برطانوی پارلیمنٹ میں ہندوستان کا مذہبی تشدد بنا موضوع بحث

Share Article

protest

یکم مارچ 2018 کو برطانیہ کے پارلیمنٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کیا گیا کہ نریندر مودی کے ہندوستان میں ’’مذہب اور عقیدہ ‘‘کی آزادی خطرے میں ہے۔ اسکاٹش نیشنل پارٹی کے رکن پارلیمنٹ مارٹن ڈوکیرٹا – ہوجنہوں نے یہ ایشو اٹھایا، انہوں نے کہا کہ برطانیہ سرکار کو نریندر مودی کے سامنے یہ مسئلہ تب اٹھانا چاہئے جب وہ اپریل کے مہینے میں دولت مشترکہ ملکوں کے قومی سربراہان کی میٹنگ میں شامل ہونے کے لئے برطانیہ آئیں گے۔
یہ ایک اچھی خبر ہے کہ ہندوستان میں مذہبی اقلیتوں پر ہو رہے مظالم پر برطانیہ کی نیند کھلی۔ ہندو اکثریت کو بڑھاوا دینے کی سوچ کے ساتھ کام کر رہی سرکار پر ڈپلومیٹک دبائو بنانے کی ان کوششوں کا استقبال کیا جانا چاہئے۔ لیکن ہائوس آف کامنس کی کارروائی کی ٹرانسکرپٹ پڑھنے پر کچھ اور ہی پتہ چلتاہے۔ اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ غیر مغربی ملکوں میں ہورہے مذہبی مظالم پر برطانیہ کا رخ سامراج وادی سوچ کو ظاہر کرنے والا ہے۔

 

 

 

یوروپ کے جدید سامراج وادی پروپیگنڈہ کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں طے ہوتی کہ لوگ اسے کتنا قبول کرتے ہیں بلکہ اس کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتاہے کہ سامراج وادی نظریات کی بنیادی باتیں کتنی واضح ہیں۔ اس میں ایک چیز تو یہ ہے کہ یوروپ کی حصولیابیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتاہے۔ دوسرے سماجوں کی کامیابیوں کو اس کے مقابلے کم ناپا جاتا ہے۔ ویسٹ مینیسٹ ہال میں جو بحث ہوئی، وہ پوری طرح سے یوروپ پر مرتکز تھی۔ لیبر پارٹی کے رکن پارلیمنٹ فیبیان ہیملٹن نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا جمہوری ملک ہونے کے باوجود ہندوستان میں اس سطح پر مذہبی مظالم ہورہے ہیں، جس کی توقع بھی یوروپ میں نہیں کی جاسکتی ۔مغربی یوروپ کے مقابلے مذہبی آزادی یقینی کرنے کے معاملے میں ہندوستان کی صورت حال ٹھیک نہیں ہے۔

 

 

 

مذہبی آزادی پر چل رہی سامراج وادی چرچائوں کا نتیجہ واضح ہے۔ہائوس آف کامنس میں جو بحث ہوئی، اس سے یہی لگتا ہے کہ ہندوستان میں صرف عیسائیوں اور سکھوں پر مظالم ہورہے ہیں۔ مسلمانوں کے بارے میں ایک لفظ بھی نہیں بولا گیا، جبکہ ہندوتوا تشدد کے سب سے بڑے شکار ہی مسلم ہیں۔ آخر مسلمانوں کا چرچا کیوں نہیں ہوا؟اس کی ایک وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ برطانیہ یا پورے یوروپ میں مسلمانوں کو جس طرح کی آزادی اور اختیار دیئے گئے ہیں، اس کا مقابلہ وہ ہندوستان کے ساتھ نہیں کرنا چاہتے۔یہ اعتراف ہیملٹن کی تقریر میں بھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ پچھلے کچھ وقت میں برطانیہ میں مسلمانوں کے خلاف ہونے والے تشدد کے واقعات بڑھے ہیں۔کنجرویٹیو پارٹی کے رکن پارلیمنٹ ایڈورڈ لیگھ نے کہا کہ دنیا میں سب سے زیادہ مظالم عیسائیوں اور اقلیتی مسلمانوں نے جھیلا ہے۔ اقلیتی مسلمانوں پر غلبہ والے مسلمانوں نے کئی جگہوں پر مظالم کئے ہیں۔ پاکستان کے احمدیہ مسلم اس کی مثال ہیں۔ کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ جن ملکوں میں غیر مسلم زیادہ تعداد میں ہیں،وہاںمسلمانوں پر ان کے مذہب کی بنیاد پر مظالم نہیں ہوتے یا انہیں اس بات کے لئے نہیں ستایا جاتا کہ وہ اوروں سے الگ ہیں اور دہشت گردی سے بچنے کے لئے یہ کرنا ضروری ہے۔
ان سب کے باوجود اگر برطانیہ کی سرکار مودی کے سامنے مذہبی تشدد کا ایشو اٹھاتی ہے، تو یہ ٹھیک ہوگا،لیکن اس کا کوئی خاص امکان نہیں نظر آتا۔ایشیا اور پیسفک کے وزیر مارک فیلڈ نے کہا کہ مودی کے ساتھ میٹنگ میں ان کی سرکار کی طرف سے وہ اس بات کے لئے ہر ممکنہ کوشش کریں گے کہ پارلیمنٹ کی آواز سنی جائے۔ حالانکہ انہوں نے اپنے اتحادیوں کو یہ یاد دلایا کہ ڈپلومیٹک باتیں کئی بار کھلے میں نہیں، بلکہ بند دروازے کے پیچھے ہوتی ہیں۔

 

 

 

 

2015 میں جس طرح سے مودی کا استقبال کیا گیا تھا، اس سے صاف ہے کہ فیلڈ اپنے اتحادیوں کو پارلیمانی زبان میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اس معاملے میں بہت امید نہیں کی جانی چاہئے۔ یوروپین یونین سے نکلنے کے بعد سے برطانیہ ہندوستان کے ساتھ اپنے رشتے مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ خبروں کے مطابق نریندر مودی اور برطانیہ کی وزیر اعظم تھریسا مے کے بیچ میٹنگ ہونی ہے۔ اس میں کاروباری سمجھوتوں پر بات چیت ہونی ہے۔ ہندوستان میں ایک لوکل بزنس ہب بنانے پر بھی بات چل رہی ہے۔ اس کا امکان کم ہی ہے کہ برطانیہ اپنے یہاں آئے ہندوستان کے وزیر اعظم کو مذہبی تشدد کا ایشو اٹھا کر ناراض کرنا چاہے گا۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کر سکتا ہے کہ ہندوستان میں عیسائیوں اور سکھوں پر مظالم ہوئے ہیں۔ 1984 کے فسادات کے انصاف کا انتظار اب بھی سکھوں کو ہے اور اسی انتظار میں 2008 کندھ مال فساد کے متاثر عیسائی لوگ بھی ہیں۔ لیکن مذہبی تشدد کی مذمت سامراجی سوچ کے ساتھ کرنے کی ایک حد ہے۔ حال کے دنوں میں مسلمانوں نے کئی پرتشدد واقعات ہندوستان میں جھیلے ہیں۔ اس پر تشویش نہیں کرنا افسوسناک ہے ۔ہندوستان میں عیسائیوں پر مظالم اس لئے نہیں ہوتے کہ وہ بائبل پڑھتے ہیں بلکہ انہیں شکار اس لئے بنایا جاتا ہے کہ وہ دلت اور آدیواسی بھی ہیں۔ وہ انہی وسائل پر منحصر ہیں جن کے لئے دنیا بھر میں سرمایہ دار بھوکے ہیں۔ یہ نو سامراج واد دنیا بھر میں محروموں اور اقلیتوں کے استحصال کی وجہ بن رہا ہے۔ یہ ناممکن ہے کہ مذہبی تشددکو سامراج وادی چشمے سے دیکھا جائے۔

(بشکریہ اکانومک اینڈ پالٹیکل ویکلی)

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *