممبرانِ پارلیمنٹ کی طرف سے یو پی اے حکومت پر جس طرح دباؤ بنایا جا رہا ہے، اسے دیکھ کر تو یہ نہیں لگتا کہ ہندوستان ایسے معاملوں میں ووٹ نہ ڈالنے کی اپنی پرانی روایت پر قائم رہ پائے گا۔
اس پورے معاملے کا اگر گہرائی سے جائزہ لیا جائے، تو پتہ چلتا ہے کہ امریکہ اور یوروپ کے اس کے دیگر حلیف ممالک نے ایشیائی خطہ میں ہمیشہ کسی نہ کسی بہانے دخل اندازی کرنے کی کوشش کی ہے۔ پربھاکرن کے بیٹے کی ہلاکت کا یہ فوٹیج مغربی ممالک کے ذریعے دکھاکر نہ صرف عالمی پیمانے پر سری لنکا کو گھیرنے کی کوشش کی گئی ہے، بلکہ ہندوستان کے ساتھ اس کے تیزی سے بہتر ہوتے تعلقات میں بھی کڑواہٹ پیدا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ تملوں کی ایک بڑی آبادی جنوبی ہندوستان میں آباد ہے۔ ایسے میں سری لنکا کی تمل برادری سے ان کی ہمدردی میں کسی کو بھی شک نہیں ہونا چاہیے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ماضی میں ایل ٹی ٹی ای کے تعلق سے ہندوستان کی خارجہ پالیسی میں زیادہ سختی نہیں پائی جاتی تھی۔ لیکن تمل ٹائیگرس نے جس طرح سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کا قتل کرا دیا اور جس طرح ہندوستان سے سری لنکا میں بھیجے گئے امن سلامتی دستے پر ایل ٹی ٹی ای کی طرف سے حملے ہوئے، اس کے بعد تمل ٹائیگرس کے تئیں ہندوستانی پالیسی بھی سخت سے سخت تر ہوتی چلی گئی اور یہ ہندوستانی تعاون کا ہی نتیجہ تھا کہ سری لنکا کی حکومت ایل ٹی ٹی ای سے نجات پانے میں کامیاب ہو سکی۔ اب اگر دہشت گردوں کے ایک بڑے نیٹ ورک پر قابو پایا جا چکا ہے، اور سری لنکا میں تیزی سے امن و امان کی فضا ہموار ہو رہی ہے، ساتھ ہی دونوں پڑوسی ممالک، یعنی ہندوستان اور سری لنکا ترقیاتی کاموں میں ایک دوسرے کا ہاتھ بٹا رہے ہیں، تو پھر مغربی ممالک کو اس میں رخنہ ڈالنے کی کوئی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ دوسری جانب ہندوستان کو بھی عالمی پیمانے پر اپنے خلاف ہونے والی اس قسم کی سازشوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔   g

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here