ہندوستان کی تقسیم اور اردو

Share Article

جسٹس مارکنڈے کاٹجو (چیئر مین ، پریس کونسل آف انڈیا)
انیس سو سیتلایس میں تقسیمِ ہند سے اردو کو سب سے بڑا نقصان پہنچا۔ اس وقت سے اردو کو غیر ملکی زبان کہا جانے لگا اور یہ کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے، یہاں تک کہ اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے اور اپنے ہندو بھائیوں کے ساتھ ہم آہنگی ثابت کرنے کے لیے خود مسلمانوں نے اردو پڑھنا چھوڑ دیا۔1947 کے بعد فارسی کے وہ الفاظ جو عام استعمال میں تھے، انہیں ہٹاکر ان کی جگہ سنسکرت کے الفاظ ڈال دیے گئے، جو عام لوگوں کی فہم سے باہر ہے، جیسے ’ضلع‘ کو بدل کر ’جن پد‘ کر دیا گیا۔ جب میں الٰہ آباد ہائی کورٹ میں ایک مقدمہ کی سنوائی کررہا تھا تو ایک درخواست میرے سامنے پیش کی گئی جس پر ’پرتیبھو آویدن پتر‘ لکھا تھا۔ میں نے فاضل وکیل سے دریافت کیا کہ ’پرتیبھو‘ کا کیا مطلب ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس کا مطلب درخواست ضمانت ہے۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ کو Bailیا ضمانت کے الفاظ استعمال کرنے چاہیے تھے، جسے ہر کوئی سمجھتا ہے نہ کہ ’پرتیبھو‘ جسے کوئی نہیں سمجھ سکتا، کھڑی بولی والا بھی نہیں سمجھ سکتا۔ ایک بار میں صبح کوچہل قدمی کررہا تھا تو میں نے ایک بورڈ دیکھا جس پر لکھا تھا ’پراورَن کیندر‘۔ میں اس کا مطلب نہیں سمجھ سکا۔ پھر میں نے آگے دیکھا جہاں انگریزی میں لکھا تھا Selection Centre ۔ میری رائے میں اس بورڈ پر ہندی میں ’’بھرتی دفتر‘‘ یا ’’روزگار دفتر‘‘ لکھا جانا چاہیے تھا نہ کہ ’پراوَرن کیندر‘ جسے کوئی نہیں سمجھتا۔
نفرت کی پالیسی کے تحت، کھڑی بولی سے فارسی  کے الفاظ جو عام استعمال میں تھے، کو ہٹا کر ان کی جگہ سنسکرت کے الفاظ، جو کہ عام استعمال میں نہیں تھے، کو داخل کرنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ عام ہندی غیر ضروری طور پر سنسکرت زدہ ہوگئی، جسے عام آدمی سمجھنے سے اکثر قاصر ہے۔ ہماری عدالتوں میں بعض نوٹیفکیشن میں استعمال کیے گئے ہندی کے الفاظ کو سمجھنے میں دشواری ہوتی ہے۔ فارسی الفاظ سے نفرت اردو کے لیے قریب قریب قتلِ عام ثابت ہوئی۔
ان تمام دشمنی کے باوجود وہ زبان جو دلوں کی آواز ہے، اس وقت تک ختم نہیں ہوسکتی جب تک لوگوں کے سینے میں دل ہے، اردو لوگوں کے دلوں میں بستی ہے، اس بات سے ثابت ہے کہ آج بھی مشاعرہ چاہے شمال، جنوب، مشرق یا مغرب میں ہو، سماج کے ہر طبقے کی بھیڑ حیرت انگیز طور پر دوڑی چلی آتی ہے۔ اگر اردو غیر ملکی زبان ہے تو یہ بات حیرت انگیز ہے کہ ہندوستان کے لوگ اسے اتنا کیوں چاہتے اور پیار کرتے ہیں؟
میں یہاں یہ بات واضح کرتا چلوں کہ یہ ایک غلط خیال ہے کہ سنسکرت ہندو مذہب کی زبان ہے (ٹھیک ویسے ہی جیسے اردو کے بارے میں یہ غلط مفروضہ ہے کہ اردو صرف مسلمانوں کی زبان ہے)۔ درحقیقت سنسکرت آزادانہ سوچنے والوں کی زبان ہے۔ سنسکرت زبان و ادب میں فلسفیانہ سوچ کا دائرہ حیرت انگیز حد تک وسیع ہے۔ خالصتاً مذہبی اور کلیتاً الحادی۔ ہندی کے عظیم قلم کار راہل سنسکر تائن کہا کرتے تھے کہ سنسکرت سیکھنے سے پہلے وہ بھگوان میں یقین کرتے تھے لیکن اسے سیکھنے کے بعد وہ ناستک ہوگئے۔ قدیم ہندوستان کے سائنسداں آریہ بھٹ، سشروت اور چرک وغیرہ نے سنسکرت میں لکھا۔ اسی طرح سے دوسرے قدیم فلسفی، ڈرامہ نگار اور شاعروں وغیرہ نے بھی سنسکرت میں ہی اپنا تخلیقی کارنامہ انجام دیا۔
جو لوگ اردو کی بقا اور فروغ چاہتے ہیں میری ان سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ وہ اکیلے نہ چلیں بلکہ اردو کو سنسکرت والوںسے جوڑیں۔ ایسا کرنے سے اردو پرایک خاص فرقہ کی زبان ہونے کی چھاپ نہیں لگے گی۔
میرا یہ بھی مشورہ ہے کہ اردو شاعری کی کتابوں میں دیوناگری رسم الخط کا بھی استعمال کیا جائے (جیسا کہ پرکاش پنڈت نے کیا ہے) کیونکہ ایسا کرنے سے ان لوگوں کو بھی ان شاعری کی کتابوں کو پڑھنے کا موقع ملے گا جو فارسی رسم الخط نہیں جانتے۔ میرے خیال میں رسم الخط کے بارے میں بہت زیادہ سخت نہیں ہوناچاہیے۔ (اردو فارسی رسم الخط میں لکھی جاتی ہے، عربی رسم الخط میں نہیں۔ عربی اور فارسی کے رسم الخط میں کچھ فرق ہے، لیکن یہاں اس کی تفصیل میں جانے کی چنداں ضرورت نہیں)۔
ہونا یہ چاہیے کہ بائیں کے صفحے پر فارسی رسم الخط میں مواد پیش کیا جائے اور دائیں والے صفحے پر دیوناگری رسم الخط میں اور ہر صفحہ کے آخر میں مشکل الفاظ کے معنیٰ آسان ہندی یا ہندوستانی زبان میں لکھ دیے جائیں۔
آخر میں اردو اور ہندی کے قلم کاروں سے گزارش کروں گا کہ وہ آسان اور سہل زبان استعمال کریں۔ اکثر اردو یا ہندی کی تخلیق سمجھنے میں بڑی دشو اری ہوتی ہے۔ جو کچھ لکھا گیا ہے اگر وہ سمجھ سے باہر ہے تو ایسے ادب سے کیا فائدہ؟ آج ہندوستانی عوام کو بیشمار مسائل جیسے غربت، بے روزگاری اور مہنگائی وغیرہ کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نبرد آزمائی میں ادب کو مدد کرنا چاہیے اور ایسا آسان زبان استعمال کرکے ہی کیا جاسکتا ہے، جسے گوناگوں مسائل سے الجھے عام لوگ سمجھ سکیں۔ بعینہ اسی طرح جس طرح دوسری عالمی جنگ کے اوقات میں ونسٹن چرچل کی تقریروں نے اثر کیا یا جس طرح پریم چند اور سرت چند کی کہانیوں نے عام آدمی کی ڈھارس بندھائی اور سماج پر جفا کشی، ایمانداری، ایثار و قربانی اور اعلیٰ انسانی اقدار کے اثرات مرتب کیے۔   g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *