ہند پاک مذاکرات : چھوٹے قدم بڑھائے جا سکتے ہیں

سدھارتھ رائے
آج  بھی پاکستان تاریخ کے اس حادثہ، جسے ملک کی تقسیم کہتے ہیں، سے نکل نہیں پایا ہے۔پاکستانی سوچ آج بھی 1947 میں ہی پھنسی ہوئی ہے۔ پاکستان نے ہمیشہ ہندوستان کی مخالفت کو ہی اپنی زندگی کا نصب العین ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ پاکستان آج بھی ہندوستان کو ایک پڑوسی ملک کی طرح نہ دیکھ کر ہندو راشٹر کی طرح دیکھتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ پاکستان آج بھی اپنی مخالف ذہنیت سے نکل نہیں پایا ہے۔ در اصل، پاکستان خود کو ایک اسلامی ملک کی حیثیت سے دیکھتا ہے اور سیاسی اور نظریاتی سطح پر اپنے آپ کو پوری اسلامی دنیا کا لیڈر بتاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان ملکی نظام میں یقین رکھتے ہوئے بھی ایک ناکام ملک بن بیٹھا ہے۔ پاکستان نے کبھی بھی اپنے آپ کو ایک ملک کی شکل  میں نہ دیکھ کر اسلام کی تلوار سمجھا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس لحاظ سے پاکستان ہندوستا ن مخالفت پر ہی ٹِک سکتا ہے۔ویسے ہندوستان کی مخالفت کی بھی اپنی ایک سیاست ہے۔ جب ملک کا بٹوارہ ہوا تھا تو پاکستانی لیڈر یہ سمجھ گئے تھے کہ پاکستان کو ایک مضبوط ملک بنانے میں بہت ہی محنت کی ضرورت ہے، لیکن ایسا کوئی لیڈر نہیں تھا جو اس کام کو کر پاتا، چنانچہ ایک شارٹ کٹ تلاش کیا گیا ۔ یہ شارٹ کٹ تھا مذہب۔ پاکستان کے عوام کو بھی یہی سمجھایا گیا ہے کہ ہندوستان ہی ان کا سب سے بڑا دشمن ہے اورچونکہ عوام بہت پڑھے لکھے نہیںتھے لہٰذاانہوں نے مان بھی لیا۔ اسی مذہبی سخت گیری کی وجہ سے پاکستان میں آج تک جمہوریت اپنی جڑ نہیں جما پائی ہے اور گاہے بگاہے وہاں پر فوج ملک کی کمان اپنے ہاتھوں میں لے لیتی ہے۔اسی وجہ سے جمہوری طریقے سے منتخب حکومت جب بھی ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے تو عوام ہی فوج کو مدعو کرتے ہیں کہ وہ ملک کی کمان سنبھال لیں۔ ویسے فوج نے بھی آج تک ہندوستا ن کا جھوٹا نعرہ دے کر اپنے ہاتھ میں اقتدار کی کمان ہمیشہ رکھی ہے۔
ہندوستان نے شروع سے ہی پاکستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوششیں کیں، لیکن پاکستان کا رویہ ہمیشہ منفی رہا ہے اور اسی وجہ سے 1947 سے لے کر آج تک پاکستان نے کسی نہ کسی وجہ سے ہندوستان کو پریشان کرنے کے نئے نئے طریقے تلاش کیے ہیں۔پہلے قبائلی حملے، پھر کھلی جنگ اور پھر کارگل،پاکستان نے ہمیشہ ہی ہندوستان کی دوستی کا ہاتھ جھڑکا۔ پاکستان میں یہ نظریہ عام ہے کہ پاکستان ہندوستان کی مخالفت سے بہت آگے بڑھ سکتا ہے اور یہ ہندستان کی مخالفت اس کے لیے بہت ہی کارگر اور فائدہ مند ثابت ہوئی ہے۔ ویسے یہ سوچنا بھی ایک حدتک ٹھیک تھا ، کیونکہ ہندوستان کی مخالفت کی وجہ سے ہی پہلے امریکہ اور پھر چین کی دوستی پاکستان کی جھولی میں گری۔ پاکستان عالمی رشتوں کی سیاست خوب سمجھتا ہے جس کی وجہ سے اسے پتہ تھا کہ یہ دوستی صرف سمجھوتہ کی حد تک ہے، لیکن جب تک فائدہ ہو رہا ہے تب تک اسے توڑنے کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ اسی نظریے سے دہشت گردی  کے عفریت نے جنم لیا اور آج حالات یہ ہو گئے ہیں کہ صحیح معنی میں یہ دہشت گردی پاکستان کے لیے مصیبت بن چکی ہے۔ پاکستان نے افغانی طالبان کو پناہ دی اور امریکہ کی دوستی نبھائی لیکن کیا ہوا؟
امریکہ میں 9/11  کا حادثہ ہوا اورپاکستان کو دہشت گردوں سے دوستی نبھانے کے لیے امریکہ کے خلاف جاکر بھی انہیں پناہ دینی پڑی۔ویسے پاکستان نے کھیل بہت ہی ہوشیاری سے کھیلا، لیکن اسامہ کا پاکستان میں پاکستانیوں کو بتائے بغیر مارا جانا، پاکستان کی قلعی کھول گیا۔ پاکستان نہ چاہتے ہوئے بھی اس کھیل میں شریک ہے۔ اسامہ کے مارے جانے کے بعد پاکستان کی اپنی حالت ہی بد سے بدتر ہوئی ہے۔طالبان اور القاعدہ کے جنگجوئوں نے پاکستان سے اس کا بدلہ لینے کا اعلان کر دیا ہے، اور دیکھنے میں آیا ہے کہ آئے دن پاکستان میں بم دھماکے ہو رہے ہیں جس کی ذمہ داری القاعدہ لیتا ہے اور بتاتا ہے کہ پاکستان کی یہی سزا ہے۔ ایسے میں فوجی کمانڈر کیانی کی پریشانیاں بہت بڑھ گئی ہیں۔ کیانی نہ تو اپنے گھر میں ہی منہ دکھانے کے قابل رہے ہیں اور نہ ہی امریکہ کے ساتھ لین دین کا سودا کرنے کے اہل رہے ہیں۔ویسے امریکہ نے ابھی اپنے تیور بدل لیے ہیںاور پاکستان کو دی جانے والی امریکی مدد میں بھاری کٹوتی ہونے کے آثار ہیں، اسی وجہ سے کیانی اب چین کے سامنے ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں۔ ویسے یہ مدد چین سے انہیں مل تو جائے گی لیکن یہ بات بڑی تشویش کی ہے کہ چین نے اس کی فوری منظوری نہیں دی ہے۔ اس وجہ سے کیانی اور بھی بیک فٹ پر چلے گئے ہیں۔ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں اورجمہوری حکومت نے بھی اسامہ کے مدعے پر فوج پر نکیل کسنے کی کوشش کی ہے اور زرداری پورے منظر میں کیانی کے ساتھ نظر بھی نہیں آئے۔ زرداری کی بنی ان دوریوں نے یہ صاف کر دیا ہے کہ کیانی کو اپنے ذریعہ پھیلائی گئی دہشت گردی کو خود ہی بٹورنا پڑے گا اور اس میں وہ اکیلے ہیں۔ کیانی اس بات سے زرداری سے کافی خفا بھی ہیں۔
پاکستان میں تیزی سے بدلتے حالات پر نظر ڈالی جائے تو دیکھنے کو ملتا ہے کہ پاکستان کے افغان سرحد سے جڑے علاقوں میں قبائلیوں نے اپنی پکڑ اتنی مضبوط کر لی ہے کہ کیانی ان کا کچھ بگاڑ پانے کی حیثیت میں نہیں ہیں۔ یہ علاقے خاص کر قبائلی ہیں اور یہاں پاکستانی حکومت کا قانون نہیں چلتا ہے۔ امریکہ نے پاکستان کی مخالفت کے باوجود ان علاقوں میں اپنے ڈرون حملے جاری ہی نہیں رکھے ہیں بلکہ اور تیز کر دیے ہیں۔اس وجہ سے اب پاکستانی عوام کو بھی لگنے لگا ہے کہ کیانی کے ہاتھ سے سیاسی کمان نکل رہی ہے اور اسی وجہ سے اب عوام بھی کیانی کے خلاف کھڑے ہونے لگے ہیں۔ ایسے حالات میں نروپمارائو کی پاکستان دورے سے بہت کچھ امیدیں رکھنا لوجیکل نہیں لگتا ہے۔ ویسے نروپما کے اسلام آباد جانے سے پہلے بنے حالات پر نظر ڈالی جائے تو بات کم سے کم آگے بڑھتی تو دکھائی دے رہی ہے۔ ابھی حال ہی میں آئی این ایس گوداوری اور پی این ایس بابر کے درمیان ہوئی جھڑپ پر غور کریں، اگر یہی حادثہ پاکستان میں سب کچھ پہلے جیسا رہتے ہوئے ہوتا تو ہائے توبہ مچ گئی ہوتی ، لیکن پاکستان نے اس بات کو بہت طول نہیں دیا۔ ساتھ ہی اس بات چیت سے پہلے پاکستانی حکومت نے یہ صاف کہہ دیا کہ اس ملاقات میں دہشت گردی پر کوئی بات پاکستان نہیں کرے گا، لیکن فوراً ہی ہندوستانی وزارت خارجہ کا جواب آیا کہ ہندوستا ن 26/11 پر لازمی طور پر بات کرے گا۔ اگر یہی سب اس وقت  ہوا ہوتا جب پاکستان کے لیے سب ٹھیک چل رہا تھا تو، میڈیا کے توسط سے بات چیت سے پہلے ہی ماحول خراب ہو جاتا، لیکن ایسا بھی نہیں ہوا۔ یہ سب کم سے کم اس بات کی طرف تو اشارہ کرتا ہی ہے کہ ہندوستان کی مخالفت فی الحال پاکستان کی فہرست میں ایک نمبر پر نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندوستان اس بات چیت سے کم سے کم اتنا تو فائدہ اٹھا ہی سکتا ہے کہ بات تھوڑی بہت ہی سہی مگر آگے بڑھے۔
پاکستان ابھی اپنی الجھنوں میں ہی پھنسا ہوا ہے۔ پی این ایس مہران پر ہوا حملہ اسامہ کی موت کامنہ توڑ جواب کی طرح سے پیش کیا گیا ہے۔ کیانی اب بہت بھاری دبائو میں کام کر رہے ہیں۔ ویسے بھی امریکہ کے بدلے تیور دکھا رہے ہیں کہ امریکہ نے افغانستان میں اپنے طالبان مخالف جنگ کے منصوبوں سے پاکستان کو باہر نکالنے کی تیاری کر لی ہے۔ اگر ایسا نہیں ہوتا تو امریکہ الظواہری کو القاعدہ کا سربراہ  بنانے پر ایسا بیان کیوں دیتا کہ وہ اسامہ کی طرح ہی ظواہری کو مار گرائے گا اور اس بار بھی پاکستان کو اس بات کی اطلاع نہیں دی جائے گی۔ ساتھ ہی امریکہ نے اب افغانستان سے باہر نکلنے کا راستہ خود تلاش کرنا شروع کر دیا ہے جس میں پاکستان کے کردارکو کم سے کم رکھا گیا ہے۔ امریکہ نے افغانی طالبان سے بات چیت خود ہی شروع کر دی ہے جو کہ آج تک پاکستان کے واسطہ اور اس کی ثالثی سے ہوتی تھی۔
ظاہر ہے کہ ہندوستان سے مخالفت کیانی کے دماغ میں ابھی پہلے نمبر پر نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کیانی ہندوستان کے ساتھ تعلقات بہتر بنائیں تاکہ ان پر تھوڑا دبائو کم ہو۔ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ امیدوں کے بر خلاف کیانی ہندوستان کی مخالفت کو  انتہا پر لے جائیں تاکہ پاکستانی عوام اوربین الاقوامی گروہوں کا دماغ پاکستان کی کارستانیوں سے ہٹایا جاسکے۔ خیر جو بھی ہو، ہندوستان کی کامیابی یا ناکامی اس بات پر ٹکی ہوئی ہے کہ ہندوستان کس طرح اس وقت کو، جبکہ پاکستان بیک فٹ پر ہے، اپنے لیے استعمال کر سکتا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *