ہندوستانی اقلیتوں کی سلامتی کی فکر اب امریکہ کرے گا

Share Article

ڈاکٹر قمر تبریز
ایسا لگتا ہے کہ اب بیرونی ممالک کی حکومتوں کو بھی ہندوستانی مسلمانوں کی حالت زارِ پر ترس آنے لگا ہے۔ شاید اسی لیے امریکی پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کرکے اس بات کی تجویز پیش کی گئی ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک سمیت ہندوستان میں بھی مذہبی اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو فروغ دینے کے مقصد سے  ایک خصوصی ایلچی کا تقرر کیا جائے۔ یہ بات اچانک امریکی حکمرانوں کے ذہن میں کیسے آئی، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے، کیوں کہ امریکہ اس بہانے سے کچھ اور کھیل تو نہیں کھیلنا چاہتا؟ اس کے علاوہ یہ امر بھی غور طلب ہے کہ، کیا ہندوستانی حکومت ملک کے اندر امریکہ کے کسی ایسے ایلچی کو اپنا کام کرنے کی اجازت دے گی جو یہاں کی مذہبی اقلیتوں کے معاملات میں دخل اندازی کرنے کی نیت رکھتا ہو؟
امریکہ کے خلوص پر ہم یوں اعتبار نہیں کرسکتے کہ ماضی میں ہم نے اکثر ایسا دیکھا ہے کہ اس نے دوسرے ملکوں میں جھانکنے اور پھر آہستہ آہستہ وہاں کے پورے ماحول کو تباہ و برباد کرنے میں ایک بڑا رول ادا کیا ہے، اور اس سے پہلے اس نے ہمیشہ ایسے ہی کسی نہ کسی حربے کی ایجاد کی ہے۔ آئیے پہلے اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آخر امریکہ کو متعدد ممالک میں وہاں کی اقلیتوں کی مذہبی آزادی کو فروغ دینے اور ان کی مجموعی صورت حال کی نگرانی کرنے کے لیے ایک ایلچی کو مقرر کرنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی؟ کیا امریکہ ان اقلیتوں کا واقعی خیر خواہ ہے یا پھر پس پردہ اُس کاکوئی اور ہی مقصد ہے؟
امریکہ کی خاص بات یہ ہے کہ وہ جب کسی ہدف کو پانا چاہتا ہے تو اس کے لیے مستحکم ،منظم اور مضبوط منصوبہ بندی کرتا ہے۔ایسی منصوبہ بندی جس پر ہمدردی کی حسین چادر چڑھا دی جاتی ہے،جس کو دیکھنے کے بعد بادی النظر میں ایسامحسوس ہوتا ہے کہ یقینا یہ چادر دھوپ کی تمازت سے حفاظت کے لیے ڈالی گئی ہے لیکن کم لوگ ہی اس حقیقت کو محسوس کرپاتے ہیں کہ اس حسین چادر کے نیچے خود غرضی، مفاد پرستی اور اقتدار پسندی چھپی ہوئی ہے۔اگر آج امریکہ  پوری دنیا کی اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کر رہا ہے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے اپنا ایلچی مقرر کرنا چاہتا ہے تو اس سے پہلے بھی جھوٹی ہمدردی کی آڑ میں وہ کئی ملکوںکو اپنا شکار بنا چکا ہے۔ وہاں کے لوگ شروعاتی مرحلے میں یہ سمجھتے رہے ہیں کہ امریکہ ان کا ہمدردہے، لیکن جب حقیقت سامنے آتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ اس ہمدردی کے پسِ پردہ  اس کا عفریتی عزم چھپا ہوا ہے۔اب تک یہی دیکھا گیا ہے کہ امریکہ جس ملک میں بھی اقلیت کے ساتھ ہمدردی کا اظہارکرتا ہے وہاں زبردست سیاسی اتھل پتھل پیدا ہوتی ہے، چنانچہ اسکندریہ، مصر میں جب وہاں کے اقلیتی فرقہ، عیسائیوں کی مذہبی عبادت گاہوںپر حملہ ہوا اور حالات بے قابو ہونے لگے تو امریکی صدر براک اوبامہ نے وہاں کی عیسائی برادری کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سخت لہجے میں حکومت مصر کی مذمت کی اور اقلیتوں کے ساتھ ہمدردی کے بول بولے۔ ان کی طرف سے ہمدردی کا یہ بیان یکم جنوری2011 کو آیا تھا اور پھر کچھ ماہ بعدزمانے نے دیکھا کہ وہاں کیسی سیاسی اتھل پتھل ہوئی کہ حکومت کا تختہ ہی پلٹ دیا گیا۔اسی طرح کچھ ماہ پہلے امریکہ نے ملک شام میں سنیوں کے ساتھ ہورہی ناانصافیوں کی طرف اشارہ کیا تھا ،پھر دیکھتے ہی دیکھتے بشار الاسد کے خلاف ایسی آندھی چلی کہ ان کا اقتدار ہی خطرے میں آگیا ہے۔ وہاں ان کے خلاف خونریز جنگ جاری ہے ،جس میں اب تک کئی لوگ اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔غرض اس طرح دیکھا جائے تو کئی ایسے ملک ہیں جہاں امریکہ نے اقلیتوں کی ہمدردی کے سہارے اپنا الو سیدھا کرنے کی کوشش کی ہے۔ اگر تاریخ کے صفحات پر ذرا پیچھے ہٹ کر دیکھیں تو سوڈان کا واقعہ ہمارے سامنے ہے، جہاں امریکی دخل اندازی کا سلسلہ پچھلی صدی کی ساتویں دہائی سے ہی شروع ہوچکا تھا۔وہاں بھی انہوں نے گڈریوں اور شمالی سوڈان میں بسنے والے قبائلیوں سے اقلیت میں رہنے والے عیسائیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے آواز بلند کی تھی ،جس کی وجہ سے انہیں جنوبی سوڈان میں جہاں عیسائیوں کی اکثریت تھی، کی زبردست حمایت ملی۔  امریکہ نے اس حمایت کا پورا پورا فائدہ اٹھایا اور انجام کار سوڈان کو دو حصوں میں تقسیم کرکے افریقہ کے سب سے بڑے ملک کے حصے بخرے کردیے گئے۔ لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ ہر ملک میں وہی طریقہ کار اپنائے جو مصر، شام یا سوڈان میں اپنایا بلکہ شاید اسے اب ایسا کرنے کی ضرورت ہی پیش نہ آئے، کیوں کہ ہر ملک میں اقلیت وہ طبقہ ہوتا ہے جن کی حکومت نہیں ہوتی ہے۔ اگر امریکہ ان کی ہمدردی حاصل کرلیتا ہے تو اس کے لیے حکومت کے خلاف آواز اٹھانے کی راہیں کھل جائیں گی۔اگر امریکہ اپنے اس مقصد میں کامیاب ہوجاتا ہے تو ایسی صورت میں شاید ہی کوئی ایسا ملک بچ سکے گا جہاں اس کی پکڑ مضبوط نہ ہو،بلکہ یوں کیا جائے تو بہتر ہوگا کہ کسی بھی ملک میں اتنی سکت نہیں ہوگی کہ امریکی اشاروں کے بغیر کوئی کام کرسکے ،خاص طور پر وہ ممالک جہاں نئی نئی حکومت بنی ہے یا جلد ہی بننے کے امکان ہیں، وہاں امریکہ کے لیے یہ نئی پالیسی سوہانِ روح ثابت ہوگی۔ چنانچہ عراق میں سنیوں کے ساتھ، جو اقلیت میں ہیں، لبنان میں مسیحیوں کے ساتھ، سعودی عرب میں شیعوں کے ساتھ ،ایران میں سنیوں کے ساتھ ہمدردی جتانا امریکہ کے بڑے کام آسکتا ہے۔ اس طرح امریکہ کے لیے دنیا کے ہر ملک میں اقلیتوں کے توسط سے وہاں کی حکومت کی گردن ناپنے کی راہیں آسان ہوجائیں گی، لہٰذا اسی مقصد کے لیے وہ اقلیت کی ہمدردی کی آڑ میں ہر جگہ اپنی پکڑ مضبوط بنائے رکھنا چاہتا ہے۔
امریکہ کے Twin Tower پر ہوئے حملے کو اگر ہم امریکہ کی مسلم مخالف ایک بڑی سازش مان لیں تو امریکہ اپنی اس سازش میں پوری طرح کامیاب رہا، اس نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے بارے میں ایک عام رائے بنا دی کہ جب بھی کسی مسلمان کو دیکھو، سب سے پہلے اس پر یہ شک کرو کہ وہ کہیں دہشت گرد تو نہیں ہے۔ اسی بہانے اس نے دنیا کے بعض خوش حال اور پر امن ممالک میں دخل اندازی کرکے وہاں کی حکومتوں کا تختہ پلٹ دیا اور دہشت گردی مخالف جنگ کے نام پر زبردستی ان پرمسلط ہوگیا، اپنی فوجیں وہاں تعینات کردیں اور اس طرح ان تمام ممالک میں بے گناہوں اور معصوموں کے قتل عام کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کردیا۔ عراق کے بارے میں بش اینڈ کمپنی نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ صدر صدام حسین نے بھاری تباہی والے ہتھیار جمع کر رکھے ہیں، جس سے اس خطہ کے تمام ممالک کو زبردست خطرہ درپیش ہے۔ پھر اسی پروپیگنڈے کے تحت صدام حسین کو معزول کرکے انہیں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ اس کے بعد بش نے اپنے سابق دوست اور رازدار اسامہ بن لادن کا پیچھا کرتے ہوئے اپنی فوج کو افغانستان اور پاکستان میں اتار دیا، اسامہ کو اب جاکر قتل تو کردیا گیا، لیکن اسامہ کے نام پر کتنے بے گناہوں کے خون سے ہولیاں کھیلی گئی ہیں، ان کا حساب دینے والا اب تک کوئی نہیں ہے۔
بش کے بعد جب اوبامہ امریکہ کے نئے صدر بنے تو انہیں ایسا محسوس ہوا کہ امریکہ نے پوری دنیا کے مسلمانوں کے خلاف نفرت کی جو آندھی چلائی تھی، اس سے پوری دنیا میں اب خود امریکہ کے خلاف لوگوں کا غم و غصہ بڑھتا جا رہا ہے، اور متعدد ممالک میں دہشت گردی مخالف جنگ کے نام پر امریکی فوجیوں کی تعیناتی کو لوگ اُن تمام ممالک میں امریکہ کی مداخلت بے جا تصور کر رہے ہیں۔ لہٰذا اوبامہ صاحب نے صدر کے عہدہ پر براجمان ہوتے ہی یہ اعلان کردیا کہ وہ مسلم ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات کو بہتر کرنا چاہتے ہیں، یعنی ان سے پہلے کے صدر نے جانے انجانے جو غلطیاں کردی تھیں، اوبامہ صاحب اس کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں۔
امریکی پارلیمنٹ میں اقلیتوں کے تعلق سے پیش کی گئی قرارداد نمبر 440 کا ظاہری مقصد بھی کچھ یہی لگتا ہے۔ اس خبر کو سنتے ہی دنیا کے مختلف ممالک کی اقلیتوں کے درمیان بادی النظر میں تو یہی پیغام گیا ہے کہ دنیا کی یہ اقلیتیں جو اب تک اُن ممالک کی اکثریتوں کے ہاتھوں ظلم و تشدد کا شکار ہوتی رہی ہیں، اب ان کی تکلیفوں اور پریشانیوں کے دن ختم ہونے والے ہیں، کیوں کہ اب امریکہ بہادر ان کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے ان ممالک میں اپنا ایک ایلچی مقرر کرنے جا رہا ہے۔ لیکن گہرائی سے مطالعہ کرنے پر یہ احساس ہوتا ہے کہ شاید اس معاملہ میں بھی امریکہ کی نیت صاف نہیں ہے، بلکہ وہ دنیا کی اقلیتوں کے خلاف ایک بار پھر ویسی ہی کوئی بڑی سازش کرنے جا رہا ہے، جیسا کہ اس نے 9/11 کی شکل میں مسلمانوں کے خلاف کی تھی۔ ایسا لگتا ہے کہ مستقبل میں وہ ان تمام ممالک میں کوئی بڑا کھیل کھیلنے کی تیاری کر رہا ہے۔
دنیا کے مختلف ممالک میں وہاں کی اقلیتوں کی زبوں حالی کے بارے میں بھلے ہی الگ الگ تاویلیں پیش کی جاتی رہی ہوں، لیکن اس سے انکار کی بالکل گنجائش نہیں ہے کہ کسی بھی ملک میں وہاں کی اقلیتیں پوری طرح محفوظ نہیں ہیں۔ ان کی  ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ انہیں اپنے ملک کی اکثریتوں کے ہاتھوں ظلم و تشدد اور استحصال کا شکار ہونا پڑ ا ہے۔ ہندوستان کے مسلمانوں کی، جو یہاں کی سب سے بڑی اقلیت ہیں، ہمیشہ یہ شکایت رہی ہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے اب تک انہیں اکثریتی طبقہ کے ہاتھوں متعدد مظالم کا شکار ہونا پڑا ہے، جیسے ان پر ہمیشہ یہ الزام لگایا جاتا رہا ہے کہ وہ ملک کے تئیں وفادار نہیں ہیں اور انہی کی وجہ سے ملک کے دو ٹکڑے ہوئے۔ اسی طرح گزشتہ کچھ دنوں سے، بلکہ یہ کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا کہ 9/11 کے واقعہ کے بعد سے ہی، ہندوستانی مسلمانوں کو بھی اکثریتی فرقہ کی طرف سے دہشت گرد ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے، جس میں پوری حکومتی مشینری بھی شامل ہے۔ یہی حال دنیا کے تقریباً ہر ملک کا رہا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ امریکہ کو اسی میں امید کی کوئی نئی کرن دکھائی دے رہی ہو، اور وہ یہ سوچ رہا ہو کہ اگر ہم نے ان ممالک میں اقلیتوں کے تحفظ اور ان کی سلامتی کی بات کی، تو آنے والے دنوں میں امریکہ ان کے توسط سے اپنا بہت سارا کام کرا سکتا ہے۔
امریکہ نے مذہبی اقلیتوں کی مذہبی آزادی کے فروغ کے لیے دنیا کے جن ممالک کا انتخاب کیا ہے، انہیں دو خانوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے : پہلا مشرق قریب، جس میں الجیریا، بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، اُردن، کویت، لبنان، لیبیا، مراقش، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، تیونیشیا، متحدہ عرب امارات اور یمن کو رکھا گیا ہے؛ جب کہ دوسرے خانہ یعنی جنوب وسطی ایشیا کے جن ممالک کو شامل کیا گیا ہے، ان کے نام ہیں : افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، ہندوستان، قرغستان، قزاغستان، مالدیپ، نیپال، پاکستان، سری لنکا، تاجکستان، ترکمانستان اور از بیکستان۔
پہلا سوال تو یہی اٹھتا ہے کہ آخر امریکہ کو صرف انہی ممالک کی مذہبی اقلیتوں کی پرواہ کیوں ہے اور بقیہ ممالک کی اقلیتیں اس کے لیے کوئی معنی کیوں نہیں رکھتیں؟ اس سوال پر غور کرنے سے تو یہی لگتا ہے کہ ان ممالک سے امریکہ کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور جڑا ہوا ہے۔ موٹے طور پر اگر دیکھا جائے تو مشرق قریب کے تحت امریکہ نے جن ممالک کا انتخاب کیا ہے ان میں سے بیشتر ممالک اس وقت عوامی انقلاب کی صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ ان ممالک میں یا تو انقلاب برپا ہو چکا ہے یا پھر انہیں زبردست عوامی احتجاج کا سامنا ہے۔ اس کے علاوہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ان ممالک میں عوامی احتجاج کی چنگاری کو سلگانے میں کہیں نہ کہیں امریکہ کا ہی ہاتھ رہا ہے۔ ان میں سے ہر ملک کے ماضی پر اگر غور کریں تو اس کے حکمرانوں کا امریکہ سے کسی نہ کسی بات کو لے کر ضرور کوئی بگاڑ پیدا ہوا جس کی وجہ سے امریکہ نے انہیں سبق سکھانے کا خفیہ طریقے سے ارادہ کر لیا، یہی وجہ ہے ان ممالک کے حکمرانوں کو آج کایہ دن دیکھنا پڑ رہا ہے، چاہے وہ مصر کے حسنی مبارک ہوں یا لیبیا کے معمر قذافی، سب اسی صورت حال سے گزرے ہیں، اور باقی جو بچے ہیں، ان کا بھی حشر کچھ ایسا ہی ہونے والا ہے۔
اس نظریے سے دیکھیں تو امریکہ نے جنوب وسطی ایشیا کے جن ممالک کا انتخاب کیا ہے، اُن میں بھلے ہی کسی بڑے انقلاب کی آہٹ سنائی نہیں دیتی، تاہم ان ممالک میں بھی حکمراں جماعتوں کے خلاف عوام کے درمیان زبردست غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ ان ممالک میں یا تو کسی بڑے طوفان کے تھمنے کے بعد اس وقت ایک بڑی خاموشی چھائی ہوئی ہے یا پھر ان میں سے چند ممالک میں عوامی احتجاج کی چنگاری اندر ہی اندر کہیں نہ کہیں ضرور سلگ رہی ہے جو کبھی بھی ایک بڑے آتش فشاں کا روپ اختیار کر سکتی ہے۔ سری لنکا کو ہی لے لیجئے، وہاں پر ایل ٹی ٹی ای کے خاتمہ کے بعد آج کل اکثریتی طبقہ سنہلی اور اقلیتی طبقہ تملوں کے درمیان زبردست رسہ کشی چل رہی ہے؛ اسی طرح نیپال میں شاہی حکومت کے خاتمہ کے بعد وہاں کے ماؤ نواز لیڈر اور ان کے کیڈر خود کو قومی دھارے میں شامل کرنے کی جی توڑ کوششیں کر رہے ہیں؛ افغانستان اور پاکستان دونوں ممالک میں امریکہ کے خلاف عوام میں زبردست غم و غصہ ہے، لہٰذا وہاں کے مستقبل کے بارے میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا؛ بنگلہ دیش، بھوٹان اور مالدیپ کا بھی سیاسی منظر نامہ کچھ ایسا ہے ۔ قزاقستان، ترکمانستان اور  ہندوستان کی حالت ہم دیکھ ہی رہے ہیں کہ یہاں کے مسلمان اپنے اوپر سے دہشت گردی کے داغ کو مٹانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں، وہیں یو پی اے حکومت کے ذریعے تشکیل کردہ جسٹس راجندر سچر کی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد تمام سیکولر حلقوں سے اس بات کا پرزور مطالبہ کیا جارہا ہے کہ مسلمانوں کو تعلیمی اور معاشی پس ماندگی کے غار سے باہر نکالا جائے۔ اس کے علاوہ ماضی قریب میں ملک کی مختلف ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات سے ایک بات یہ ابھر کر سامنے آئی ہے کہ مسلمانوں نے جس پارٹی کی مکمل حمایت کی ہے، وہ پارٹی وہاں کے اقتدار پر قابض ہوئی ہے۔ اس لیے سیاسی اعتبار سے بھی ہندوستانی مسلمانوں کو اب اہمیت کا حامل سمجھا جانے لگا ہے۔ ایسے میں امریکہ کی طرف سے بھی اگر یہاں کی سب سے بڑی اقلیت کو رجھانے کی کوشش کی جاتی ہے، ان کے حق میں بات کرکے ان کی ہمدردی حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے، تو یہ آنے والے دنوں میں اس خطہ میں امریکی مفادات کو آگے بڑھانے میں بہت حد تک کارآمد ہو سکتا ہے۔
لہٰذا امریکی ایوان میں اس قرار داد کے تحت جس بل کو بنانے کی بات کی جا رہی ہے، اس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کا یہ خصوصی ایلچی اِن ممالک میں اگر کہیں پر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو اس کی نہ صرف سخت مذمت کرے گا بلکہ امریکی حکومت کو اس کی اطلاع دے کر اس سے یہ مشورہ لے گا کہ اس کا کیا جواب دیا جائے یا پھر اقلیتوں کے ان حقوق کو کیسے بحال کیا جائے۔ وہ اپنے کاموں کو بحسن و خوبی انجام دینے کے لیے غیر ملکی حکومتوں، بین حکومتی تنظیموں، اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسیوں، یوروپ کی سیکورٹی اور تعاون سے متعلق تنظیم اور اقوام متحدہ سے وابستہ دیگر بین الاقوامی تنظیموں سے رابطہ بنانے کے لیے آزاد ہوگا۔ اس خصوصی ایلچی کا زور اس بات پر بھی ہوگا کہ وہ مذہبی اقلیتوں کی مالی اور سیکورٹی سے متعلق ضروریات کو پورا کروانے میں اپنا بھرپور تعاون دے۔ یہ خصوصی ایلچی اپنے کاموں کے لیے امریکی صدر اور وزیر خارجہ کو براہِ راست جوابدہ ہوگا۔ اپنے کام کو انجام دینے کے لیے اس خصوصی ایلچی کو ہر سال 10 لاکھ امریکی ڈالر کی رقم فراہم کی جائے گی تاکہ وہ اپنے اسٹاف کی تنخواہیں ادا کرسکے، تفتیشی کارروائی کر سکے، اور ضرورت پڑنے پر سفر وغیرہ کر سکے۔ امریکی صدر کے ذریعہ مذہبی اقلیتوں کی مذہبی آزادی پر نگرانی رکھنے کے لیے خصوصی ایلچی کسی ایسے شخص کو مقرر کیا جائے گا جو سفیر کے عہدہ پر فائز رہ چکا ہو اور جو حقوق انسانی کے ماہر کے طور پر اپنی شناخت رکھتا ہو۔
ظاہر ہے کہ 10 لاکھ امریکی ڈالر کی سالانہ رقم کوئی کم رقم نہیں ہوتی۔ اس کے علاوہ اس خصوصی ایلچی کو اس بات کی پوری آزادی حاصل ہے کہ وہ اپنے کام کو انجام دینے کے لیے اقوام متحدہ سے وابستہ تمام بین الاقوامی تنظیموں سے رابطہ کر سکتا ہے اور ساتھ ہی مشرق قریب اور جنوب وسطی ایشیا کے بین حکومتی اداروں سے بھی رابطہ کر سکتا ہے، اگر اسے ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ اسے ان ممالک میں اقلیتوں پر ہونے والے مظالم سے متعلق تفتیش کرنی چاہیے، تو وہ اس کے لیے نہ صرف اس ملک کی متعدد تنظیموں سے رابطہ کرنے کے لیے آزاد ہوگا بلکہ وہ وہاں کی سرکاری تنظیموں سے بھی اس سلسلے میں مدد حاصل کر سکتا ہے۔
لیکن کیا ہماری حکومت امریکہ کے اس خصوصی ایلچی کو ہمارے ملک کی اقلیتوں کے جذبات کا غلط استعمال کرنے کی اور ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرنے کی اجازت دے گی؟ماضی میں ہمارے سیاست داں اور ملک کی باگ ڈور سنبھالنے والے حکمراں جس طرح سے امریکی قائدین کے سامنے اپنی پلکیں بچھاتے رہے ہیں، اس سے تو یہ ہرگز نہیں لگتا کہ وہ امریکہ کے اس خصوصی ایلچی کے تعلق سے اپنا اعتراض جتائیں گے یا پھر ملکی مفادات کے حوالے سے اپنے تحفظات کا ذکر کرتے ہوئے اس سے یہ کہنے کی جرأت کر سکیں گے کہ ہم ایسے ایلچی کو اپنے ملک کی اقلیتوں کے معاملوں پر نظر رکھنے اور پھر اس میں مداخلت کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ ہندوستان ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ امریکہ کی طرح ہی ہمارے یہاں بھی ایک جمہوری نظام ہے، مقننہ اور عدلیہ ہے۔ ملک کی حکومت کو یہ معلوم ہے کہ اسے کون سا کام کیسے کرنا ہے، اگر اس سے کسی سطح پر کوتاہی ہوتی ہے، ملک کی عدالت عظمیٰ وقت وقت پر اس کی سرزنش اور تادیبی کارروائی بھی کرتی رہتی ہے۔ ایسے میں ہندوستان کی اقلیتوں یا بالفاظِ دیگر مسلمانوں اور عیسائیوں کو کوئی مسئلہ درپیش ہے، تو ایسے میں امریکہ کون ہوتا ہے ان کے مسائل کو حل کرلینے والا؟ یہ تو سیدھے سیدھے ہمارے جمہوری نظام پر سوالیہ نشان لگانے جیسا ہوجائے گا۔ g

Share Article

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *